وسیم اکرم: انڈیا پاکستان سے نہیں کھیلنا چاہتا تو آئی سی سی کیا کرے؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے کرکٹ تعلقات کی بحالی کا تعلق کھلاڑیوں یا عوام کی خواہشات سے نہیں بلکہ حکومتوں کے فیصلے سے ہے۔
لاہور میں بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’انٹرنیشنل کرکٹ کونسل بہت اچھا کام کر رہی ہے لیکن وہ انھیں (انڈیا) کو کہہ نہیں سکتی یا منا نہیں سکتی۔ ہو سکتا ہے کہ میں غلط ہوں لیکن یہ میری رائے ہے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان اور انڈیا نے 2012 سے اب تک کوئی دو طرفہ کرکٹ سیریز نہیں کھیلی ہے۔

اس بارے میں آئی سی سی کے اقدامات کے حوالے سے سوال پر وسیم اکرم نے کہا کہ ’میں آئی سی سی کی قابلیت پر سوال نہیں اٹھا رہا۔ آئی سی سی بہت اچھے کام کر رہی ہے لیکن اگر انڈین حکومت نہیں مان رہی کہ پاکستان سے نہیں کھیلنا تو انڈین کرکٹ بورڈ بھی کچھ نہیں کر سکتا۔‘

کیا انڈین کرکٹ ٹیم پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ساتھ کھیلنے کی خواہش مند ہے؟
اس بارے میں وسیم اکرم کا خیال ہے کہ یہ عوام یا کھلاڑیوں کے چاہنے کی بات نہیں اور معاملہ دونوں حکومتوں کا ہے۔
’کھلاڑیوں کو تو کوئی بھی ٹیم ملے گی، وہ کھیلیں گے۔ بات حکومتوں کی ہے۔ سیاست اپنی جگہ ہے اور کھیل اپنی جگہ۔ میں نے بھی انڈیا میں 12، 13 سال کام کیا ہے، بدقسمتی سے پچھلے دو سال سے وہاں نہیں جا سکا۔

’میرے وہاں پر بہت سارے دوست ہیں۔ میں وہاں جانا، وہاں کی ثقافت، کھانا اور اپنے دوستوں کو مِس کرتا ہوں۔ مجھے انڈیا میں بھی بہت پیار ملتا ہے، میرے اتنے دوست وہاں ہیں جتنے یہاں ہیں۔ اگر ہم نے اپنے حالات بہتری کی طرف لانے ہیں تو پاکستان اور انڈیا کے لوگوں کا آپس میں رابطہ بہت اہم ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈین کرکٹ سیریز کا دنیا میں کوئی اور کرکٹ سیریز مقابلہ نہیں کر سکتی۔
’انڈین اور پاکستانی کرکٹ کا اپنا مزہ ہے۔ بہت لوگ کہتے ہیں کہ ایشز سیریز کا بہت پریشر ہوتا ہے لیکن جہاں ایک ارب لوگ میچ دیکھ رہے ہوں، اس کے دباؤ کا کسی اور سیریز سے کوئی مقابلہ ہی نہیں کر سکتے۔‘

وسیم اکرم نے پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن میں نئی ٹیم ملتان سلطانز کی کرکٹ کی کمان سنبھالی ہے۔ وہ اس سے قبل اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم کے ساتھ منسلک تھے۔
اس فیصلے کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وسیم اکرم نے بتایا کہ ’اسلام آباد یونائیٹڈ کے ساتھ میرا بہت اچھا وقت گزرا، فیملی جیسا ماحول تھا، ٹیم مالکان بہت پروفیشنل تھے اور دوستی بھی ہے، ان سے لیکن یہ ایک پروفیشنل فیصلہ تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’کوئی بھی نیا کام مجھے بہت پرجوش کر دیتا ہے۔ صفر سے نئی ٹیم کو بنانا، نئے کھلاڑی اور کپتان چننا، نئی مینیجمنٹ چننا۔ یہ سب آسان نہیں تھا لیکن میں نئی چیزیں کرنا پسند کرتا ہوں۔ میں نے اس کو چیلنج کے طور پر لیا۔ میرے لیے سب سے اہم ہیں پاکستان کرکٹ اور پاکستان سپر لیگ۔‘

پاکستانی کرکٹ کی بہتری میں پی ایس ایل کے کردار کے بارے میں وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ ’اگر پی ایس ایل نہ ہوتی تو ون ڈے میں دنیا کا سب سے بہترین بولر حسن علی نہ ملتا، سب سے دلچسپ نوجوان کرکٹر شاداب نہ ملتا، آپ کو مختلف طرز کی بولنگ کرنے والا رومان رئیس نہ ملتا۔

’شرجیل خان کا پہلے پی ایس ایل کے بعد کریئر نئے طریقے سے شروع ہوا، تو یہ سب پی ایس ایل کا ہی تو جادو ہے۔ آہستہ آہستہ دیکھیں اگر پی ایس ایل کے 50 فیصد میچ بھی پاکستان آ جاتے ہیں تو آپ کو اس سے اور کھلاڑی بھی ملیں گے اور نوجوان کھلاڑی اس کھیل کی طرف رجحان کریں گے۔‘

برطانیہ میں ہونے والے 2019 کرکٹ ورلڈ کپ کی تیاری کے بارے میں جب وسیم اکرم سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے پاکستان کرکٹ ٹیم نے چیمپئینز ٹرافی میں پرفارم کیا اور کپ جیتا ہے، اس سے لگ رہا ہے کہ یہ صحیح سمت میں جا رہے ہیں۔

’ٹیم میں کچھ تجربہ کار کھلاڑی ہیں، کپتان کی یہ بات مجھے بہت اچھی لگتی ہے کہ وہ ٹیم اور کھیل دونوں میں بہت دلچسپی لیتے ہیں اور وہیں نوجوان کھلاڑی ہیں جو بہت اچھا پرفارم کر رہے ہیں۔ تو یقیناً ٹیم صحیح سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ ورلڈ کپ 2019 کون سی ٹیم جیتے گی لیکن جب تک ہماری ٹیم تیار ہے اور 2019 آئے گا تو یہی نوجوان کھلاڑی تجربہ کار بھی ہو جائیں گے اور جوش سے کھیلیں گے بھی۔‘

پی ایس ایل 2017 کا فائنل لاہور میں ہوا، ورلڈ الیون ٹیم اور سری لنکن کرکٹ ٹیموں نے بھی دورۂ پاکستان کیا تو کیا اب واقعی انٹرنیشنل کرکٹ کی پاکستان میں واپسی ہو گئی ہے؟
اس حوالے سے وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ ’ایک ایک قدم کر کے ہم کامیابی تک پہنچ رہے ہیں۔ نجم سیٹھی نے اعلان کیا ہے کہ پی ایس ایل 2018 کا فائنل کراچی میں ہو گا، یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے کیونکہ کراچی والے ہمیشہ سے کہتے تھے کہ ان کے ہاں میچ کیوں نہیں ہوتا۔

’معاملات بہتری کی طرف جا رہے ہیں اور ایک بار پی ایس ایل صحیح معنی میں پاکستان لوٹ آیا اور 60 فیصد میچ بھی ملک میں ہوں گے تو اس کا مثبت اثر آپ دیکھیے گا کہ جس طرح آئی پی ایل نے انڈین کرکٹ میں کیا ہے وہی اثر پی ایس ایل کا پاکستان کرکٹ پر ہو گا۔‘