ماہرہ خان اور شعیب منصور: مقدّر کا سکندر

ماہرہ خان اور شعیب منصور میں زیادہ بڑا سٹار کون ہے؟ ظاہر ہے آپ کی رائے اس پر منحصر ہوگی کہ آپ فلموں کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں۔
عام فہم میں سٹار وہ ہوتے ہیں جو پردے یا سکرین پر نظر آتے ہیں، جو اگر بازار میں کہیں نکل جائیں تو مدّاحوں کے جُھرمٹ میں پھنس جاتے ہیں۔ اس حوالے سے ماہرہ خان یقیناً آپ کی چوائس ہوں گی۔
لیکن اگر آپ اُن لوگوں میں سے ہیں جو فلم بنانے والے پسِ پردہ لوگوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، جو سمجھتے ہیں کہ اچھے ہدایتکار، لکھاری اور پروڈیوسر کے بغیر اداکار سٹار بن نہیں سکتے، تو شاید آپ راۓ دینے میں تھوڑے سے ڈگمگائیں۔

کیونکہ شعیب منصور ایک ایسا نام ہے جس نے پردے کے پیچھے رہ کر بھی اور شوبز کی شوخ لائٹوں سے کنارہ کشی کرنے کے باوجود ٹی وی، موسیقی اور فلم کے شعبوں میں بڑے معرکے مارے ہیں۔

اُن کا نام پاکستان کے مشہورِ زمانہ کامیڈی شو ‘ففٹی، ففٹی’ سے بھی منسلک رہا ہے اور پاکستانی فوج کے کامیاب پراپیگینڈا ڈراموں ‘ایلفا براوو چارلی’ اور ‘سنہرے دن’ کے بھی وہ ہدایتکار رہ چکے ہیں۔ پاکستانی پاپ موسیقی کے سب سے نامور بینڈ ‘وائٹل سائنز’ کو بنانے اور کھڑا کرنے میں اُن کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔

اور جب اُنہوں نے فلموں کا رُخ کیا تو پاکستانی سنیما کے ‘نیو ویو’ فلمسازوں میں بھی اُن کا نام سرِفہرست ہے۔ اُن کی پہلی فلم ‘خدا کے لیے’ (2007) نے پاکستانی فلموں کے لیے انتہائی بُرے حالات میں امید کی کرن روشن کی اور اُن کی دوسری فلم ‘بول’ (2011) نے اس وقت تک کی اردو فلموں کے تمام باکس آفس ریکارڈ توڑ ڈالے۔

لیکن اب اس سوال کا، یعنی کہ ماہرہ خان اور شعیب منصور میں سے بڑا سٹار کون ہے، جواب دینا شاید مشکل ہو کیونکہ دونوں کی مشترکہ فلم سامنے آنے والی ہے۔ ‘ورنہ’ 17 نومبر کو سنیماؤں میں پیش کی جائے گی اور اس سال میں ریلیز ہونے والی فلموں میں فلم بینوں کو سب سے شدت سے اسی فلم کا انتظار ہے۔ اس فلم کی کامیابی دونوں کے سر جائے گی یا پھر اس کی ناکامی بھی دونوں کے سر پر ڈالی جا سکے گی۔

ظاہر ہے کہ ماہرہ خان کا اس فلم کا مرکزی کردار ہونا اور شعیب منصور کا اس کا مصنّف اور ہدایتکار ہونا ‘ورنہ’ کے حق میں جاتا ہے لیکن کچھ اور وجوہ کی بنیاد پر فلمساز اور اس فلم کے ڈسٹری بیوٹر اتنے پُراعتماد بھی نہیں ہیں۔

اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ ایک قدرے ‘لو بجٹ’ فلم ہے، اس میں بظاہر کوئی دھوم دھڑّکا نہیں ، بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ ایشو یعنی ‘ریپ’ اس فلم کا موضوع ہے۔ کچھ ناقدین صرف ٹریلر پر انحصار کرتے ہوئے ابھی سے اس رائے کا اظہار کر رہے ہیں کہ فلم ٹی وی ڈرامہ لگ رہی ہے۔

اس بے اعتمادی کی دوسری وجہ یہ ہے کہ شعیب منصور اپنی پچھلی فلم ‘بول’ کے کوئی چھ سال بعد نئی فلم لے کر آ رہے ہیں۔ اِن چھ سالوں میں پاکستانی سنیما بڑی حد تک تبدیل ہوگیا ہے اور کم از کم تکنیکی حوالے سے پہلے سے کئی درجے آگے نکل گیا ہے۔ کیا ‘ورنہ’ فلم بینوں کی توقعات پر پورا اُتر پائے گی؟

یاد رہے کہ 90 کی دہائی میں جب شعیب منصور نے ‘وائٹل سائنز’ کی البم ‘اعتبار’ کےگانوں کے ویڈیوز بنائے تھے تو اس وقت بھی پاکستانی میوزک ویڈیوز اُن سے کہیں آگے پہنچ چُکے تھے اور شعیب صاحب کے ویڈیوز میں پرانے پی ٹی وی کی جھلک نظر آ رہی تھی۔

اس کے علاوہ اِسی سال میں ہم نے دیکھا ہے کہ کئی بڑے پرانے ہدایتکاروں کی کاوشیں جیسے کہ سیّد نور کی ‘چین آئے نا’ اور شہزاد رفیق کی ‘سیلوٹ’ باکس آفس پر بری طرح فلاپ ہوگئی ہیں۔
تیسری وجہ بےاعتمادی کی شاید یہ ہے کہ ماہرہ خان پہلی مرتبہ ایسے کردار میں آ رہی ہیں جو اُن کے ٹی وی اور فلموں کے عمومی کرداروں سے قدرے مختلف ہے۔ عام طور پر اُن کے کردار ایسی خواتین کے رہے ہیں جو چُلبلی یا انتہائی ‘سویٹ’ ہوں اور جو حالات اور معاشرے کے سامنے بےبس نظر آتے ہیں۔

‘ورنہ’ میں ماہرہ خان کا کردار سخت جان اور غصّے سے بھرپور لگتا ہے۔ کیا دیکھنے والے ماہرہ کو اس رول میں تسلیم اور پسند کر لیں گے؟
فلمسازوں کی فکر تو سمجھ میں آنے والی بات ہے۔
فی الوقت ہمارے پاس اندازہ لگانے کے لیے صرف اور صرف ‘ورنہ’ کا ٹریلر ہے اور ٹریلروں کی بنیاد پر فیصلہ صادر کرنا خطرے سے بھرا عمل ہے۔
اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو باقی باتیں ایک طرف، اگر ‘ورنہ’ کے کردار اور کہانی فلم بینوں کی توجہ قائم رکھنے میں اور اُن کو ‘انگیج’ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، خاص طور پر خواتین فلم بینوں کو، تو کامیابی اس فلم کا مقدّر ہے۔ یہ بات بھی نقصان دہ نہیں ہے کہ ‘ورنہ’ کے مقابلے میں کم از کم دو ڈھائی ہفتے تک کوئی اور قابلِ ذکر فلم نہیں لگنے والی۔ شعیب منصور کو اس سے بہتر موقع نہیں ملنے والا۔

ورنہ، اللہ کی مرضی!