جنوبی وزیرستان میں موسیقی اور رقص پر پابندی

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان ایجنسی میں ایک مرتبہ پھر خوشیاں منانے یا شادی بیاہ اور منگنی کے موقع پر موسیقی سننے یا اس پر رقص کرنے پر ایک پمفلٹ کے ذریعے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
یہ پمفلٹ چند روز قبل جنوبی وزیرستان کے ہیڈ کوارٹرز وانا میں تقسیم کیےگئے اور مساجد میں پڑھ کر سنائےگئے ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ یہ پابندیاں عائد کرنے کے لیے علاقے کی معتبر شخصیات اور علما کرام کا جرگہ منعقد ہوا جس میں اتفاق رائے سے پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ شادی بیاہ یا منگنی پر مُنکرات یعنی رقص، گانے بجانے، سازو آواز کی محفل منعقد کرنے، منشیات استعمال کرنے اور قومی روایات کے منافی خوشی کا بر ملا اظہارکرنے پر پابندی عائد ہوگی۔ اس کے علاوہ خواتین کو محرم کے بغیر بازار، ڈاکٹر یا روحانی علاج کے لیے کسی کے پاس جانے پر پابندی عائد ہوگی اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے قومی مجرم تصور کیے جائیں گے۔

مقامی لوگوں کے مطابق اس پفلٹ کے بعد اس علاقے میں سی ڈی فروخت کرنے والی دکانیں بند کر دی گئی ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ سپر مارکیٹ میں چند موبائل فون کی دکانیں بھی بند کر دی گئی ہیں۔
یہ پمفلٹ ایک عرصے کے بعد اس علاقے میں تقسیم کیےگئے ہیں اور اطلاعات ہیں کہ جرگے نے یہ فیصلے مقامی سطح پر متعدد شکایات موصول ہونے کے بعد کیے ہیں۔
جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن سنہ 2009 میں شروع کیا گیا تھا لیکن شمالی وزیرستان میں جون 2014 میں شروع ہوا تھا۔ اس کے علاوہ آپریشن ضرب عضب کا دائرہ کار بھی جنوبی وزیرستان ایجنسی تک پھیلا دیا گیا تھا۔

وانا بازار میں حکومت کے حمایتی گروپ کی موجودگی کی اطلاعات تھیں لیکن جنوبی وزیرستان کے دیگر علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف بھر پور کارروائیاں کی گئی تھیں۔ جن علاقوں میں فوجی آپریشن کیے گئے وہاں بیشتر متاثرین کی واپسی بھی مکمل ہو گئی ہے۔

اس عرصے میں اس طرح کے پمفلٹس یا پابندیوں کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی تھیں لیکن اب ایک مرتبہ پھر یہ پمفلٹس تقسیم کیے گئے ہیں۔