کمرہ عدالت میں اتنا زیادہ شور تھا کہ جج اُٹھ کر چلے گئے

جوڈیشل کمپلیکس میں واقع احتساب عدالت میں جمعے کو سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر پر فرد جرم عائد کی جانی تھی۔
سب تیاریاں مکمل تھیں۔ جوڈیشل کمپلیکس کے باہر سکیورٹی کے موثر اقدامات کیے گئے تھے۔ خاردار تاریں لگانے کے ساتھ ساتھ اسلام آباد پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کی خاصی تعداد موجود تھی جبکہ جوڈیشل کمپلیکس کے مرکزی دروازے پر پولیس کے کمانڈوز تعینات کیے گئے تھے۔

ساڑھے آٹھ بجے پولیس کے کنٹرول روم سے یہ اطلاع دی گئی کہ ’مہمان عدالت کی طرف روانہ ہو گئے ہیں‘ جس کے بعد حکام نے سکیورٹی اہلکاروں کو مزید الرٹ رہنے کا حکم دے دیا۔
احتساب عدالت کے جج کا عملہ اور ملزمان کے وکلا مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا انتظار کر رہے تھے کہ اچانک زور سے عدالت کا دروازہ کھلا اور ملزمان کے ساتھ ساتھ وکلا کی ایک بڑی تعداد بھی کمرۂ عدالت میں داخل ہو گئی۔

ان وکلا نے کمرے میں داخل ہونے کے بعد شور شرابا شروع کر دیا اور عدالتی عملے سے احتساب عدالت کے جج کو بلانے پر اصرار کیا۔
دس منٹ کے وقفے کے بعد جب جج محمد بشیر کمرۂ عدالت میں پہنچے تو وکلا نے انھیں بتایا کہ عدالتی حکم کے باوجود سکیورٹی اہلکاروں نے اُنھیں نہ صرف کمرہ عدالت میں داخل ہونے سے روکا بلکہ ان پر تشدد بھی کیا گیا۔

وکلا جج کو مخاطب کر کے کہہ رہے تھے کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیں۔ کمرہ عدالت میں ان وکلا کو بھی پیش کیا گیا جن پر اُن کے بقول پولیس اہلکاروں نے تشدد کیا تھا۔
اس دوران کمرۂ عدالت میں اتنا زیادہ شور تھا کہ جج عدالت سے اُٹھ کر چلے گئے اور ریفرینس کا سارا مواد اپنے چیمبر میں منگوا لیا۔
جج محمد بشیر نے اپنے چیمبر میں جا کر اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو اس واقعے کی تحقیقات کا حکم بھی دیا۔
ملزم کیپٹن محمد صفدر اور مریم نواز کو عدالت میں سامنے کی نشستوں پر بٹھایا جانا تھا تاہم جب وہ پہنچے تو وہاں پہلے سے ہی ایک شخص براجمان تھا جسے مخاطب کرتے ہوئے محمد صفدر نے پوچھا کہ ’تم آئی ایس آئی سے ہو یا ایم آئی سے؟‘۔

اس پر اُس اہلکار کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق اسلام آباد پولیس کی سپیشل برانچ سے ہے اور وہ صرف ان لوگوں کی نشست محفوظ رکھنے کے لیے وہاں بیٹھا ہے۔
جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پولیس اور وکلا کے درمیان جب ہاتھا پائی ہو رہی تھی تو داخلہ امور کے وزیر مملکت طلال چوہدری جوڈیشل کمپلیکس کے احاطے میں ہی موجود تھے لیکن اُنھوں نے نہ تو بیچ بچاؤ کرانے کی کوشش کی اور نہ ہی اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کو بچانے کی کوشش کی جن کی یونیفارمز وکلا نے پھاڑ دی تھی۔

عدالت کے اندر اور باہر پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کا فائدہ کسی اور کو ہو نا ہو لیکن نواز شریف اور ان کے خاندان کو ضرور ہوا ہے کیونکہ نہ تو ان پر فرد جرم عائد کی گئی اور نہ ہی نواز شریف کے ممکنہ طور پر وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا سکے کیونکہ گذشتہ سماعت کے دوران عدالت نے کہا تھا کہ نواز شریف آئندہ پیشی پر اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔

پولیس اہلکاروں کی طرف سے وکلا کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کے واقعے پر ابھی تک وکلا کی تنظیموں کی طرف سے مذمتی بیان سامنے نہیں آیا جس کی وجہ سے اس تاثر کو بھی تقویت مل رہی ہے کہ جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ہونے والا واقعہ حکومت کی منصوبہ بندی معلوم ہوتی ہے تاکہ مقدمے کی کارروائی کو آگے نہ چلنے دیا جائے تاہم حکومت اس الزام سے انکاری ہے۔