وائکنگز کی میتوں کے کفن پر اللہ‘ اور علی‘ کے الفاظ کیوں؟

سویڈین کے محققین کو وائکنگز کے دور میں تدفین کے لیے استعمال ہونے والے کپڑوں پر عربی حروف کڑھے ہوئے ملے ہیں۔
یہ کپڑے وائکنگز کی کشتیوں میں بنی قبروں سے ملے تھے۔
وائکنگز دراصل ڈنمارک، ناروے اور سویڈن کے علاقوں میں بسنے والے بحری قزاق تھے اور یورپی ساحلوں پر آنے والے جہازوں اور کشتیوں کو لوٹا کرتے تھے۔

صحافی طارق حسین کے مطابق اس دریافت کے بعد اسلام کے سکینڈینیویا پر ہونے والے اثر کے بارے میں نئے سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
یہ کپڑے 100 سال تک گودام میں رکھے گئے اور انھیں وائکنگز کے تدفین کے لیے استعمال ہونے والے کپڑوں کی روایتی مثال کے طور پر قبول نہیں کیا گیا۔
لیکن اب نویں اور دسویں صدی کی قبروں سے ملنے والے ان کپڑوں پر کی جانے والی تازہ تحقیق سے وائکنگز اور مسلم دنیا کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔
ان کپڑوں پر ریشم اور چاندی کے تاروں سے ’اللہ‘ اور ’علی‘ کے الفاظ کڑھے ہوئے ہیں۔
یہ کامیابی اپسلا یونیورسٹی میں کپڑوں کی ماہرِ آثارِ قدیمہ انیقہ لارسن کو ملی جب وہ مردوں اور عورتوں کی قبروں والی ان کشتیوں میں پائے جانے والے تدفین کے کپڑوں کی دوبارہ جانچ کر رہی تھیں۔
یہ قبریں سویڈن میں بِرکا اور گاملا اپسلا کے مقام پر 19ویں اور 20 ویں صدر کے درمیان کھدائی کے دوران ملی تھیں۔
انیقہ لارسن کو ان فراموش کر دیے جانے والے کپڑوں کے باقیات میں دلچسپی تب پیدا ہوئی جب انہیں پتا چلا کہ یہ کپڑا وسط ایشا، فارس اور چین سے آتا تھا۔
لارسن کے مطابق ایک چھوٹا سا ڈیزائن جو 1.5 سینٹی میٹر سے زیادہ نہیں وہ سکینڈینیویا میں کسی بھی چیز سے مماثلت نہیں رکھتا تھا۔ ’میں اس کو سمجھ نہیں سکی اور پھر مجھے یاد آیا کہ میں نے ایسے ہی ڈیزائن کہاں دیکھے تھے، سپین میں مورش ٹیکسٹائل پر۔‘

لارسن کو اس وقت احساس ہوا کہ وہ وائکنگز کے پیٹرن پر غور نہیں کر رہیں بلکہ یہ قدیم عربی کوفی رسم الخط ہے۔
دو الفاظ تھے جو بار بار دہرائے گئے تھے جن میں سے ایک لفظ انھیں ان کے ایرانی ساتھی نے بتایا کے یہ ’علی‘ ہے جو اسلام کے چوتھے خلیفہ کا نام ہے۔
لیکن علی کے ساتھ لکھے لفظ کو سمجھنا زیادہ مشکل تھا۔ اس پہیلی کو سلجھانے کے لیے انھوں نے ان الفاظ کو بڑا کر کے ان کا ہر زاویے سے مشاہدہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس لفظ کو آئینے میں دیکھنے پر اچانک مجھے پتہ چلا کہ یہ لفظ ’اللہ‘ لکھا ہے۔‘
لارسن کو اب تک 100 میں سے 10 کپڑوں پر یہ الفاظ مل چکے ہیں اور یہ ہمیشہ ایک ساتھ لکھے گئےہیں۔
اس نئی دریافت نے ان قبروں میں دفن لوگوں کے بارے میں دلچسپ سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’اس بات کو خراج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ بعض قبریں مسلمانوں کی ہیں۔‘
’ہم جانتے ہیں کہ وائکنگ کے دوسرے مقبروں سے حاصل ہونے والے ڈی این اے سے پتہ چلا تھا کہ یہ لوگ بنیاد طور پر فارس سے تعلق رکھتے تھے جہاں اسلام کا غلبہ تھا۔`
’تاہم اس نئی دریافت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وائکنگ کے ہاں تدفین کی رسومات پر اسلامی تصورات کا اثر رہا ہو جیسا کے موت کے بعد جنت کا تصور۔‘
لارسن کی ٹیم اب امیونولوجی، جینیٹکس اور پیتھالوجی کے شعبے کے ساتھ مل کر ان کپڑوں میں دفن لاشوں کے حقیقی جغرافیائی علاقے کا پتہ لگائے گی۔
وائکنگ اور مسلم دنیا میں تعلق تو کئی تاریخی بیانات اور نصف کرہ شمالی میں اسلامی سکّوں کی دریافت سے ظاہر ہوتا ہے۔
دو سال قبل برکا میں ایک خاتون کے مقبرے سے ملنے والی چاندی کی انگوٹھی کا مطالعہ کرنے پر پتہ چلا کہ اس پر بھی ’واللہ‘ کے الفاظ پتھر کے اندر کندہ تھے۔
اس میں بھی رسم الخط کوفی استعمال ہوا جو ساتویں صدر میں عراق کے علاقے کوفہ میں بنایا گیا۔
یہ قرآن تحریر کرنے کے لیے استعمال ہونے والے اوّلین رسم الخطوط میں سے ایک ہے۔
لارسن کی دریافت میں دلچسپ بات یہ ہے کہ سکینڈینیویا میں پہلی بار کسی قدیم چیز میں ’علی‘ لکھا پایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’علی کا نام اللہ کے نام کے ساتھ دہرایا گیا ہے۔‘
’میں جانتی ہوں کہ علی کا سب سے بڑا مسلم اقلیتی گروہ یعنی شیعہ بہت زیادہ احترام کرتے ہیں اور یہ حیران کن ہوگا اگر ان کا کوئی تعلق ہوا۔‘
لندن کے اسلامک کالج میں تعلیماتِ اسلامی کے پروگرام لیڈر عامر دی ماتینو کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ علی لفظ کا استعمال شیعت سے تعلق ظاہر کرتا ہے لیکن لفظ ’ولی اللہ‘ کے بغیر جس کے معنی اللہ کے نمائندے کے ہیں یہ شیعہ تہذیب کی مکمل نمائندگی نہیں کرتا۔ ممکن ہے کہ یہ کہیں سے غلطی سے نقل کر دیا گیا ہو۔‘

لارنس کو امید ہے کہ وہ مزید دریافتیں کرنے میں کامیاب ہوں گی۔
ان کا کہنا تھا ’ اب چونکہ میں وائکنگ کے ان نمونوں کو مختلف نظر سے دیکھ رہی ہوں اس لیے مجھے یقین ہے کہ مجھے کھدائی کے بعد وائکنگ کے ملنے والے کپڑوں کے دیگر باقیات میں بھی مزید اسلامی نقوش ملیں گے۔ ‘

’کون جانتا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ یہ کپڑوں کے علاوہ کسی فن پارے پر بھی ملیں۔`