مغویوں کی بازیابی کے بعد امریکہ مضبوط شراکت داری کے لیے پرامید: میٹس

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے پاکستان سے غیر ملکی مغوی جوڑے کی رہائی کو مثبت اقدام قرار دیتے ہوئے مستقبل میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری کی امید ظاہر کی ہے۔
دوسری جانب اطلاعات کے مطابق جوشوا بوئل نے امریکی فوجی جہاز پر سوار ہونے سے انکار کر دیا تھا۔
جوشوا کے والد نے بتایا کہ’افغانستان میں امریکی اڈے بگرام سے وہ عسکری جہاز میں سوار نہیں ہونا چاہتے تھے چنانچہ انھوں نے پوچھا کہ کیا انھیں پاکستان میں اسلام آباد میں واقع کینیڈین ہائی کمیشن پہنچایا جا سکتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر وہ اپنی پہلی بیوی کے بارے میں فکرمند تھے جو گوانتانامو بے جیل کے ایک قیدی کی بہن ہیں۔

پاکستانی فوج نے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے علاقے میں ایک کارروائی کے دوران پانچ غیر ملکی مغویوں کو بازیاب کروایا ہے، جن میں کینیڈین شہری جوشوا بوئل،ان کی امریکی بیوی کیٹلن کولمین اور تین بچے شامل ہیں۔

ان افراد کو 2012 میں افغانستان میں اغوا کیا گیا تھا۔
رہائی پانے والے جوشوا بوئل نے اپنے والدین سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے اغوا کاروں کی جانب سے آخری الفاظ یہ سنے تھے کہ ‘مغویوں کو مار دو۔’
امریکہ کے وزیر دفاع جیمز میٹس اس بازیابی کے بارے میں کہا کہ ‘یہ بہت ہی مثبت اقدام ہے اور پاکستان کی فوج نے بہت اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔’
انھوں نے امید ظاہر کی کہ ‘اس سے اچھے مستقبل کی نوید ملتی ہے۔’
امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ‘ہم پاکستان کے ساتھ مل کر شراکت داری سے دہشت گردی اور اغوا کے خاتمے کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔’

پاکستان میں مغویوں کی رہائی کیسے ہوئی جیمز میٹس نے اس کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔
پاکستان کی فوج کے مطابق امریکی حکام نے 11 اکتوبر کو پاکستان کو خفیہ اطلاع دی تھی کہ ان مغویوں کو کرم ایجنسی کی سرحد کے ذریعے پاکستان منتقل کیا جا رہا ہے جس کے بعد کرم ایجنسی میں آپریشن کر کے انھیں بازیاب کروا لیا گیا۔

کینیڈین اخبار دی سٹار کے مطابق رہائی کے بعد جوشوا بوئل نے اسلام آباد سے اپنے والدین پیٹرک بوئل اور لینڈا سے فون پر بات کی۔
جوشوا بوئل کے والد پیٹرک بوئل نے اخبار دی سٹار کو اپنے بیٹے کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے بارے میں بتایا کہ ‘جب انھیں بازیاب کروایا گیا وہ اغوا کاروں کی گاڑی کی ڈکی میں تھے اور پاکستانی فورسز نے پانچ اغواکاروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

جوشوا بوئل نے اس آپریشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اغوا کاروں کی جانب سے آخری الفاظ یہ سنے تھے: ‘مغویوں کو مار دو۔’
والد پیٹرک بوئل کے مطابق ‘جوشوا کا کہنا تھا کہ ایک ایسا شخص جس نے پانچ سال ایک زیرزمین جیل میں گزارے ہوں اب میں بہت بہتر ہوں۔’
جوشوا نے اپنے والدین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘میرے خاندان نے گذشتہ پانچ سالوں میں جس دھوکہ دہی کا سامنا کیا ہے اس سے وہ نفسیاتی اور جسمانی طور پر بری طرح متاثر ہوئے ہیں لیکن وہ زندگی کو دوبارہ شروع کرنے جا رہے ہیں۔’