بلوچستان میں لاپتہ افراد کے اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے: جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال

لاپتہ افراد کے لیے قائم کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کے اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے۔
جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے بدھ کو ہی قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کے عہدے کا چارج سنبھالا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ‘شہریوں کے لاپتہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے کوئی فہرست پیش نہیں کر سکے، جبکہ ماما قدیر کا پچیس ہزار افراد کے لاپتہ ہونے کا دعویٰ جھوٹ پر مبنی تھا۔‘
نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے بدھ کو ہونے والے اجلاس میں لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ ’شہریوں کو بغیر کسی قانون کے حراست میں رکھنا ناقابل برداشت ہے۔‘

سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی تعداد سے متعلق فہرستوں کی حیثیت متنازع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیشن نے ‘جس طرح ماما قدیر سے براہ راست تنقیدی سوال کیے، اگر وہی سوال متعلقہ اداروں سے کیے جاتے تو آج صورتحال مختلف ہوتی’۔

انھوں نے کہا کہ کمیشن نے گذشتہ چھ سالوں میں ابھی تک کوئی ‘ابتدائی رپورٹ پیش نہیں کی، جس پر تشویش ہے’۔
فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ‘جب پارلیمان کارگل کے حوالے سے سوال پوچھے تو اسے حساس اور خفیہ قرار دیا جاتا ہے، آئی ایس آئی کے قانون سے متعلق سوال ہو تو اسے حساس اور خفیہ کہہ دیا جاتا ہے’۔
فرحت اللہ بابر کو جواب دیتے ہوئے جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ کمیٹی مسخ شدہ لاشوں کے حوالے سے بلوچستان ہائی کورٹ کے جج کی رپورٹ پبلک کرائے۔
حساس اداروں سے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’جب تک ثبوت نہ ہو حساس ادارے کے خلاف کاروائی نہیں کی جاسکتی۔‘
انھوں نے بتایا کہ ‘کوئی ملکی ایجنسی ایسی نہیں جو کمیٹی میں پیش نہ ہوئی ہو۔‘
جسٹس (ر) جاوید اقبال کے مطابق بازیاب ہونے والے افراد روایتی بیان کے علاوہ کسی کی نشاندہی کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔ ‘لاپتہ افراد ترجیح دیتے ہیں کہ خاموش رہیں’۔
اجلاس میں کمیٹی اراکین نے سفارشات پیش کیں کہ لاپتہ افراد کے لیے قائم عارضی سینٹرز میں موجود افراد سے متعلق اعداد و شمار اراکین کو بتائے جائیں، جبکہ کمیشن کو اتنا بااختیار بنایا جائے کہ وہ ذمہ داروں کا تعین کر سکے۔

جس پر جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سوال کیا کہ ذمہ داروں کے تعین کے بعد ان کے خلاف کارروائی کون کرے گا؟ جس پر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ‘یہ معاملہ آپ پارلیمان پر رہنے دیں’۔
سینیٹر فرحت اللہ بابر نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ کمیشن کی کارکردگی کا آڈٹ کیا جائے اور جبری گمشدگیوں جو جرم قرار دیتے ہوئے سزا اور کفارے کا نظام متعارف کرایا جائے۔
پاک ترک سکول کا لاہور میں سٹاف لاپتہ ہونے کے حوالے سے جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ یہ مسئلہ چند روز میں حل ہو جائے گا۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی سے متعلق سوال پر جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ وہ فی الحال لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی نہیں چھوڑ رہے۔ ’لاپتہ افراد کمیشن میں تین سال بہت محنت کی ہے، اس کی رپورٹ حتمی مرحلے میں ہے، اب اس رپورٹ کو انجام تک پہنچا کر ہی کمیشن کی سربراہی چھوڑوں گا۔‘

اسامہ بن لادن کمیشن سے متعلق پوچھے گئے سوال پر چیئرمین نیب نے کہا کہ انھوں نے ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ یہ رپورٹ پبلک کی جائے، اب حکام جانیں۔