مذہبی شخصیات کے پولیو مہم میں شمولیت کے مثبت اثرات

قاری نظام الدین گذشتہ سال سے کراچی کے علاقے اتحاد ٹاؤن میں چلائی جانے والی پولیو مہم کا حصہ ہیں۔ وہ پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم کے ساتھ گھر گھر جاتے ہیں اور ان والدین کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے سے انکاری ہیں۔

ان کا تعلق عالمی ادارہ صحت کی اس مہم سے ہے، جس کے تحت مذہبی علمائے دین کو پولیو کے قطرے پلانے کے فوائد سے آگاہ کرتے ہیں۔

اتحاد ٹاؤن کراچی کے پسماندہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں گندگی عام ہے، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، اور پینے کے پانی کی عدم دستیابی ہے۔
قاری نظام کہتے ہیں کہ اِنھی باتوں کو بنیاد بنا کر اکثر لوگ پولیو کی مہم پر سوال اٹھاتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ لوگ مسجد کے اِمام کو دیکھ کر بحث و مباحثے سے گُریز کرتے ہیں لیکن اپنے تحفظات کا اِظہار بھی کرتے ہیں۔

’مہم کے دوران زیادہ تر لوگوں کی شکایت ہوتی ہے کہ علاقے میں پینے کے پانی کا نظام درست نہیں، سڑکیں پچھلے 25 سال سے نہیں بنوائی جا رہیں، لیکن زور صرف پولیو کی مہم چلانے پر ہے۔ اِس طرح کی کئی شکایات ہمیں لوگوں کی طرف سے انکار کی صورت میں موصول ہوتی رہتی ہیں۔‘

صوبہ سندھ میں حالیہ دنوں میں پولیو کی چار روزہ مہم کا اختتام ہوا جس کے تحت 16 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جانے تھے۔ اِس مہم کا آغاز ستمبر کے شروع میں سامنے آنے والے ایک نئے پولیو کیس کی وجہ سے ہوا تھا۔

پولیو مہم میں درپیش رکاوٹوں میں سب سے بڑی رکاوٹ والدین کا اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کرنا ہے۔
کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں، پچھلے سال ایک ہزار لوگوں نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا تھا جبکہ حال ہی میں کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں پولیو کے کیس میں بھی یہی وجہ سامنے آئی ہے۔

علاقے میں کام کرنے والے ایک پولیو ورکر،عمر احمد، نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کے علاوہ ‘اتحاد ٹاؤن میں لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیو کی مہم امریکی سازش کا حصہ ہے، اس مہم کی آڑ میں مسلمانوں کی نسل کُشی کی جا رہی ہے اور اِس مہم سے وابستہ بیشتر افراد امریکی ڈالر ملنے کی وجہ سے اِس مہم کا حصّہ ہیں۔’

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکام اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے مذہبی جماعتوں اور مختلف مکتبۂ فکر کے علما کو پولیو مہم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
اِس مہم کے لیے فتاویٰ کی کتابیں شائع کروائی گئیں، جن میں دنیا بھر سے علمائے دین نے پولیو کے قطرے نہ دینے کے مضر اثرات بیان کیے۔
اتحاد ٹاؤن کی مہم کے لیے ڈبلیو ایچ او سے ساتھ منسلک، ڈاکٹر عمڈیکا نے کہا کہ مذہبی علما کی پولیو ٹیم میں شمولیت سے غیر سرکاری تنظیموں کا تاثر بہتر ہوا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ‘پہلے ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا لیکن اب لوگوں میں ہمارا اور دیگر اداروں کا تاثر قدرے بہتر ہوا ہے۔’

اس تاثر کی تصدیق اس سال کے اعداد و شمار بھی کرتے ہیں اور ٹاؤن ہیلتھ آفیسر بلدیہ ٹاؤن، ڈاکٹر محمد ایّوب نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ سال کے برعکس اِس سال زیادہ لوگوں نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوائے ہیں۔

‘اِن آٹھ مہینوں میں اب تک اتحاد ٹاؤن سے 404 ریفیوزلز (انکار) آئے ہیں جو کہ پچھلے سال کے ایک ہزار ریفیوزلز کے مقابلے میں کم ہیں لیکن اب بھی بہت کام کرنا باقی ہے۔’
قاری نظام الدین کو بھی مہم کے دوران عوام کے ایسے سوالات کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ غیرملکی ایجنڈا رکھتے ہوئے امریکی اداروں سے پیسے وصول کرتے ہیں جس پر ان کا کہنا تھا کہ ‘میں عالمی ادارۂ صحت سے منسلک ہوں۔ وہ مجھے جتنا دے دیتے ہیں میں قبول کر لیتا ہوں۔’

پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے پولیو نیشنل ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے نمائندے، ڈاکٹر رانا صفدر کا کہنا ہے کہ ‘مذہبی رہنماؤں کو عالمی ادارہ صحت کے نیشنل اسلامک ایڈوائزری پروگرام کے تحت پولیو مہم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اِس میں ان کو انتظامی اخراجات اٹھانے پر اُجرت دی جاتی ہے۔’