لاہور ہمیشہ لاہور رہے گا، اسے کچھ اور بننے کی خواہش نہیں ہے

کیا آپ کو معلوم ہے کہ لاہور دنیا کا پندرہواں بڑا شہر ہے، اس میں 460 تاریخی عمارتیں ہیں اور اس شہر میں ایک محلہ مولیاں ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ یہاں کبھی مہاتما بدھ آ کر ٹھہرے تھے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ لاہور میں کون سا مقبرہ ہے جسے سائپرس کا مقبرہ کہتے ہیں اور حضوری باغ کو طاقت کی سیٹ کیوں کہا جاتا تھا اور کیا انارکلی کے مقبرے کو کبھی گرجے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے؟

برطانیہ کے شہر کیمبرج میں لاہور کی تاریخ اور اس کی تاریخی عمارتوں کے تحفظ پر حال ہی میں منعقد کیے گئے ایک سمپوزیم میں ان باتوں کا ذکر ہوا۔
اس سمپوزیم کے روح رواں سر نکلس بیرنگٹن تھے جو پاکستان میں کئی برس سفارتکار رہ چکے ہیں اور لاہور سے خصوصی محبت رکھتے ہیں۔ سمپوزیم کو اینشئنٹ انڈیا اینڈ ایران ٹرسٹ نے یونیورسٹی آف کیمبرج کے سینٹر آف ساؤتھ ایشین سٹڈیز کے ساتھ مل کر منعقد کیا تھا۔

سر نکلس کا کہنا تھا کہ ‘لاہور ایک بڑا شہر ہے اور یہ جنوبی ایشیا کے ان شہروں میں سے ایک ہے جن میں تاریخی نوادرات کی سب سے زیادہ بہتات ہے۔ یہ بات برطانیہ میں آج کل لوگوں کو معلوم نہیں ہے کیونکہ وہ وہاں نہیں جاتے ہیں‘۔ یہ وہ وقت ہے جب لوگوں کو پاکستان کی خوبصورتی کے متعلق بتایا جائے اور لاہور چونکہ پاکستان کے بڑے مقامات میں سے ایک ہے اس لیے جتنا زیادہ لوگوں کو پتہ چلے اتنا ہی اچھا ہے۔

کیمبرج میں ولفسن کالج سے وابسطہ ڈاکٹر مجید شیخ پکے لاہوری ہیں۔ پاکستان کے انگریزی اخبار ڈان میں لاہور پر کالم لکھنے کے علاوہ لاہور پر کم از کم چار کتابیں اور کئی مقالے لکھ چکے ہیں۔
ان کی لاہور پر ایک نئی تھیوری ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ لاہور اس سے کہیں پرانا ہے جتنا کہ سمجھا جاتا ہے۔
مجید شیخ کے مطابق ’اس سمپوزیم سے ہم یہ حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ دنیا کہ ماہرینِ آثارِ قدیمہ، تاریخ دان، اور سکالرز کو یہ پتہ چلے گا کہ یہ شہر کتنا پرانا اور اہم شہر ہے اور صرف اس کے ارد گرد 460 تاریخی عمارتیں ہیں۔ دنیا میں کہیں بھی اتنی زیادہ تاریخی عمارتیں نہیں ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اب ضرورت ہے کہ ہم آثارِ قدیمہ کو استعمال کریں کیونکہ ہمارے پاس تاریخ کی کتابیں تو ہزار سال پرانی ہیں۔ ہم نے لاہور پر ہندوؤں کی کتاب مہا بھارت سمیت دیگر کتابیں پڑھی ہیں وہ فرضی کہانیاں ہیں‘۔

مجید شیخ نے بی بی سی کو بتایا ’جب برطانوی ماہرین نے 1959 میں یہاں کھدائی کی تو انھیں یہاں سے چار ہزار سال پرانے مٹی کے برتن ملے تھے۔ اسی طرح محلہ مولیاں میں 2900 سال پرانے نوادارات ملے۔ یہ وہ دور ہے جب ہڑپہ ختم ہو رہا تھا۔ تو یہ بالکل صاف ہے کہ لاہور یہاں پر شروع سے آباد ہے اور یہ ہڑپہ کے دور سے شروع ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں تاریخی عمارتوں کی دیکھ بھال ٹھیک طریقے سے نہیں کی جا رہی۔ ‘صرف لاہور کے قلعے میں 21 تاریخی عمارتیں ہیں جن کا برا حال ہے۔ کچھ پہ کام ہو رہا ہے لیکن پھر بھی یہاں بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً شیش محل کی چھت گر گئی تھی۔ ڈنمارک والوں نے پیسے دے کر اسے بچا لیا لیکن ابھی بھی حال بہت اچھا نہیں ہے‘۔

پاکستان میں تاریخی عمارتوں کے بارے میں انھوں نے مذید بتایا ’نو لکھا، دیوانِ خاص اور شاہی باورچی خانے کا حال برا ہے جسے آثارِ قدیمہ کے اصولوں کے خلاف نیا بنایا جا رہا ہے۔ کھڑک سنگھ کی حویلی کا حال دیکھ کر تو رونا آتا ہے۔‘

کیا صدیوں سے دریائے راوی کے کنارے اس قدیم شہر کو وہ اہمیت مل رہی ہے جتنی اسے ملنی چاہیے؟
برطانیہ کی باتھ سپا یونیورسٹی میں تاریخ پڑھانے والے پروفیسر افتخار ملک سمجھتے ہیں کہ برِصغیر میں ملتان اور لاہور کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان دونوں شہروں نے اس خطے کی تاریخ پر گہرا اثر ڈالا ہے۔

ملتان کی بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’ملتان کی لوکیشن ایسی تھی کہ وہاں افغانستان اور ایران دونوں سے ہی جایا جا سکتا تھا۔ اور یہ دوسرے دروں کی نسبت زیادہ محفوظ تھا۔ اور یہ پورا سال کھلا رہتا تھا۔ یہاں برف وغیرہ نہیں پڑتی تھی۔ یہ تجارت، تصوف اور فوج کشی کرنے والوں کے لیے کھلا رہتا تھا۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ سکندرِ اعظم کے زمانے میں یہاں لڑائی ہوتی ہے اور یہ وہ گزر گاہ ہے جہاں سے بدھ ، زرتشت اور اسلام جیسے مذاہب آتے ہیں اور پورے جنوبی ایشیا کو متاثر کرتے ہیں‘۔

وادی سندھ کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’پاکستان یا وادی سندھ جو جنوبی ایشیا کا مغربی علاقہ ہے اس میں زیادہ تر ثقافتی، فوجی اور سیاسی اثرات اور حملے مغرب کی طرف سے ہی ہوئے ہیں۔ ان کی گزرگاہ عموماً درے ہوا کرتے تھے جو کہ آج پاکستان، افغانستان اور ایران کی سرحدوں پر ہیں‘۔پروفیسر ملک نے لاہور کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا ‘میں سمجھتا ہوں کہ دہلی، لکھنؤ، یا جنوبی شہر دکن، حیدرآباد، پونا اور ممبئی سب نسبتاً نئے شہر ہیں۔ حتیٰ کہ دہلی بھی نیا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’چاہے وہ آریائی دور ہو یا سکندرِ اعظم کا زمانہ یا اس کے بعد کا ہندو شاہی دور جس کے بعد مسلمان آئے، تو ان سب زمانوں میں سب سے بڑا کمرشل، ثقافتی، تاریخی اور سیاسی شہر لاہور ہی تھا۔ ملتان کی ایک فوجی اہمیت تھی لیکن لاہور کی اہمیت کئی گنا ذیادہ تھی‘۔پروفیسر ملک کے مطابق ’سب سے پرانی ہندوؤں کی کتاب رگ ویدا میں بھی موجودہ پاکستان اور لاہور کا ذکر ہے اور اس وجہ سے میں سمجھتا ہوں کہ ہندو ازم، بدھ ازم، اسلام اور سکھ ازم کے حوالے سے اور برطانوی مشنریوں کے حوالے سے لاہور کے تاریخی اہمیت کا کوئی ثانی نہیں ہے‘۔

فقیر سید اعجاز الدین او بی ای بین الاقوامی طور پر جانے جانے والے آرٹ کے تاریخ دان ہیں۔ انھوں نے اب تک برِصغیر کی تاریخ اور اس کی ثقافت کے موضوعات پر 18 کے قریب کتابیں لکھی ہیں۔ وہ لاہور کی بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کھنڈر بتاتے ہیں کہ عمارت عظیم تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے ساتھ بہت زیادتیاں ہوئی ہیں۔ 1947 کی تقسیم اور اس کے بعد خاک و خون بھی اس صوبے کے ساتھ ایک زیادتی تھی۔انھوں نے حالیہ بریگزٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ذرا سوچیں ریڈ کلف جو کہ یہاں آیا ہی نہ ہو اسے پانچ ہفتے دیے جائیں کہ بریگزٹ کا معاہدہ کرے۔ انھوں نے کہا کہ لاہور کو کئی مرتبہ تباہ کیا گیا اور تعمیر کیا گیا، لوٹا گیا اور آباد کیا گیا اور پھر تعمیر کیا گیا۔

‘لاہور بقا کی ایک مثال ہے۔ لاہور کا حال اس کے ماضی کا ایک سلسلہ ہے۔ اس کے مستقبل نے ابھی شکل اختیار کرنی ہے۔ لاہور ہمیشہ لاہور رہے گا، اسے کچھ اور بننے کی خواہش نہیں ہے۔’
انہیں دکھ ہے کہ لاہور کی تاریخی عمارتیں کس طرح ایک ایک کر کے غائب ہو گئی ہیں۔
انھوں نے خصوصی طور پر حالیہ اورنج لائن منصوبے کا ذکر کیا کہ کس طرح یہ لاہور کے شالیمار باغ اور چوبرجی جیسی تاریخی عمارتوں کو براہ راست نقصان پہنچا رہا ہے۔
اسی خدشے کا اظہار ڈرہم یونیورسٹی کے پروفیسر رابن کوننگھم نے بھی کیا۔ پروفیسر رابن یونیسکو کے ثقافتی ورثے کے اس شعبے سے تعلق رکھتے ہیں جو پاکستان میں اورنج لائن پراجیکٹ کے آثارِ قدیمہ پر اثرات کی جانچ کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ اب عدالت میں ہے اس لیے وہ اس پر کوئی رائے نہیں دیں گے۔

لیکن انھوں نے سلائیڈز کی مدد سے یہ ضرور دکھایا کہ کس طرح شالیمار باغ کو اورنج لائن تباہ کر سکتی ہے بلکہ کئی ایک جگہ پر تو کر چکی ہے۔ اس کے تاریخی واٹر پمپوں میں سے اکثر کو بلڈوزروں کے ذریعے ملیا میٹ کر دیا گیا ہے اور باغ کو پانی پہنچانے والا صرف ایک پمپ بچا ہے۔ باغ کے سامنے صرف دو سو فٹ کی دوری پر اورنج لائن کی دونوں پڑیاں ایک دوسرے سے ملنے کو بے چین ہیں۔

بشپ ڈاکٹر مائیکل نذیر کو بھی گلہ تھا کہ اورنج لائن پراجیکٹ سے لاہور کی کئی تاریخ عمارتیں خصوصاً کیتھڈرل کا گرجا متاثر ہو رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ صرف کیتھڈرل ہی نہیں بلکہ کئی گرجے ہیں جن کا خیال اورنج لائن کی پلاننگ کے وقت نہیں رکھا گیا اور اب اس سے انھیں خطرہ ہے۔
اینڈمبر یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ ہلن برینڈ نے مغل فنِ تعمیر پر ایرانی اثرات کی بات کی کہ کس طرح وسعت، رنگ، باغات اور مقبروں کی تعمیر پر ایرانی مہر نظر آتی ہے۔
لندن کے سکول آف اوریئنٹل اینڈ ساؤتھ ایشین سٹڈیز کی ڈاکٹر مہرین شیدا رضوی نے شاہدرہ کے مقبروں کے کمپلیکس پر تحقیق کی ہے۔ ان مقبروں میں مغل بادشاہ جہانگیر، ان کی بیوی نور جہاں اور نور جہاں کے بھائی آصف جاہ کا مقبرہ شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نور جہاں کا مقبرہ جو ہمیں آج نظر آتا ہے یہ شاید شروع میں ایسا نہیں تھا۔ ’ہمیں اس وقت اینٹوں کا ایک برا سا ڈھانچہ نظر آ رہا ہے۔ اس کے باہر سے سب کچھ اتار لیا گیا ہے، ساری آزائش و تزئین اور مقبرے کے اندر سے بھی ڈیکوریشن آہستہ آہستہ گر رہی ہے‘۔

ڈاکٹر مہرین کے مطابق نے بتایا کہ ’ایک اور وجہ جو ان کے نسبتاً سادہ مقبرے کی ہو سکتی ہے وہ یہ ہے کہ جب وہ اپنا یا اور جہانگیر کا مقبرہ بنا رہی تھیں تو اس وقت ان کے بادشاہ کے دربار میں اس طرح کا اثر و رسوخ نہیں تھا جو کہ اس وقت تھا جب وہ ملکہ تھیں۔ وہ وہاں تقریباً جلا وطنی کی زندگی گزار رہی تھیں اور ان کا بجٹ بڑا محدود تھا۔ شاہ جہان نے انہیں دو لاکھ روپے سالانہ پینشن پر رکھا ہوا تھا۔‘

ان کے مطابق ’یہ مقبرہ 1628 سے 1645 کے درمیان بنایا گیا تھا۔ سکھ دور تک جو کہ 1760 کے بعد تھا اس مقبرے کو کافی نقصان پہنچ چکا تھا۔ اس مقبرے کی تباہی اور لوٹ مار کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ اس کے بعد بنائے جانے والے آصف خان کے مقبرے نے بھی اس مقبرے کے پلان میں رد و بدل کیا۔ اس کا بڑا تعلق نور جہان اور شاہ جہان کے آپس کے تعلقات سے تھا۔ وہ ان سے نفرت کرتا تھا کیونکہ وہ اپنے داماد کو بادشاہ بنانے کی خواہشمند تھیں‘۔

ڈاکٹر مہرین سمجھتی ہیں کہ ’گذشتہ بیس سال میں اس مقبرے کی مرمت تو کی گئی ہے لیکن اتنی بری طرح کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں سے کچھ حصہ کسی تاریخی عمارت کا نہیں بلکہ حال ہی میں بنایا گیا ہے۔ اور وہ آہستہ آہستہ گرنا شروع ہو گیا ہے کیونکہ کام بہت برا تھا اور کئی جگہ پر پتھر کی بجائے کنکریٹ لگایا گیا ہے۔ لیکن وہ بہت برا ہے۔’

یونیورسٹی آف لندن کے پروفیسر رابنسن نے اپنے بیانیے میں بتایا کہ لاہور کس طرح طاقت کا مرکز رہا ہے۔ طاقت کے سرچشمے حضوری باغ اور شاہدرہ سے لے کر شاعری اور لاہور کے گورنمنٹ کالج اور اسلامیہ کالج کے کرکٹ مقابلوں کا ذکر ہوا۔ لالہ امرناتھ سے لے کر اے ایچ کاردار تک اور فضل محمود سے لے کر خان محمد تک۔

لیکن دل اس پہ بہت خوش تھا کہ ایک ہال میں سو کے قریب انگریز لاہور کی ایک ایک عمارت اور اندرون شہر کے ایک ایک دروازے کا ذکر یوں کر رہے تھے جیسے وہ وہی پلے بڑھے ہیں۔