پنجاب نہیں جاؤں گی: پی پی پی‘

سوشلستان میں ان دنوں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے لباس، اٹھنے بیٹھنے، اور مختلف مجالس میں سوال و جواب پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے ٹائی کیوں نہیں لگائی یا فلاں ملاقات میں وہ کرسی پر نہیں بیٹھے اور صوفے پر کیوں بیٹھے۔ اور یہ کہ نیویارک میں پاکستان کا سفارتی عملہ آخر کیوں وزیراعظم کے کوٹ پر لگا بیج نہیں اتار سکا جو ایرانی صدر کی ملاقات میں توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ لوگ وزیراعظم کی حاضر جوابی اور اپنے پیش رو کی نسبت میڈیا کا سامنا کرنے اور دنیا کے سامنے آنے کی تعریف بھی کر رہے ہیں۔

مگر اس ہفتے ہمارا موضوع یہ نہیں بلکہ ہم بات کریں گے لاہور کے حلقہ این اے 120 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی تمام تر بلند بانگ دعوؤں کے برعکس انتہائی مایوس کُن کارکردگی اور اس پر جماعت کے رہنماؤں کے بیانات پر سوشل میڈیا کے ردِ عمل کی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا آغاز 1967 میں جس شہر لاہور سے ہوا تھا پچاس سال بعد اسی شہر لاہور میں اس جماعت کی ایک بھی قومی یا صوبائی اسمبلی کی نشست نہیں۔
لاہور چھوڑیں پورے پنجاب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی تمام صوبائی اسمبلی کی نشستیں دونوں ہاتھوں کی انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں بلکہ دو انگلیاں فارغ بچ جائیں گی جبکہ قومی اسمبلی میں صرف تین نشستیں ہیں۔

اس پر جماعت کے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے دعووں پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید بلکہ طنز کیا جا رہا ہے۔
اور تو اور ہمایوں سعید نے اس موقع پر اپنی فلم ریلیز کر کے اس ساری مہم کو نعرہ بھی بخش دیا کہ پنجاب نہیں جاؤں گی: پی پی پی
یہ جملہ اینکر وسیم بادامی نے ٹویٹ کیا جسے ہزاروں ری ٹویٹس اور لائکس ملے۔
خرم محمود نے لکھا ’پیپلز پارٹی اپنے آپ کو پنجاب میں خود تباہ کیے جا رہی ہے اور اس کے رہنماؤں کی جانب سے بڑے پیمانے پر اگلے انتخابات سے قبل دوسری جماعتوں میں ہجرت کا سلسلہ یقینی ہے۔’
زرتاج گل وزیر نے لکھا پیپلز پارٹی کے امیدوار کو این اے 120 میں 1414 ووٹ ملے جس سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ اگلے انتخابات میں مقابلہ پی ٹی آئی اور ن لیگ میں ہو گا۔’
حسنین نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ ’پنجاب میں پی پی پی کا باقاعدہ سیاسی جنازہ پڑھ دیا گیا اور پنجاب سے پی پی پی فارغ ہو گئی ہے۔’
اس حوالے سے پی پی پی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری پر بھی شدید تنقید کی گئی۔ شمائلہ رحمان نے لکھا ’پی پی پی این 120 میں کہیں نہیں ہے۔ زرداری اینڈ کمپنی نے پی پی پی کا پنجاب سے صفایا کر دیا۔’
یہی بات اعجاز الحق نے بھی کہی کہ ’آصف علی زداری کی پارٹی پنجاب میں ختم ہو گئی ہے۔’
مگر فواد فیض نے سوال کیا کہ ’اس سب کی وجہ پی پی پی کو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں کھل کر سیاسی عمل میں حصہ لینے سے روکنا ہے۔’
رحمٰن اظہر نے تبصرہ کیا کہ ’پی پی پی کی پنجاب میں حیثیت کو ایک نشست کے ضمنی انتخاب پر جانچنا ناجائز ہے۔ وہ بھی ایسی نشست پر جو تیس سال سے اس سیاسی جماعت کی نہیں رہی۔’