وردی پہننے والا کسی بھی مذہب کا ہو، وہ پاکستانی سپاہی ہوتا ہے‘

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کوئی بھی جب فوج میں آتا ہے اور وردی پہنتا ہے تو وہ صرف پاکستان سپاہی ہوتا ہے اس سے قطع نظر کے اس کا تعلق کس مذہب اور کس صوبے سے ہے۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان فوج ایک قومی ادارہ ہے اور اس میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے کہ پاکستان چونکہ مسلمان ملک ہے تو اسی مذہب کے لوگ ہی فوج میں شامل ہو سکتے ہیں۔
انھوں نے یہ بات حال ہی میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد اور رکن قومی اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے فوج میں احمدیوں کی بھرتی کے حوالے سے بیان کے تناظر میں ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہی۔

٭

٭

خیال رہے کہ گذشتہ منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر نے کہا تھا کہ پاکستان میں فوج سمیت کسی بھی محکمے میں اعلی عہدوں میں بیٹھے ہوئے احمدی ملک کے لیے خطرہ ہیں اس لیے اُنھیں فوری طور پر عہدوں سے ہٹا دینا چاہیے۔

کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ احمدی ملک کے لیے زہر قاتل ہیں۔
میجر جنرل آصف غفور نے کیپٹن صفدر کے اس بیان پر مزید کہا کہ ’اس وقت پاکستان فوج میں سکھ بھی ہیں، عیسائی بھی ہیں اور قادیانی بھی ہیں، اب یہ کہنا کہ پاکستانی فوج میں ان کی شمولیت بند کر دی جائے، یہ تو اب جو فیصلے کرنے والے ادارے ہیں کوئی قانون لے کر آئیں تو اس کے بعد کی بات ہے۔‘

انھوں مزید کہا کہ ’فوج میں جو مسلمان پاکستانی ہیں وہ جیسے کہ دیگر اداروں میں بھی ہوتا ہے کہ ایک سرٹیفیکٹ پر دستخط یا حلف اٹھاتے ہیں، ویسے ہی پاکستان فوج میں بھی ہر مسلمان افسر ایک سرٹیفیکٹ پر دستخط کرتا ہے جس میں وہ یہ کہتا ہے کہ میں احمدی نہیں ہوں اور ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہوں۔‘

’اسی حلف نامے پر میں نے بھی دستخط کیے ہیں اور شاید کیپٹن صاحب بھول گئے ہیں کہ انھوں نے بھی اس حلف نامے پر دستخط کیے ہیں۔‘
میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ’ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان فوج قومی اتحاد کی سب سے بہترین مثال ہے۔‘