ٹرمپ کو ایٹمی حملے کا اختیار ہونا چاہیے؟ سینیٹ میں بحث

40 سے زائد برسوں میں پہلی مرتبہ امریکی کانگریس امریکی صدر کے جوہری حملہ کرنے کے اختیار کی جانچ پڑتال کر رہی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے اجلاس کو ‘جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا حکم دینے کا اختیار’ کا نام دیا گیا۔
اس پینل کے چیئرمین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر گذشتہ ماہ امریکہ کو ’جنگِ عظیم سوم کی جانب‘ لے جانے کا الزام لگایا تھا۔

اگست میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا نے اپنے جوہری پروگرام کو وسعت دینا بند نہیں کیا تو وہ شمالی کوریا پر ایسا ‘غیظ و غضب’ ڈھانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو دنیا نے کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔
آخری بار کانگریس نے مارچ 1976 میں اس موضوع پر چار اجلاسوں کے دوران بحث کی تھی۔
کنیٹیکٹ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے منگل کو ہونے والی سماعت کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ’ہمیں اندیشہ ہے کہ صدر غیر مستحکم ہیں، ان کا فیصلے کرنے کا عمل بہت خیالی ہے، وہ جوہری ہتھیاروں سے حملہ کرنے کا حکم دے سکتے ہیں جو کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے مفاد کے برعکس ہو۔‘

سینیٹرز یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ اگر صدر نے جوہری حملے کا حکم دے دیا تو کیا ہو گا۔
امریکی سٹرٹیجک کمانڈ کے سابق کمانڈر رابرٹ کیہلر کا کہنا ہے کہ ماٰضی میں اگر ان کے دور کے دوران وہ صدر کے حملہ کرنے کے احکامات ملتے، اور اگر وہ قانونی ہوتے تو وہ ان پر عمل کرتے۔
کیہلر کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس حکم کی قانونی حیثیت کے بارے میں ابہام کا شکار ہوتے تو وہ اپنے مشیروں سے رابطہ کرتے۔
انہوں نے بتایا کہ مخصوص حالات میں ‘میں کہہ سکتا تھا کہ میں عمل درآمد کے لیے تیار نہیں ہوں۔’
وسکونسن سے تعلق رکھنے والے ایک اور رپبلکن سینیٹر رون جانسن نے پوچھا ‘پھر کیا ہوتا ہے؟’
کیہلر نے تسلیم کیا کہ انھیں نہیں معلوم۔
کمرے میں موجود لوگ ہنسنے لگتے ہیں۔ لیکن بی بی سی کی تارا میک کیلوی بھی سماعت میں موجود تھیں انھوں نے بتایا کہ وہ پریشان کن ہنسی تھی۔
ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام میں کسی سے کو اس سماعت کے دوران جواب دہی کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔
لیکن حملہ کرنے کے انتہائی خفیہ عمل کے بارے میں ایسے عوامی فورم پر کوئی فیصلہ کرنا مشکل ہے۔
اس سماعت کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا جا رہا ہے، صرف موضوع کی حساسیت کی وجہ سے نہیں بلکہ پینل میں موجود صدر ٹرمپ کے چند ناقدین بھی اس کی وجہ ہیں جن میں سے چند کا تعلق صدر کی ریپبلیکن پارٹی سے ہی ہے۔

کمیٹی کے سربراہ سینیٹر باب کورکر کی گذشتہ ماہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ٹوئٹر پر بحث ہو گئی تھی جس میں وائٹ ہاؤس کو ‘بالغ شخص کی دیکھ بھال کا سینٹر’ کہا گیا تھا۔
پینل میں شریک ایک اور سینیٹر نے اس قانون کا مسودہ تیار کیا ہے جس میں صدر کے جوہری حملے کا حکم دینے کے اختیار کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
میسیچوسیٹس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈورڈ مارکی کے بل کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلے جوہری حملہ کرنے سے قبل کانگریس سے جنگ شروع کرنے کی اجازت حاصل کرنی ہوگی۔
ایک کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے، صدر کے پاس جوہری حملے کے حکم دینے کا مکمل اختیار ہے، جو کہ آبدوز، ہوائی جہاز یا بین الابراعظمی بیلیسٹک میزائیلوں کے ذریعے کیے جا سکتے ہیں۔
موجودہ قوانین کے تحت امریکی صدر ‘دا فٹبال’ نامی آلے میں کوڈز ڈال کر بھی جوہری حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔ یہ آلہ ہر جگہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔
صدر ٹرمپ کو اس معاملے میں کسی سے مشورہ کرنے یا کسی حکومتی ممبر کی رضامندی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
ان کے اعلیٰ مشیران جن میں سیکریٹری دفاع جیمز میٹس، سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن یا قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل میک ماسٹر میں سے کسی کا چین آف کمانڈ میں کوئی کردار نہیں ہے۔
البتہ روایتی فوجی قوت کے استعمال کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہے۔
لیکن جوہری طاقت کا استعمال جوہری عہد کے آغاز سے ہی صدر کا اختیار رہا ہے۔ اس وجہ یہ ہے کہ دنیا کے ایک کونے سے داغا جانے والا دشمن کا بیلسٹک میزائل امریکا کو صرف آدھے گھنٹے میں نشانہ بنا سکتا ہے۔