ویمن کرکٹ ٹیم کو خاتون کوچ کی تلاش

انگلینڈ میں ہونے والے عالمی کپ میں پاکستان کی خواتین کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ اس ٹیم کے لیے ایک غیرملکی کوچ کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بات بین الصوبائی رابطے کے وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے قومی اسمبلی کو ایک سوال کے جواب میں بتائی۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ غیرملکی کوچ کون ہے جن سے بات ہو رہی ہے۔

تحریری سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ کرکٹ بورڈ ورلڈ کپ میں پاکستان کی خواتین ٹیم کی خراب کارکردگی جائزہ لے گا۔
تاہم ٹیم کا دفاع کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئی سی سی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں سات میں سے تین یا چار میچ جو اس نے جنوبی افریقہ، انڈیا، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے جیتنے کے قریب تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیم ملک میں دستیاب بہترین ٹیلنٹ پر مبنی تھی۔

ایک اور سوال کے جواب میں کہ کیا تین کھلاڑیوں کو وہاں پورے ٹورنامنٹ میں کھیلنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ محض دو کھلاڑی، وحیدہ اختر اور غلام فاطمہ کو سارے میچز نہیں کھیلائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسے کھلانا ہے اور کسی نہیں یہ ہیڈ کوچ، کپتان اور مینجر پر مبنی سلیکشن کمیٹی کا استحقاق ہوتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے غیرملکی کوچ کے حصول کے علاوہ نئے نوجوان باصلاحیت کھلاڑی تلاش کرنے کے لیے اگست میں پاکستان کے ایک درجن علاقوں میں ٹرائل منعقد کیے گئے۔
ان ٹرائلز میں سے پچھتر کھلاڑی منتخب کئے گئے ہیں جنھیں اب قومی نیشنل چیمپین شپ کے بعد تربیتی کیمپ میں رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ٹیم کے کھلاڑیوں کی اوسط عمر ستائیس سال ہے جسے ماہرین کے مطابق مزید نیچے لانا ہوگا۔

اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے چار اضلاع میں ورلڈ کپ کے فوراً بعد جولائی میں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام بھی منعقد کیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نشرع ساندھو، ڈیانہ بیگ اور وحیدہ اختر کو بین القوامی ایکپوزر دیا گیا ہے۔