ورلڈ الیون کے اگلے دو سال تک آنے کا فیصلہ نہیں ہوا: آئی سی سی

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ رچرڈسن کا کہنا ہے کہ اگلے دو سال تک ورلڈ الیون کے پاکستان کے دوروں کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا تاہم یہ کوشش رہے گی کہ آئی سی سی کے رکن ممالک کی ٹیمیں پاکستان آکر کھیلیں۔

ڈیوڈ رچرڈسن نے یہ بات پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین نجم سیٹھی کے اس بیان کے تناظر میں کہی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ورلڈ الیون اگلے دو سال تک پاکستان کا دورہ کرے گی۔
ڈیوڈ رچرڈ سن نے بدھ کے روز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں نجم سیٹھی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس نے کہا کہ آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ سکیورٹی کو بہتر بنانے کے معاملے پر اخراجات برداشت کرنے پر رضامندی ظاہر کررکھی ہے تاہم اگلے دو برسوں میں ورلڈ الیون کے پاکستان کے دوروں کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

ڈیوڈ رچرڈسن کا کہنا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کے کچھ میچز پاکستان میں منعقد کرانے کے ساتھ ساتھ آئی سی سی کے رکن ممالک کی ٹیمیں پاکستان آئیں اور بین الاقوامی کرکٹ کھیلیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین نجم سیٹھی نے اس موقع پر کہا کہ مقصد یہی ہے کہ آئی سی سی یا دوسری غیرملکی ٹیموں کو پاکستان لایا جائے اور ورلڈ الیون کے اس دورے کے بعد امید کی جاسکتی ہے کہ کسی رکن ملک کی ٹیم پاکستان کا مکمل دورہ کرے گی۔

رچرڈسن نے ورلڈ الیون میں کسی انڈین کرکٹر کی غیرموجودگی کا سبب ان کی بین الاقوامی مصروفیات کے ساتھ ساتھ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات کو قراردیا۔
رچرڈسن نے پاک انڈیا کرکٹ نہ ہونے کے بارے میں کہا کہ دو طرفہ کرکٹ کا تعلق دونوں کرکٹ بورڈز سے ہوتا ہے ۔جہاں تک پاک انڈیا کرکٹ نہ ہونے کا تعلق ہے تواس وقت دونوں ملکوں کے تعلقات اچھے نہیں ہیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے انڈیا کی جانب سے نہ کھیلنے کا معاملہ آئی سی سی کی تنازعات سے متعلق کمیٹی میں اٹھایا ہے۔

رچرڈسن نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ آئی سی سی کا جھکاؤ یا حمایت انڈیا کی طرف زیادہ ہے تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ چونکہ انڈیا کرکٹ میں پیسے اور وہاں کے لوگوں کے غیرمعمولی شوق کی وجہ سے ایک بڑا ملک ہے لہذا آئی سی سی میں اس کی آواز بھی موثر ہے لیکن آئی سی سی میں تمام 12 رکن ممالک کی یکساں اہمیت ہے اور یہ کہنا غلط ہے کہ انڈیا کو کسی دوسرے ملک پر ترجیح دی جاتی ہے۔