#MeToo: جنسی ہراسگی کے خلاف ہالی وڈ میں جلوس

امریکہ کے معروف شہر لاس اینجلس میں سینکڑوں افراد نے سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی #Metoo تحریک سے متاثر ہو کر جنسی ہراسگی کے متاثرین کی حمایت میں جلوس نکالا۔
اس جلوس کا آغاز ہالی وڈ بلیوارڈ سے ہوا اور اس کے شرکا مشہورِ زمانہ واک آف فیم کے ساتھ ساتھ چلتے ہوتے ہوئے سی این این کے صدر دفتر تک گئے۔
جلوس کے شرکا میں زیادہ تر خواتین تھیں تاہم بہت سے مرد بھی وہاں نظر آئے۔
خیال رہے کہ ہالی وڈ کے معروف فلمساز ہاروی وائن سٹین کے خلاف جنسی ہراسگی کے الزامات کے سامنے آنے کے بعد امریکہ کی فلمی اور ٹی وی صنعت میں کئی معروف شخصیتوں کے خلاف بھی ایسے الزامات سامنے آئے ہیں۔

جلوس میں شامل لاس اینجلس کی 21 سالہ تارا میکنامارا نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اس جلوس کا مقصد ایک عرصے سے نظر انداز کی جانے والی بدسلوکی کو سنجیدگی سے لینا اور تزکیہ نفس تھا۔
انھوں نے کہا: ‘اپنے کریئر میں مجھے کئی بار جنسی تشدد کا سامنا رہا اور اس نے میری زندگی کی ہر جہت کو متاثر کیا ہے۔’
سوشل میڈیا پر ‘می ٹو’ کا ہیش ٹیگ سب سے پہلے ترانا برکے نے استعمال کیا اور ہاروی وائن سٹین کے خلاف اٹھنے والے شور میں اداکارہ الیسا میلانو نے اسے مقبول بنایا۔
ترانا برکے نے اتوار کو نکالے جانے والے جلوس کی رہنمائی کی۔ انھوں نے اس جلوس کے انعقاد سے قبل اپنے فیس بک پر لکھا: ‘ہاروی وائن سٹین جیسے سینکڑوں مرد ہمارے پڑوس میں رہتے ہیں جو اسی طرح کا کام کر رہے ہیں۔

٭

٭

٭

‘ہم یہ دیکھ رہے ہیں، اور کم از کم ابھی بچے ہوئے لوگوں میں اتحاد دیکھ رہے ہیں کہ (جنسی ہراسگی کا شکار ہونے والے) بچے ہوئے لوگوں کی برادری میں اس می ٹو کی وائرل ہونے والی تحریک سے اضافہ ہوا ہے اور ہمیں امید ہے اور ہماری دعا ہے کہ ہم اسے برقرار رکھیں۔’

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران جن اہم شخصیات پر جنسی ہراسگی کے الزامات لگے ہیں ان میں اداکار کیون سپیسی اور کامیڈین لوئی سی کے بھی شامل ہیں۔
لوئی سی کے نے جمعے کو ایک معافی نامہ شائع کیا ہے اور برسوں انکار کرتے رہنے کے بعد انھوں نے اقرار کیا ہے کہ الزامات درست تھے۔
انھوں نے لکھا: ‘ان خواتین پر مجھے جو اختیار تھا وہ یہ تھا کہ وہ میری مداح تھیں اور میں نے اس اختیار کو بے پروائی سے استعمال کیا۔’
نیویارک ٹائمز نے اکتوبر میں خبر دی تھی کہ 65 سالہ وائن سٹین نے ان آٹھ خواتین کے ساتھ عدالت کے باہر صلح کی تھی جنھیں انھوں نے جنسی طور پر ہراساں کیا تھا یا جن کے ساتھ ان کی مرضی کے خلاف جسمانی تعلق قائم کیا تھا۔

وائن سٹین پر ریپ کا بھی الزام ہے لیکن انھوں نے اپنے ایک ترجمان کے ذریعے بغیر مرضی کے کسی بھی جسمانی تعلق سے صاف صاف انکار کیا ہے۔