عورت بیوی، بہن، بیٹی سے الگ ایک مکمل انسان بھی ہے`

جب سے ماہرہ خان اور رنبیر کپور کی تصویریں منظر عام پر آئی ہیں تو سمجھیے کہ انڈیا اور پاکستان میں کہرام سا مچا ہوا ہے۔
سب سے بڑی ایمرجنسی تو غیرت بریگیڈ کے ہیڈ کوارٹرز میں نافذ ہوئی اور انھوں نے ماہرہ خان کے مسلمان ہونے سے لے کے ان کے پاکستانی ہونے تک پر اعتراضات کیے۔
بلکہ بحیثیت ایک انسان، عزتِ نفس اور ذاتی زندگی کا حق بھی چھین لیا۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پاکستانی ٹی وی ڈراموں میں دوپٹہ اوڑھنے والی ہماری پیاری خِرد، نہ صرف ایک ہندوستانی اداکار کے ساتھ بیٹھ کر سگریٹ پی رہی ہو بلکہ اس نے وہ لباس زیبِ تن کیا ہو جس کو ہم شاید ہالی وُڈ کی عورت پر تو گوارا کر سکیں لیکن ہمارے ملک کی عورت بھلا کیسے وہ کپڑے پہن سکتی ہے؟

کپڑے کیسے اور کون سے پہننے چاہییں یہ بتانا تو صرف ہمارا حق ہے۔
نقارے بجتے رہے، ہندوستانی میڈیا ہر روز تصویروں کو بار بار دکھاتا رہا، نئی نئی باتیں سامنے آتی رہیں اور پاکستانی حلقوں میں بھی کافی تبصرے دیکھنے میں آئے۔
خوش آئند بات یہ دیکھنے میں آئی کہ ماہرہ کے لیے بہت سے لوگ کھڑے ہوئے اور دیگر لوگوں کو اس بات کا احساس دلانے کی تقریباً ناکام کوشش کرتے رہے کہ بھئی یہ اُس کی زندگی ہے۔
مگر اس سارے عرصے کے دوران ماہرہ خود خاموش رہیں اور اس موضوع پر انھوں نے بالکل بات نہیں کی۔
شعیب منصور کی فلم ریلیز ہونے سے قبل بی بی سی اردو کے انٹرویو میں ماہرہ نے اپنی خاموشی اپنے انداز میں توڑی۔
ماہرہ خان جس صنعت سے وابستہ ہیں وہاں میڈیا سے ان کا چولی دامن کا ساتھ ہے لہٰذا ان کو اس بارے میں کبھی نہ کبھی تو سوالات کا براہ راست سامنا کرنا تھا۔
ماہرہ کا جواب بھی اپنی خاموشی کی طرح خوب تھا کہ اگر وہ کچھ بول بھی دیتیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کی بات کو یہی میڈیا کچھ کا کچھ بنا دیتا ہے۔
ماہرہ نے کہا کہ کبھی کبھی چپ رہنے میں زیادہ طاقت ہوتی ہے۔ مگر ان کی یہ بات ایک لمحۂ فِکریہ ہے۔
آخر یہ کیسا ماحول ہے جس میں کسی عورت کو ذاتی زندگی پر شرمندہ کرنے سے لوگ باز نہیں آتے اور اس عورت کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ جو کہہ لے اُس کا کوئی فائدہ نہیں؟
اس وقت پوری دنیا میں خواتین اپنے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں۔ مگر جس طرح کا نام نہاد غیرت زدہ ماحول ہم نے اپنی عورتوں کے لیے بنا لیا ہے، جس میں ہم اتنے سخت اور نازیبا الفاظ عورتوں کے لیے استعمال کرتے ہیں جن کو سن کر روح کانپ جاتی ہے، ایسے حالات میں آواز اُٹھانا محاذ جنگ پر جانے سے کم نہیں۔

ٹیلی ویژن اور فلمی صنعت کی خواتین کو سخت ترین جملوں اور طعنوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
آپ کسی خاتون کے فیس بک پیج یا ٹوئٹر ہینڈل کا ملاحظہ فرما لیں، وہاں خواتین و حضرات کی ایک بڑی تعداد ان عورتوں کو اسلام اور پاکستانیت کا درس دیتی پائی جاتی ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ یہی لوگ ان خواتین کی فلمیں دیکھتے بھی ہیں، ان کے ہر جملے پہ عقابی نظر بھی رکھتے ہیں اور اگر وہ کہیں سامنے آجائیں تو سیلفی کھنچوانا بھی اولین فرض سمجھتے ہیں۔
مگر اس کے ساتھ ہی ان کو دھتکارتے بھی ہیں اور انکو ہرطرح کی مغلظات سے بھی نوازتے ہیں۔
ماہرہ نے اپنے انٹرویو میں خواتین کو ہراساں کیے جانے کے سوال کے جواب میں کہا کہ اس کا تعلق اس بات سے ہے ہی نہیں کہ وہ کہاں بیٹھی ہیں، کیا کر رہی ہیں، کیا پہنے ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے وہ ہراساں نہیں کی گئیں۔

انھوں نے کہا کہ ہراساں ہونے کا تعلق بہت ساری چیزوں سے ہے، مگرمحض ان کے اپنے برتاؤ یا اپنے سلوک سے نہیں۔
ماہرہ کے انٹرویو کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر انھیں تنقید کا سامنا رہا اور ان پر تنقید کرنے والوں میں عوام ہی نہیں بلکہ میڈیا پر آنے والی نمایاں خواتین بھی شامل ہیں۔
ان ہی میں سے ایک، ثنا بُچہ نے ماہرہ کا نام لکھے بغیر ٹویٹ کی کہ ‘مجھے یقین نہیں آتا کہ پاکستانی خواتین جنھیں انٹرنیشنل ٹی وی پر بات کرنے کا اعزاز حاصل ہوتا ہے، خواتین کے خلاف ہراس کے معاملے میں اتنی غیر سنجیدہ اور اتنی بے ربط ہو سکتی ہیں۔’

مجھ سمیت کئی لوگوں نے ان سے سوال کیا کہ آخر ان کا اشارہ کس طرف ہے لیکن انھوں نے جواب نہیں دیا۔
خدا کرے کے وہ اس بات کا جواب دیں کیونکہ پروفیشنلی جس مقام پر ثنا اس وقت موجود ہیں اور جیسے میڈیا اس موضوع پر خواتین کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہوا ہے، ایسے موقع پر مبہم الفاظ میں ایک دوسرے پر اس طرح کی جملے بازی ہرگز زیب نہیں دیتی۔

ثنا ٹیلی ویژن اور فلم کی ایک بااثر شخصیت اور خاتون بھی ہیں۔
اگر ان کو ماہرہ خان کی کسی بھی بات سے اختلاف تھا تو انکو صاف الفاظ میں اس بات کی نشاندھی کرنی چاہیے تھی۔
سوشل میڈیا پر اس طریقہ کار کو اپنانے کے بجائے ماہرہ سے ذاتی طور پر ہم کلام ہونا چاہیے تھا جس سے گفتگو کا رخ ہراساں ہونے کی طرف ہی رہتا۔
نہ کہ جیسا اب ہورہا ہے جس میں لوگ اصل مسئلے کے بجائے یہ سمجھ رہے ہیں کہ شاید یہ حسد ہے یا کوئی پرانا حساب چکتا کرنے کوشش۔ واللہ اعلم باالصواب۔
اس سارے معاملے سے اس بات کو مزید تقویت ملتی ہے کہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں ہراسگی کے خلاف بولنا تو دور اس پر بات کرنا بھی آسان نہیں ہے۔
ہمارا معاشرہ خواتین کو ویسے ہی لب کشائی کے مواقع کم فراہم کرتا ہے اور اگر کر بھی دیتا ہے تو ان کو سخت گرفت میں بھی رکھتا ہے اور ہر بات پر جتنا ان کا امتحان لیا جاتا ہے اتنا کسی کا نہیں لیا جاتا۔

مثال کے طور پر، پاکستان کےمرد حضرات، جن میں کرکٹرز سے لے کرگانے والے اور اداکاری کرنے والے بھی شامل ہیں، سرحد پارگئے اور ان کو وہاں بہت عزت ملی اور ملتی رہی۔
شعیب ملک ہوں، عاطف اسلم ہوں، علی ظفر ہوں، فواد خان ہوں یا راحت فتح علی خان ہوں، سب کو ہندوستان میں لوگوں سے یا ہندوستانی لوگوں سے ملنے جلنے پر کسی پاکستانی مرد کی غیرت نہیں جاگتی اور نہ ہی حب الوطنی پر آنچ آئی۔

مگر ماہرہ خان کی شاہ رخ خان کے ساتھ فلم پر اور رنبیر کپور کے ساتھ تصویروں پر جتنا شور اور واویلا مچا اس کی مثال نہیں ملتی۔
فرض کریں اگر رنبیر کی جگہ ایک پاکستانی مرد اداکار ہوتا اور ماہرہ کی جگہ ایک انڈین اداکارہ۔ فیصلہ میں آپ پر چھوڑتی ہوں۔
کوئی بھی خاتون اگر ہراساں ہونے پر کوئی مثبت آواز اٹھاتی ہے تو ضروری ہے کہ اس کا ساتھ دیا جائے اور اس کی درست باتوں پر اس کی ہمت بڑھائی جائے، نہ کہ اس کو ڈھکے چھپے الفاظ میں ہنسی اور ٹھٹھے کا نشانہ بنایا جائے۔

ماہرہ خان نے بی بی سی کے انٹرویو میں کہا کہ وہ جو بھی پہنیں یا وہ جہاں بھی بیٹھی ہوں اس سے ان کو ہراساں نہیں کیا جا سکتا۔
ایک ضروری بات ہے جس کا سمجھنا بہت اہم ہے کہ عورت کی عزت، انسان کی عزت ہے اور ٹیلی ویژن یا فلم میں کام کرنے سے اداکارہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
عورت چاہے کہیں کسی گھر میں نماز پڑھ رہی ہو یا کسی ٹی وی چینل پر کوئی ٹاک شو کی میزبانی کر رہی ہو یا اداکاری کر رہی ہو، خواہ وہ کسی سکول میں پرنسپل ہو یا کسی لیب میں سائنسدان، چاہے وہ کسی گھر میں کام کرنے والی ملازمہ ہو یا کسی بڑے ادارے کی مالکن، عورت ہر حال میں عزت کی حقدار دار ہے۔

جیسے ماہرہ نے اپنی فلم کے ڈائیلاگ میں کہا ‘عورت بیوی، بہن، بیٹی سے الگ ایک مکمل انسان بھی ہے۔’