کراچی میں امن کے لیے ایم کیو ایم اور پی ایس پی سے ملاقاتیں کیں‘

ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سعید نے پیر کی شب دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ رینجرز نے کراچی کا امن برقرار رکھنے کے لیے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی سے ملاقاتیں کی تاکہ ماضی میں ہونے والا تشدد نہ دہرایا جائے۔

ان کے اس بیان کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یکے بعد دیگرے پریس کانفرنسوں اور بیانات سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر پاکستان کی سیاست میں ایجنسیز کی مداخلت کس حد تک ہے؟

تجزیہ نگار اور پروفیسر توصیف احمد نے کہا کہ یہ مداخلت پہلے بھی رہی ہے اور اسٹیبلیشمنٹ سے جڑے لوگوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہےـ

انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی مداخلت کی گئی اس کے پیچھے کوئی جواز بتایا گیا۔ جب مہران بینک سکینڈل سامنے آیا اور یہ بات ریکارڈ پر آئی کہ جنرل درانی کے حلف نامے کے ذریعے آئی ایس آئی نے پیپلز پارٹی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے سیاسی جماعتوں میں پیسے تقسیم کیے ہیں تو اس وقت کے سابق بریگیڈئیر امتیاز نے ٹی وی انٹرویوز میں اس کا جواب یہ دیا کہ وہ پیپلز پارٹی اور سوشلزم کو روکنے کے لیے یہ کارروائی کر رہے تھے ـ یہ جواز تب بھی دیا گیا اور یہی جواز آج بھی ڈی جی رینجرز کے بیان سے سامنے آ رہا ہےـ

انھوں نے کہا ’اس بات کا کوئی جواز نہیں ہے کہ کوئی عسکری فورس سیاسی انجینئیرنگ کرےـ اس بات کا تعین پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کو کرنا ہے اور پاکستان کے آئین کے مطابق کرنا ہے۔‘
نامہ نگار سحر بلوچ کے مطابق اس بارے میں بات کرتے ہوۓ صحافی مظہرعباس نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کی صورت حال ایک مسئلہ رہا ہے جس میں سیاسی گروہ اور ان سے منسلک لوگوں کے مجرمانہ تعلقات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

’امن و امان کی بات تک تو ٹھیک ہے لیکن اس بارے میں یہ کہنا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان پچھلے آٹھ ماہ سے بات چل رہی تھی یہ شاید اس تاثر کو دور کرنے کے لیے انھوں نے کی۔ رینجرز کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہےـ جب رینجرز یا اس طرح کا کوئی بھی ادارہ جس کی بنیادی ذمہ داری سیاست میں عدم مداخلت ہو ان کا کسی بھی سیاسی جماعت پر بات کرنا تشویش پیدا کرتی ہے۔‘

سیاسی جماعتوں میں ایجنسیز کی مداخلت کا معاملہ پاک سرزمین کے رہنما مصطفٰی کمال کی پریس کانفرنس کے دوران آیا جس میں انھوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے بارے میں کہا کہ جب رینجرز فاروق ستار کو لے جا رہی تھی تو اس وقت ان پرچھ سنگین مقدمات تھے اور پھر جب وہ رینجرز ہیڈ کوارٹرز سے باہر نکلے تو ایک سیاسی جماعت کے سربراہ بن کے ابھرے۔

مظہر عباس نے کہا کہ اس بات سے یہ تاثر گیا کہ جیسے ایم کیو ایم پاکستان ہمارے اداروں نے بنائی ہوـ انھوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اس قسم کے الزامات لگتے رہے ہیں جس میں ان کا سیاسی کردار بھی سامنے آیا ہےـ

پیپلز پارٹی کے سینئیر رکن نثار کھوڑو نے ڈی جی رینجرز کے بیان کے بارے میں کہا ’یہ بیان نہیں اعتراف ہےـ امن و امان قائم رکھنے کے لیے سیاسی اتحاد بنانے کی اگر ضرورت پیش آئی تو کیا اس سے پہلے کراچی میں گڑبڑ کرنے پر کسی کو کہیں سے سرپرستی حاصل تھی؟

رینجرز کو سیاسی معاملات میں شامل ہونے کا نہیں کہا گیا تھاـ تو اس سے میں کیا سمجھوں کہ جب یہ سیاسی جماعتوں کو کہتے ہیں کہ آپس میں بیٹھو اور بات کرو تو کیا ان کی سیاسی پالیسیاں بھی یہی طے کرتے ہیں؟ اور اگر ایسا ہے تو جب لوگ سندھ کو توڑنے کی بات کرتے ہیں تو کسی کے کہنے پر کرتے ہیں؟

توصیف احمد نے کہا کہ یہ بات صحیح ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پولیس کی مدد سے ان عناصر کا محاسبہ کرنا چاہیئے جو ٹارگٹ کلنگ کر رہے تھے یا جو شہر میں امن و امان کو برباد کرہے تھےـ
ان کے بقول ’سیاسی مینڈیٹ ان کا نہیں تھا اور انھیں یہ مینڈیٹ استعمال نہیں کرنا چاہئیے ـ اس سے سیاسی نظام کا نقصان ہوتا ہے جس کے نہ ماضی میں اچھے نتائج نکلے تھے نہ اب نکلیں گےـ‘