آٹھ ہزار سال پرانے مرتبان میں دنیا کی قدیم ترین شراب کی دریافت

شراب کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ یہ انسانی تہذیب و تمدن کے ابتدائی دور سے موجود ہے۔
سائنس دانوں کو جارجیا میں ایسے شواہد ملے ہیں جن سے اس خیال کی تصدیق ہوتی ہے۔
انھیں مشرقی یورپ کے اس ملک میں آٹھ ہزار سال قبل کے مٹی کے مرتبان اور ان میں انگور بنائے جانے کے نشانات ملے جن کے بارے میں محققین کی رائے ہے کہ یہ انگور سے شراب بنانے کے قدیم ترین شواہد ہو سکتے ہیں۔

یہ آثار جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی کے جنوبی علاقوں میں دو مقامات پر ملے ہیں۔
٭

٭

٭

اس سے قبل ان مقامات سے جدید پتھر کے عہد کے آثار ملتے رہے ہیں۔
ان مرتبانوں میں شراب کی باقیات بھی ملی ہیں جبکہ بعض مرتبانوں پر انگور کے خوشے اور رقص کرتے ہوئے ایک شخص کی تصویر بھی پائی گئی ہے۔
جارجیا میں ملنے والی ان چیزوں کے بارے میں پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔
کینیڈا کی ٹورنٹو یونیورسٹی کے ایک سینیئر محقق اور اس تحقیق کے معاون مصنف سٹیون باٹیوک کہتے ہیں: ‘ہمارا خیال ہے کہ یہ جنگلی یوریشیائی انگور سے شراب بنانے کی اولین مثال ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ مغربی تہذیب میں شراب کا خاص مقام رہا ہے۔ یہ دوا کے طور پر، سماجی میل جول کے لیے، دل بہلانے کے لیے اور سماج اور معیشت کے مرکز میں رہی ہے۔‘

اس سے قبل شراب کے قدیم ترین شواہد ایران سے ملے تھے اور وہاں ملنے والے شراب کے ظروف کی عمر سات ہزار سال بتائی گئی تھی۔
سنہ 2011 میں آرمینیا کے غاروں میں چھ ہزار سال پرانی شراب کے آثار ملے تھے۔
بغیر انگور کے تیار کی جانے والی دنیا کی قدیم ترین شراب کی باقیات چین سے ملے ہیں اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چاول، شہد اور پھلوں سے تیار کی گئی تھی۔