سعودی عرب کے شیعہ اکثریتی شہر عوامیہ میںاب بظاہر امن تو ہے لیکن مستقبل غیر واضح‘

سعودی عرب میں تین ماہ تک جاری رہنے والی شدید جھڑپوں سے متاثرہ شیعہ اکثریتی علاقے عوامیہ کی جنگ زدہ دیواروں پر حکومت کے متنازع پرتعیش ولاز اور جدید رہائشی منصوبے کے پوسٹرز آویزاں ہیں۔
گو کہ مشرق وسطیٰ کے بحران کے دوران سعودی عرب کو اپنے ملک میں استحکام پر فخر ہے لیکن تیل کی دولت سے مالا مال صوبے قطیف کے علاقے عوامیہ میں حکومت کے خلاف احتجاج ہوا۔
٭

٭

مشرقی قصبے میں مسلح افراد اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان کئی ہفتوں جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد سینکڑوں افراد کو اپنا علاقہ چھوڑنا پڑا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس علاقے میں حکومتی افواج اور سعودی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے کے مابین لڑائی کے آثار نمایاں ہیں۔
عمارتوں کی بیرونی دیواروں پر گولیوں کے نشان ہیں اور گلیوں میں جلی ہوئی کاریں نظر آتی ہیں۔ دکانوں کے ٹوٹے ہوئے شٹرز میں سے اندر بکھرا ہوا سامان بھی اس علاقے میں ہونے والی لڑائی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

سعودی حکومت عوامیہ کے قدیم اور تاریخی پرانے حصے کو منہدم کر کے وہاں جدید طرز کے پرتعیش ولاز اور شاپنگ مال بنانا چاہتی ہے کیونکہ حکومت کے مطابق اس علاقے کی تنگ گلیوں میں’دہشت گرد’ پروان چڑھ رہے ہیں۔

حکومت نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو اُس علاقے تک رسائی دی۔ حکومتی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ لڑائی ‘شیعہ سنّی کی نہیں بلکہ یہ مسئلہ دہشت گردوں کا ہے۔ ہم شیعہ سنّی ہر کوئی جو ملک کے لیے خطرہ ہے وہ ہمارا ہدف ہے۔’

رواں سال اگست میں حکومت نے موساورا میں مسلح جنگجوؤں کے خلاف تین ماہ تک جاری رہنے والا آپریشن مکمل کرنے کا اعلان کیا۔
25 ہزار افراد پر مشتمل عوامیہ میں سنہ 2011 میں بہار عرب کے بعد کئی بار حالات خراب ہوئے، یہاں عوام کا کہنا ہے کہ شیعہ ہونے کی وجہ سے اُنھیں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔
سعودی عرب کی مجموعی آبادی میں 10 سے 15 فیصد آباد شیعہ ہے۔ عوامیہ معروف شیعہ عالم شیخ باقر النعمر کا آبائی علاقہ ہے جنھیں گذشتہ برس سعودی حکومت نے پھانسی دے دی تھی۔
لڑائی ختم ہونے کے بعد اپنے علاقے میں واپس آنے والے عوامیہ کے عمر رسیدہ رہائشی محمد علی آلشیوخ پرامید ہیں کہ عوامیہ کی شان و شوکت بحال ہو گی لیکن وہ کہتے ہیں کہ ‘ہم اب تھک چکے ہیں۔’
اس علاقے میں حالیہ آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کے اعداد وشمار سامنے نہیں آئے لیکن ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ صرف اگست میں سعودی اور غیر ملکی شہریوں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ سنہ 2011 سے اب تک قطیف میں ہونے والے آپریشنز میں 28 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
دوسری جانب حکومت قطیف کے قصبے مساوارہ میں جدید طرز کی رہائش کا اربوں ڈالر کا ترقیاتی منصوبہ شروع کرنا چاہتی ہے۔ اس قصبے کے میئر نے بتایا کہ نئی منصوبے کے تحت تعمیرات تین ماہ پہلے شروع ہونا تھیں لیکن اس لڑائی کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ ‘اس منصوبے کو مکمل کرنے میں دو سال کا عرصہ لگے گا۔’
میئر نے بتایا کہ مساوراہ میں 448 مکانات کو مسمار کیا جائے اور مالکان کو 80 کروڑ ڈالر زرتلافی ادا کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ نے مساوراہ کے قدیم طرز تعمیر کو ‘منفرد علاقائی ورثہ’ قرار دیا ہے۔
حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق عوامیہ کے رہائشی اپنے علاقے میں حکومتی سرمایہ کاری چاہتا ہیں لیکن اُن کا اصرار ہے کہ اُن کے ساتھ امتیاز سلوک ختم کیا جائے۔
عوامیہ کے ایک سرگرم کارکن نے کہا ہے کہ عوامیہ میں تناؤ تو ختم ہو گیا ہے لیکن مقامی رہائشیوں پر ‘حراست میں لینے اور ہراساں کیے جانے کی تلوارین لٹک رہی ہیں۔’
انھوں نے بتایا کہ ‘قصبے میں کئی سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں اور ابھی بھی چیک پوسٹ اور کنکریٹ کی دیواریں ہیں۔’
ان کا کہنا ہے کہ اس حصار سے کاشتکار اور ماہی گیر کو نقصان ہو رہا ہے اور یہاں اب بظاہر امن تو ہے لیکن مستقبل غیر واضح ہے۔