میڈ ان پاکستان: پاکستانی فیشن کو پسند کیا جاتا ہے لیکن پاکستانیوں پر اعتماد نہیں ہے‘

کراچی میں کراچی ایکسپو 2017 کے تحت ‘میڈ ان پاکستان’ کے نام سے فیشن ویک جاری ہے جس میں کئی ممالک سے درجنوں خریدار بھی آئے ہوئے ہیں۔
میڈ ان پاکستان فیشن ویک کا مقصد ملبوسات کی محض نمائش کرنا نہیں ہے بلکہ ایسے ملبوسات کی نمائش کرنا ہے جو پاکستانی کپڑے سے بنے ہوں تاکہ برآمد کیے جا سکیں۔
فیشن پاکستان کے صدر اور مشہور ڈیزائنر دیپک پروانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان کے فیشن کے فروغ کے لیے ایک جامعے سٹیریٹجی بنائی گئی ہے تاکہ پاکستانی ڈیزائنرز اپنے ملبوسات برآمد کر سکیں۔

‘ہم نے پہلی بار ایک سٹریٹیجی کے تحت ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو شامل کیا ہے۔ اور اسی وجہ سے اس سال پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر غیر ملکی خریدار پاکستان آئے ہیں۔’
اس فیشن ویک میں حصہ لینے والے ایک ڈیزائنر کمپنی ‘دا پِنک ٹری’ کے محسن سعید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے فیشن ویک اور ایسے ایکسپو گذشتہ دو سالوں سے ہو رہے ہیں۔
‘لیکن اس بار یہ بہت بڑا ہے اور اس میں جاپان، امریکہ، کویت، انگلینڈ سمیت کئی ممالک سے خریدار آئے ہیں۔’
جب ان سے پوچھا گیا کہ خریدار تو آ جاتے ہیں لیکن اس سے فائدہ کتنا ہوتا ہے تو انھوں نے نے کہا کہ کچھ غلطی پاکستانی ڈیزائنرز کی بھی ہے۔ ‘خریدار تو آتے ہیں اور پسند کرتے ہیں اور رابطے کے لیے معلومات کا تبادلہ بھی ہوتا ہے۔ لیکن ہم ڈیزائنرز اگر اس ابتدائی رابطے کے بعد مزید آگے نہ بڑھیں اور دوبارہ رابطے نہ کریں تو یہ ہماری غلطی ہے۔’

انھوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ پچھلے سال کویت سے ایک کاروباری شخص آئے تھے اور وہ اس سال بھی آئے ہیں۔ ‘انھوں نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا اور شکوہ کیا کہ ابتدائی ملاقات کے بعد میں نے ان سے مزید رابطہ نہیں کیا۔ خریدار تو ہیں لیکن اس میں میری ہی غلطی ہے۔’

فیشن پاکستان 2007 سے ملک میں فیشن انڈسٹری کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ پاکستان کے فیشن کو ملک میں اور ملک سے باہر پروموٹ کیا جا سکے۔
فیشن کی تجزیہ کار ارم نور نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘میڈ ان پاکستان’ میں اس سال دنیا بھر سے خریداروں کی بڑی تعداد آئی تھی۔
‘فیشن ایکسپو میں اس سال تقریباً 1200 سے زیادہ خریدار آئے تھے جن میں سے تقریباً 150 فیشن اور ٹیکسٹائل کے خریدار تھے۔ کچھ خریدار بہت بڑے تھے جو دنیا بھر میں 800 سٹورز کو ملبوسات سپلائی کرتے ہیں۔’

ان کا کہنا تھا کہ اس سال فیشن ویک کے ڈیزائنرز کو پہلے سے بریف دیا گیا کہ اس سال جو فیبرک بھی استعمال کریں وہ پاکستانی ہوں۔
‘اس سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں جو خریدار آتے ہیں ان کو پاکستانی مصنوعات دیکھنے کو ملتی ہیں اور ان کے لیے فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔’
ارم نے مزید کہا کہ اس سال پاکستان ایکسپو میں ڈیزائنرز اور دیگر پاکستانی اشیا کے سٹالز پر خریداروں کا ہجوم تھا اور ایک کے بعد ایک میٹنگ ہو رہی تھی۔
ارم نے محسن سعید کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ آن سپاٹ خریداری ہوئی ہے لیکن آرڈرز کے لیے ڈیزائنرز کو سرگرم ہونا ہو گا کہ خریدار کو جو معلومات چاہیئں وہ بروقت مہیا کی جائیں تاکہ جو رابطہ قائم ہوا ہے وہ تکمیل تک پہنچے۔

زوریا ڈور گرلز نامی برانڈ بھی میڈ ان پاکستان فیشن ویک میں اپنے ملبوسات کی نمائش کر رہا ہے۔
زوریا ڈور گرلزکی مدیحہ لطیف کہتی ہیں کہ پاکستان میں فیشن کے حوالے سے کوئی سٹریٹیجی نہیں ہے۔
‘ہم لوگ اندھیرے میں تیر چلا رہے ہیں۔ ایک فیشن ویک یہاں کر لیا دوسرا وہاں۔ سٹریٹیجی نہیں ہے کہ کیسے پاکستان کے فیشن کو دنیا کے سامنے لایا جائے۔ ہم ایک ملک ہیں اور باہر پوری دنیا۔ انڈیا کی سٹریٹیجی بہت اچھی ہے جس کے باعث اس کو فائدہ ہوتا ہے۔’

زوریا ڈور گرلز نامی برانڈ کی بانی مدیحہ لطیف اور کنزا لطیف ہیں اور دونوں ہی انجینیئرز ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بہت سی شعبے ایسے ہیں جن میں پاکستان اب بھی مارکیٹ بنا سکتا ہے لیکن اس کے لیے انفرادی قوت اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہو گا۔
زوریا ڈور گرلز نےحال ہی میں اٹلی میں ہونے والے میلان فیشن ویک میں اپنی ملبوسات کی نمائش کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کو میلان فیشن ویک کے لیے برٹش قونصل لے کر گئی۔
‘آپ سمجھ رہے ہیں کہ پاکستان کے فیشن کو بیرون ملک متعارف کرانے کے لیے برطانیہ آپ کو لے کر جا رہا ہے۔’
ان سے جب اٹلی میں ان کی نمائش کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ڈیزائنرز اور خریداروں نے بہت سراہا۔
‘لوگ بہت متاثر ہوئے اور کہا کہ ان کو نہیں معلوم تھا کہ پاکستان میں اس قسم کے ملبوسات بنتے ہیں۔ لیکن جب آرڈر دینے کی بات ہوئی تو عدم اعتماد آڑے آ گیا۔ انھوں نے صاف کہا کہ ہمیں کیا معلوم کہ آپ آرڈر کی رقم لے کر ملبوسات سپلائی ہی نہ کریں۔’

انھوں نے کہا کہ اسی لیے پاکستان کی فیشن صنعت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے اور اس عدم اعتماد کو ختم کرنے کے لیے ایک جامعہ سٹریٹیجی کی ضرورت ہے۔
۔