لاہور ہائی کورٹ ماحولیاتی پالیسی کی نگرانی کرے گی

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قائم لاہور ہائیکورٹ میں سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تناظر میں مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس منصور علی شاہ نے محکمہ ماحولیات کو ہدایت کی ہے کہ ایئر کوالٹی مانیٹرنگ ڈیٹا روزانہ کی بنیاد پر ویب سائٹ پر ڈالا جائے۔

منگل کو سماعت شیراز ذکا ایڈوکیٹ کی جانب سے جمع کرائی جانے والی درخواست پر کی گئی تھی۔ جس کے دوران چیف جسٹسں منصور علی شاہ نے کہا کہ اس حوالے سے حکم بدھ کو جاری کیا جائے گا۔
عدالت کے حکم پر صوبائی محکمہ ماحولیات نے قلیل مدتی اقدامات کی تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

نامہ نگار حنا سعید کے مطابق محکمہ ماحولیات نے بتایا کہ اگر پی ایم کی سطح دو عشاریہ پانچ یعنی ایئر کوالٹی انڈیکس 200 سے 300 ہوا تو انڈسٹریل یونٹس بند ہو جائیں گے۔
اسی سطح کے 300 سے 400 ہونے پر پرائمری سکول بند ہوں گے اور تعمیراتی کام بھی روک دیا جائے گا۔
پی ایم کی سطح 400 سے 500 ہونے پر تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے جائیں گے اور سب کو گھروں میں رہنے کے لیے کہا جائے گا، اور پارک بھی بند ہوں گے۔ اس دوران چہرے پر ماسک پہننا بھی ضروری ہو گا۔
اگر یہ حد سے تجاوز کر جائے یعنی یہ سطح 500 سے اوپر ہونے پر میڈیکل ایمرجنسی لگ جائے گی اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔
عدالت میں منگل کو محکمہ موسمیات، صحت، تعلیم اور ماحولیات کے نمائندے بھی پیش ہوئے۔
چیف جسٹس نے کیس کی سماعت کے دوران بارش سے پہلے ریمارکس میں کہا کہ پی ایم لیول 300 اگر ہو تو ہنگامی حالت نافذ ہونی چاہیے۔
محکمہ ماحولیات سے استفسار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے وہ اقدامات بتائیں جو لیول بڑھنے پر خودبخود ہو جائیں گے۔
اس پر سیکریٹری ماحولیات نے عدالت کو بتایا کہ کمیٹی بنا لی ہے۔ سب سے پہلے ایڈوائزری جاری کریں گے۔
چیف جسٹسں نے کہا کہ ہم بنائی گئی پالیسی کو وقتاً فوقتاً مانیٹر کریں گے۔