بی بی سی انووویٹرز: انڈیا میں فضلے کی توانائی ٹوائلٹ بنانے میں مددگار؟

انڈیا ٹوائلٹس تعمیر کرنے کے جنون میں مبتلا ہے، حکومت 2019 تک کھلے میں رفاع حاجت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے 20 بلین ڈالر (15 بلین پاؤنڈ) مختص کر چکی ہے۔
انڈیا کے سب سے غریب ترین حصوں میں سے ایک میں، ایک سماجی مہم جو نے پبلک ٹوائلٹ بنانے اور ان کے اخراجات کو جمع ہونے والے فضلے سے ہی پورے کرنے کا چیلنج کو قبول کیا ہے۔
دیہی ہندوستان میں، آدھ ارب سے زیادہ لوگ ٹوائلٹ استعمال نہیں کرتے۔
یہ صورتِ حال جو صحت کے مسائل پیدا کرتی ہے سماجی مسائل کو بھی ہوا دیتی ہے جیسے بچوں کا سکول نہ جانا اور عورتوں پر حملے یا ان میں اس وقت حملوں کا ڈر جب وہ فارغ ہونے کے لیے الگ تھلگ یا ویران علاقوں میں جاتی ہیں۔

سرکاری کوششوں کے ساتھ ساتھ، ایس ایچ آر آئی شری ٹوائلٹ کی ٹیم جیسے سماجی کاروباری ادارے اختراعی تجاویز کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔
جب شری کے بانیوں میں سے ایک پروین کمار، سکول میں تھا تو اسے سکول پہنچنے میں دیر ہو جاتی تھی کیونکہ انہیں دریا پر جا کر فراغت پانے کے لیے ایک کلومیٹر سے زیادہ چلنا پڑتا تھا۔
آج وہ ان تین سماجی کاروباری اداروں میں سے ایک والے ہیں جو شمال مشرقی انڈیا کی بہار ریاست میں ٹوائلٹ بناتے ہیں جنھیں برادریاں مفت استعمال کرسکتی ہیں۔

ریاستی ٹوائلٹوں میں اکثر اس وقت مشکلیں پیش آ تی ہیں جب جمع فضلے کو نمٹانے، دیکھ بھال اور صفائی ستھرائی کے خرچے چکانے کے مرحلے آتے ہیں۔
جمع فضلے کو کہیں پھینکنے کی بجائے شری ٹوائلٹس اُسے ایک بائیو ڈائیجیسٹر چینل کو منتقل کر دیتے ہیں۔
بائیوڈائیجسٹرٹر سے جو بجلی ملتی ہے اس سے پانی صاف کرنے کا نظام چلتا ہے۔
یہ صاف پانی پھر بوتلوں میں بھرا اور نصف روپے (0.01£) فی لیٹر بیچا جاتا ہے اور اس پانی سے ملنے والی رقم ٹوائلٹوں کی دیکھ بھال اور مرمت وغیرہ کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں۔
فی الحال شری روزانہ 3000 لیٹر پانی صاف کر رہا ہے۔
پروین کمار اور ان کے بانی ساتھی چندن کمار کی ملاقات 2010 میں کینیڈا کے پیدائشی انجینئر انوپ جین سے ہوئی۔
چار سال بعد انھوں نے ریاست بہار میں ڈسٹرکٹ سوپاؤل کے گاؤں نموا میں پہلا کمیونٹی ٹوائلٹ بنایا۔ اس میں آٹھ ٹوائلٹ مردوں اور آٹھ ٹوائلٹ عورتوں کے تھے۔
یہ ٹوائلٹ صبح چار بجے سے رات دس بجے تک کھلے رہتے ہیں۔
ٹیم نے اب تک پانچ گاؤں میں ٹوائلٹ بنائے ہیں اور ہر گاؤں میں روزانہ تقریبا 800 لوگ انھیں استعمال کرتے ہیں۔
ان کا اندازہ ہے کہ ہر سہولت پر تقریبا 30،000 ڈالر (23،000 پاؤنڈ) کے ابتدائی اخراجات آتے ہیں لیکن اس سے جو صاف پانی پیدا ہوتا ہے اس کو بیچنے سے یہ ٹوائلٹ صرف اپنے ہی اخراجات اٹھا پاتے ہیں۔
چندن کمار وضاحت کرتے ہیں کہ ‘ابھی ہم نے صرف وہ گاؤں چُنے ہیں جہاں سرکاری سہولتیں نہیں ہیں’۔
کسی بھی گاوں میں ٹوائلٹ بنانے سے پہلے لوگوں میں آگہی کی ایک مہم چلائی جاتی ہے کیوں کہ صحتِ عامہ کے حوالے سے لوگوں کی خود اپنی عادتیں بھی ایک رکاوٹ بن جاتی ہیں جو اس لیے نہیں ہوتیں کہ اس سے پہلے وہاں سہولت ہی نہیں ہوتی بلکہ اکثر ثقافتی ہوتی ہیں۔

مسٹر چودھری کو یقین ہے کہ ان ٹوائلٹس کی دیکھ بھال اور مرمت وغیرہ میں مقامی لوگوں کو شامل کر کے اس نظام کو ‘ہمیشہ کے لیے’ قائم رکھا جا سکتا ہے۔
انڈیا میں یونیسیف کے نکولس آسبرٹ کہتے ہیں کہ ‘ہم واقعی کاروباری اختراع پسندی کو اہم سمجھتے ہیں’۔
‘وہ کاروبار کے نئے نئے طریقوں کے بارے میں سوچتے ہیں، تکنیکی طور سے حفظان صحت کے مسائل حل کرنے کے بارے میں اور انھیں فروغ دینے کے پہلو سے بھی’۔
لیکن نکولس آسبرٹ کا کہنا ہے کہ بائیو ڈائجیسٹر جیسے تصورات دلچسپ ہیں اور ان کے وسیع تر پھیلاؤ میں رکاوٹ آئی تو انھیں ضرور حیرت ہو گی۔
شری کی ٹیم بہرطور بلند ارادے رکھتی ہے۔
مسٹر جین کا کہنا ہے کہ ‘آگے بڑھنے کے لیے ہمارا منصوبہ یہ ہے کہ اپنے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے سرکار کے ساتھ مل کر کام کیا جائے’۔
‘ہم چاہیں گے کہ سرکار سے فنڈز لے کر ایسی سہولتوں کے مراکز مزید بنائے جائیں۔ ہم جو مراکز بنائیں گے انھیں کمیونٹی خود چلائے گی اور شری صرف اس بات کو یقینی بنائے گی کہ انھیں استعمال کیا جا رہا ہے اور ان کی دیکھ بھال اچھی کی جا رہی ہے’۔

اس کے شریک بانی چندن کمار مانتے ہیں کہ ‘ہم اپنے آپ کو ایک ایسے مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں جہاں ہماری پہل سے ہمارا معاشرہ کھلے میں رفاع حاجت یا فارغ ہونے سے سو فیصد پاک ہو جائے’۔

بی بی سی عالمی سروس کی اس پیشکش کے لیے مالی اعانت بِل و میلینڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے کی۔