اک نظر وکٹ پر بھی

سنہ 2006 میں جب انڈین کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تو پہلے ٹیسٹ کے لیے وینیو لاہور ٹھہرا۔ پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور پہلے دن صرف دو وکٹیں گنوا کر سوا تین سو رنز جڑ دیے۔ یہ وہی میچ ہے جس میں یونس خان 199 رنز بنا کر رن آوٹ ہوئے تھے اور آفریدی نے ہربھجن کو ایک ہی اوور میں چار چھکے لگائے تھے۔

جب دوسرے دن کا کھیل ختم ہوا تو دو دن میں سات سو کے قریب رنز بن چکے تھے۔ جس پہ گریگ چیپل کو وہ فیصل آباد کی وکٹ یاد آ گئی جس سے سر پٹخ پٹخ کر تھک جانے کے بعد ڈینس للی نے کہا تھا کہ یہ وکٹ بولنگ کا قبرستان ہے۔ للی نے اگرچہ یہ بات 1980 میں فیصل آباد کے بارے کہی تھی مگر پاکستان کی وکٹوں کا مزاج ایسا سرد مہر ہے کہ 26 سال بعد للی ہی کے کپتان چیپل کو کچھ ویسا ہی لاہور کی وکٹ کے بارے کہنا پڑا۔

چلیے سنہ 2006 تو پھر پرانی بات رہی، ابھی کوئی ڈیڑھ سال پہلے ڈومیسٹک ٹی 20 ایونٹ کا فائنل دیکھنے کا اتفاق ہوا تو فیصل آباد کی وکٹ کی چال سے اس کرب کا صحیح اندازہ ہوا جس سے کبھی للی گزرے ہوں گے۔

مگر یہ قصہ صرف لاہور یا فیصل آباد تک ہی محدود نہیں، کراچی کے سوا پاکستان کی سبھی وکٹوں کا مزاج کچھ ایسا ہی ہے کہ دیکھ کر بلے بازوں کی رال ٹپکنے لگے اور فاسٹ بولر سر پیٹنے لگیں۔ رچرڈ ہیڈلی انہی وکٹوں کے مزاج کے ڈسے ہوئے تھے کہ اپنے کرئیر میں صرف ایک ہی بار پاکستان کا دورہ کیا، دوسری بار آنے کی تاب نہ رہی۔

اس میں پاکستان کا قصور ہرگز نہیں ہے کہ یہاں وکٹیں ہمیشہ سپن کے لیے ہی سازگار ہوتی ہیں۔ ہر خطے کی آب و ہوا الگ ہوتی ہے اور کون سی وکٹ کیسا رسپانس دے گی، یہ کنڈیشنز طے کرتی ہیں۔ ویسٹ انڈیز کی وکٹیں بھی پاکستان ہی کی طرح اپنی سست روی کے ہاتھوں بدنام ہیں۔

لیکن پاکستان کے خلاف گذشتہ ون ڈے سیریز میں ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ نے یہ فیصلہ کیا کہ وکٹ بنانے کے لیے گراونڈ کی مٹی کو استعمال نہ کیا جائے۔ وکٹ کی تیاری کے لیے خصوصی طور پہ مٹی امپورٹ کی گئی اور اس مٹی سے وکٹ تیار کی گئی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ گراونڈ جہاں پہلی اننگز کا اوسط ٹوٹل سوا دو سو کے لگ بھگ ہو کرتا تھا، وہیں پاکستان نے 308 رنز کر دیے۔ یہ اور بات کہ بعد میں ویسٹ انڈیز نے وہ ہدف حاصل کر کے تاریخ بھی رقم کر ڈالی۔

لیکن ہار جیت سے قطع نظر کرکٹ کو تو یہ فائدہ ہوا کہ ایک جان دار میچ دیکھنے کو ملا، وگرنہ وہ بھی روٹین کا ایک لو سکورنگ میچ ہوتا جہاں دوسری اننگز میں وکٹ ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن کا منظر پیش کر رہی ہوتی۔ کیونکہ اگر وکٹ جان دار ہو گی تو ہی بیٹنگ اور بولنگ کے مقابلے کا توازن برقرار رہے گا۔ اور یہی وہ توازن ہے جو کھیل میں شائقین کی دلچسپی کو برقرار رکھ سکتا ہے۔

ورلڈ الیون کے اس دورے کا مقصد دنیائے کرکٹ میں پاکستان کی شناخت کو بہتر بنانا ہے تا کہ پاکستان کا کرکٹ کلچر پھر سے جی اٹھے۔ لیکن مقصود فقط انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی نہیں ہے، غرض تو یہ ہے کہ کل کو جب کرکٹ بحال ہو جائے تو شائقین بھی گراونڈز میں لوٹ آئیں۔ سو جس طرح انٹرنیشنل کرکٹ کو واپس لانے کے لیے پاکستان اپنا سکیورٹی امیج بہتر کر رہا ہے، بعینہ شائقین کو گراونڈز تک کھینچ لانے کے لئے پاکستان کو اپنی وکٹوں کا امیج بہتر کرنا ہو گا۔

آج کے میچ میں وکٹ ٹی 20 کے اعتبار سے بری نہیں تھی، یہ کل سے بہتر تھی۔ اور کل کی وکٹ بھی اس وکٹ سے بدرجہا بہتر تھی جو پی ایس ایل فائنل کے لیے استعمال ہوئی تھی۔ کوشش یہ رہنی چاہیے کہ درجہ بدرجہ ان وکٹس میں بہتری آتی جائے تا کہ کل کلاں کوئی مچل سٹارک یا ڈیل سٹین یہ کہنے پہ مجبور نہ ہو کہ پاکستان کی وکٹیں بولنگ کے قبرستان ہیں۔ کرکٹ کا حسن فاسٹ بولنگ ہے اور بہتر وکٹوں پہ جب یہ حسن نکھر کر سامنے آتا ہے تو سٹیڈیم خود بخود بھرنے لگتے ہیں۔