حصولِ تعلیم کے لیے چنگچی پر پُرخطر سفر

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع خوشاب کی رہائشی طاہرہ ایک سال سے سکول نہیں گئیں۔ چھ سالہ طاہرہ کے سر سے جب ماں باپ کا سایہ اٹھا تو بھائیوں نے گھر سے دور واقع سکول بھیجنے سے انکار کر دیا۔
علاقے میں لڑکیوں کا ایک ہی سکول ہے جو پانچ کلومیٹر کی مسافت پر ہے، راستہ ہے لمبا اور جنگچی کا سفر خطرناک۔ تحصیل قائد آباد میں ہر دوسرے گھر کی یہی کہانی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے طاہرہ نے بتایا کہ اب وہ اپنے چچا کے بچوں کے ساتھ قریبی لڑکوں کے سکول میں پیدل جاتی ہیں۔
’میں پہلے انگریزی سکول میں پڑھتی تھی، میری دوستیں اب بھی وہیں پڑھتی ہیں۔ ہم سب سکول چنگچی پر جاتے تھے۔ ایک دن میری دوست چنگچی پر چڑھتے ہوئے نیچے گر گئی، بڑی مشکل سے ہم اسے اٹھا کر استاد صاحب کے پاس لے کر گئے۔ ہسپتال میں اس کو ماتھے پر چار ٹانکے بھی لگے۔ چنگچی سے تو ہر روز کوئی نہ کوئی گرتا ہے۔‘

ایک سال گھر رہنے کے بعد، طاہرہ دوبارہ پڑھیں گی ایک بوائز سکول میں۔ علاقے کے بزرگوں نے اس مسئلے کا عارضی حل نکالا ہے کہ گھر بٹھانے سے بہتر ہے کہ بچیوں کو قریبی بوائز سکول میں بھیج دیں۔ گورنمنٹ کے اس پرائمری سکول میں اب تقریباً سو طالب علم ہیں جن میں 50 فیصد تعداد بچیوں کی ہے۔

2015 میں پنجاب حکومت کی جانب سے کی گئی سکولوں کی مردم شماری کے مطابق خوشاب میں کل 1001 سرکاری سکول ہیں جن میں سے 379 بچیوں کے سکول ہیں۔ ضلع میں سکولوں کی تعداد تو شاید حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ہی ہو لیکن ان میں پڑھنے والی بچیوں کی تعداد دن بدن کم ہو رہی ہے۔

سکول دور ہیں اور کئی کلومیٹر کا سفر طے کرنے کا سستا اور آسان طریقہ ہے چنگچی کا استعمال۔ کچی پکی اور ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر چلتے ہوئے جب یہ موٹر سائیکل رکشہ یا جنگچی اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پاتے تو حادثہ ہوتے ایک پل بھی نہیں لگتا۔

حالات نے طاہرہ کو تو تعلیم حاصل کرنے کا ایک اور موقع تو دیا ہے لیکن ہر کوئی اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا۔ کہیں غربت تو کہیں سفری سہولیات کی کمی کے باعث، پاکستان میں لاکھوں بچیاں تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں۔

نمک کی فیکٹری میں دہاڑی پر کام کرنے والے احمد خان کی بچیاں صرف سکول جانے کے خواب ہی دیکھ سکتی ہیں۔ کنزہ اور ناہید کے والدین ان کے اکلوتے بھائی کو تو سکول بھیج رہے ہیں لیکن ان کی باری آتی ہے تو راستے اور سواری کے مسائل سر اٹھا لیتے ہیں۔

ان کی والدہ ارشاد بیگم کا کہنا ہے کہ گھر کے چنگچی سے بچے گر گئے تو علاج کیسے کروائیں گے۔ `میں اپنی بچیوں کو کیسے بھیج دوں ان جنگچیوں پر، ایک تو ہمارے پاس پیسے نہیں اور اگر یہ گر گئیں تو علاج اور دوائیوں کا خرچہ بھی ہو گا۔ کیسے بھیج دوں۔ یہاں قریب کوئی سکول بھی نہیں، علاقے کا پل بھی ٹوٹا ہوا ہے اور راستے بھی خراب ہیں۔`

قائد آباد کے گرلز سکول کی استانی مناہل علی کہتی ہیں کہ سکول آنے والی بچیوں کی تعداد ہر روز کم ہو رہی ہیں لیکن انکا نام سکول سے نہیں کاٹ سکتی کیونکہ حکومتی احکامات ہیں کہ حاضری پوری ہونے چاہیے۔

`گورنمنٹ کی ہدایات ہیں کہ آپ نے سو فیصد حاضری رکھنی ہے لیکن بہت سی بچیاں سکول ہی نہیں آرہیں۔ ظاہر ہے مسئلہ تو ہے، یہ چھوٹا علاقہ ہے ۔ سکول بھی کافی دور ہے اور بچوں کے گھر بھی۔ میرا خیال ہے حکومت کو ان حالات میں بچیوں کے سکول آنے کی لئے وین یا بس کی سہولت دینی چاہیے تاکہ وہ سکول تو آجائیں۔`

صرف قائد آباد ہی نہیں پنجاب کے متعدد شہروں میں سڑکوں اور سفری سہولیات کی یہی صورتحال ہے۔ ان علاقوں میں لڑکے تو سکول جانے کے لئے سائیکل یا موٹر سائیکل کا استعمال کر سکتے ہیں لیکن ان پچیوں کے پاس رکشوں اور جنگچیوں کے علاوہ کوئی ذریعہ نہیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اس معاملے پر فوری توجہ نہ دی تو انہیں مجبورا اپنی بچیوں کو مستقل طور پر سکول چھڑوانا پڑے گا۔