بھائی جان موبائل توڑ دیں گے ویڈیو نہ بنائیں‘

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کو جڑواں شہر راولپنڈی بلکہ دیگر شہروں سے ملانے والی مرکزی شاہراہ اسلام آباد ایکسپریس وے پر فیض آباد انٹرچیج کے مقام پر گذشتہ ایک ہفتے سے جاری مظاہرے کے دوران ٹریفک کے ساتھ ساتھ موبائل سگنلز اور موبائل کیمرے کا استعمال بھی بند ہے۔

اسلام آباد ایکسپریس وے 10 لین کی مرکزی شاہراہ ہے جسے منگل کے روز ڈنڈا بردار نوجوانوں نے ایک قطار میں کھڑے ہوکر مکمل طور پر بند کیا ہوا تھا اور وہ ‘لبیک یا رسول اللہ’ کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہی صورتحال فیض آباد انٹر چینج کی طرف آنے والے دیگر راستوں کی بھی تھی۔

ایکسپریس وے پر فیض آباد کے علاقے میں ٹریفک احتجاج کی وجہ سے اور موبائل سگنلز سیکیورٹی اداروں کی منطق کی وجہ سے بند ہیں لیکن یہاں موبائل کیمرے کا استعمال اس لیے بند ہے کہ وہ مظاہرین کی منفی تصویر کشی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

جب ان مظاہرین کی کوریج کے غرض سے میں نے موبائل جیب سے نکالا اور ویڈیو بنانی شروع کی تو ایک نوجوان عدنان (فرضی نام) میرے پاس آیا اور کہا ‘بھائی جان موبائل توڑ دیں گے ویڈیو نہ بنائیں’۔
عدنان نے بتایا کہ وہ بھی احتجاج کرنے والوں کی وجہ سے پریشان تھا اور ان کی ویڈیو بنا رہا تھا کہ چند مظاہرین نے انھیں گھیر لیا اور دھکے دینے کے بعد ان کا موبائل توڑدیا۔
انھیں بتایا گیا کہ ان کا موبائل اس لیے توڑا گیا کہ وہ مظاہرین کی ویڈیو بنا کر انھیں بدنام کریں گے اور ان کے احتجاج کی منفی تصویر کشی کریں گے۔
اسی گفتگو کے دوران وہاں سے پولیس اور رینجرز کی گاڑیوں کا گزر ہوا جنھیں نعروں کے درمیان راستہ تو مل گیا لیکن وہ ایمبولینس پھر بھی وہیں پھنسی رہی جو کسی مریض کو لینے جا رہی تھی۔
جب پیدل سفر کرنے والوں کو یہ آسانی ہے کہ انھیں پیدل چلنے کے لیے کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ پیدل چلتے ہوئے جب گاڑیوں کے لیے لگائی گئی ایک رکاوٹ کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ چند ڈنڈا بردار نوجوان رکاوٹ کو ہٹا رہے تھے اور ایک چھوٹی گاڑی کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی تھی۔

پوچھنے پر پتا چلا کہ احتجاج ختم نہیں ہوا لیکن ایک ‘غریب مریض’ تھا تو اسے گزرنے دیا۔ اس ہی دوران چند موٹر سائیکل سواروں نے بھی اپنے آپ کو غریب بتا کر گزرنے کے لیے راستہ مانگا جسے سخت لہجے میں منع کردیا گیا۔ لہجے کی سختی کا وہی اثر ہوا جو عام طور پر ایسے ماحول میں ہوتا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں اور رکاوٹ پر کھڑے مظاہرین کے درمیان ‘دھکم پیل’ شروع ہوئی جسے دونوں جانب موجود لوگوں نے قابو کرلیا لیکن موٹر سائیکل سواروں کو گزرنے کا راستہ پھر بھی نہ ملا۔

دونوں شہروں کے درمیان اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی میٹرو بس سروس بھی ایک ہفتے سے بند پڑی ہے جس سے روزانہ لاکھوں لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ فیض آباد پر میٹرو بس کے سٹیشن پر ہو کا عالم تھا اور لوگ اس کے پل پر کھڑے ہوکر حالات کا جائزہ لے رہے تھے۔

ایک مقامی رہائشی عمار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس احتجاج کی وجہ سے متبادل راستوں سے ‘جو سفر آدھے گھنٹے میں طے ہوتا تھا فی الحال تین سے چار گھنٹوں کے دوران طے ہو رہا ہے۔’
مظاہرین میں سے ایک شخص سے پوچھا کہ آپ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں اور کیوں احتجاج کر رہے ہیں تو جواب ملا ‘رسول اللہ سے متعلق حلف نامے میں شرارت کرنے والے کی برطرفی چاہتے ہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں۔’
حکومت نے غلطی تو تسلیم کرلی ہے پھر یہ احتجاج کیوں کر رہے ہیں؟
اس سوال کا جواب ملا ‘ترقی یافتہ ممالک کی مثال صرف پیسے کھانے کے منصوبوں میں دیتے ہیں ایسے غلطی پر وہاں خود استعفی دے دیا جاتا ہے یہاں تومانگنے پر بھی ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔’
الٹا ایک سوال داغ دیا گیا ‘آپ کو کبھی سگنل توڑنے پر معافی ملی ہے؟’
سات دن بعد بلاآخر وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے یہ تو کہہ دیا ہے کہ مذاکرات کی کوشش کریں گے لیکن مظاہرین سن لیں ‘راستہ تو دینا ہوگا۔’
لیکن ہوگا کب اور کیسے اس کی وضاحت شاید وقت ہی کرے۔