زمبابوے: فوج کے نشانے پر مجرم ہیں موگابے نہیں‘

زمبابوے کی فوج نے قومی نشریاتی ادارے زیڈ بی سی پر قبضے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے مجرموں کو نشانہ بنانے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فوج کا حکومت پر قابض ہونا نہیں ہے اور صدر رابرٹ موگابے محفوظ ہیں۔
دارالحکومت ہرارے کے شمالی علاقوں میں بدھ کی صبح شدید گولہ باری اور توپ داغنے کی آوازایں سنائی دیں۔

جنوبی افریقہ کے لیے زمبابوے کے ایلچی آئیزک مویو نے اس سے قبل فوجی بغاوت کی بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ‘ثابت و سالم’ ہے۔
زمبابوے میں برسرِاقتدار جماعت نے حال ہی میں ملک کے فوجی سربراہ پر ’بغاوت آمیز‘ رویے کا الزام لگایا تھا جب انھوں نے ملکی سیاست میں فوجی مداخلت پر تنبیہ کی تھی۔
فوجی سربراہ جنرل کونسٹاٹینو چیونگا نے ملک کے صدر رابرٹ موگابے کے خلاف چیلیج اس وقت کیا ہے جب صدر نے ملک کے نائب صدر کو عہدے سے فارغ کر دیا تھا۔
جنرل چیونگا کا کہنا تھا کہ فوج صدر موگابے کی جماعت میں برطرفیوں کو روکنے کے لیے تیار ہے۔
فوج نے زیڈ بی سی کے ہیڈکوارٹر پر قبضے کے کئی گھنٹوں کے بعد ایک بیان جاری کیا۔ فوجی وردی میں ایک شخص نے کہا: ‘ہم یقین دہانی کرانا چاہتے ہیں عالی جاہ صدر ۔۔۔ اور ان کے اہل خانہ محفوظ اور ٹھیک ہیں اور ان کی سکیورٹی کی ضمانت ہے۔’

بیان میں مزید کہا گيا: ‘ہم لوگ صرف ان کے آس پاس پھیلے مجرموں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو جرم کر رہے ہیں۔۔۔ اور یہ ملک میں سماجی اور معاشی پریشانیوں کا سبب ہیں۔ جوں ہی ہمارا مشن پورا ہو جائے گا ہمیں امید ہے کہ حالات معمول پر آ جائيں گے۔’

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کون اس فوجی سرگرمی کی قیادت کر رہا ہے۔
سیاسی کشیدگی میں اس وقت بھی اضافہ دیکھا گیا جب منگل کے روز ہرارے میں بکتر بند گاڑیوں نے پوزیشن سنبھال لی تاہم اس کی وجہ ظاہر نہیں کی گئی۔
روئٹرز کا کہنا ہے کہ زیڈ بی سی کے عملے کو فوجیوں نے دھکے دیے اور ادارے کا صدر دفتر سنبھال لیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے عملے سے کہا کہ وہ پریشان نہ ہوں اور فوجی وہاں صرف ادارے کی حفاظت کے لیے آئے تھے۔
امریکی دفترِ خارجہ نے ملک میں تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز سے کہا ہے کہ وہ اپنے اختلافات پرامن انداز میں حل کریں اور یہ کہ وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کون اس فوجی سرگرمی کی قیادت کر رہا ہے۔