اسرائیل یونیسکو کی رکنیت چھوڑنے پر امریکہ کے ساتھ

امریکی حکام کی جانب سے اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کو ’اسرائیل مخلاف اور متعصب‘ قرار دینے کے بعد اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ بھی امریکہ کے ساتھ یونیسکو کی رکنیت سے دستبردار ہو جائے گا۔
ایک بیان کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین تین یاہوں نے امریکی فیصلے کو ’بہادرانہ اور اخلاقی‘ قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی ہے۔
یونیسکو کا کام کو شام کے پلمائرہ اور یو ایس گرینڈ کینن جیسے تاریخی مقامات کا بطور عالمی ثقافتی ورثا تعین کرنا ہے۔
اس سے قبل یونیسکو کی سربراہ ایرینا بوکووا نے امریکہ کے یونیسکو سے دستبرداری کے معاملے کو ’انتہائی افسوناک‘ قرار دیا تھا۔
تاہم ایرینا بوکووا نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ’حالیہ سالوں کے دوران تنظیم پر سیاست کافی بڑھی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس دستبرداری سے ’یو این فیملی‘ کو نقصان ہوا ہے۔‘
امریکہ کی یونیسکو سے دستبرداری آئندہ سال دسمبر 2018 سے عمل میں لائی جائے گی، تب تک امریکہ یونیسکو کا مکمل رکن رہے گا۔
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنی نمائندگی ختم کرنے کے لیے ایک آبزرور مشن تشکیل دے گا۔
اس امریکی اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی وزارت خارجہ سے کہا کہ وہ بھی یونیسکو سے رکنیت ختم کرنے کی تیاری شروع کر دے۔
یونیسکو کو متعصب قرار دینے کے ساتھ ساتھ امریکی محکمہ خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ یونیسکو پر بڑھتے ہوئے واجبات بھی باعث تشویش ہیں جنھیں ٹھیک کرنا چاہیے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اس فیصلے کی کڑیاں یونیسکو کے ان فیصلوں سے ملتی ہیں جن کے باعث امریکہ اور اسرائیل اس پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
اسرائیل نے گذشتہ سال اقوامِ متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کے ساتھ یہ الزام لگا کر تعاون منجمد کر دیا تھا کہ اس نے اسرائیل کے مقدس ترین مقامات کے ساتھ یہودیت کے تعلق کو رد کیا ہے۔