نواز شریف اور بچوں کو نیب عدالت میں پیش ہونے کا حکم

قومی احتساب بیورو کی عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں کو 19 ستمبر کو عدالت میں پیش ہونے کا سمن جاری کیا ہے۔
نیب عدالت نے کہا ہے کہ آف شور کمپنیوں کے معاملے پر ان پر جو الزامات لگے ہیں ان کا جواب دینے کے لیے نواز شریف، حسن نواز اور حسین نواز کی عدالت میں موجودگی لازمی ہے۔
یہ سمن بیرونِ ملک قائم آف شور کمپنیوں کے کیس سے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ نیب نے احتساب عدالت میں العزیزیہ سٹیل مل اور لندن فلیٹ کے بارے میں بھی ریفرنس جمع کروائے تھے۔ نیب نے کہا ہے کہ احتساب عدالت کے رجسٹرار کی طرف سے ان ریفرنسوں میں کچھ خامیوں کی نشان دہی کی گئی تھی، جنھیں اب دور کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ عدالت کے رجسٹرار کے مطابق ان دونوں ریفرنسوں کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے، جس کے بعد یہ احتساب عدالت میں بھجوا دیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف بھی ریفرنس دائر ہے جو معلوم ذرائع آمدنی سے زیادہ اثاثے بنانے سے متعلق ہے، اور اس کی بھی جانچ پڑتال جاری ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل نواز شریف اور ان کے بیٹے ان ریفرنسوں کی تیاری کے سلسلے میں نیب کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے تھے اور ان کا موقف تھا کہ 28 جولائی کو نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے نیب کو ریفرنس بھیجنے کی ہدایات جاری کی تھیں اس لیے ان کے نیب کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

نواز شریف اور ان کے بچوں نے 28 جولائئ کے فیصلے سے متعلق نظرثانی کی درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ جب تک سپریم کورٹ نظرِ ثانی کی ان درخواستوں کا فیصلہ نہیں کرتی اس وقت تک نیب کے حکام کو ان کو ان ریفرنس پر مزید کارروائی سے روکا جائے۔