وزیراعظم سے ایک ملاقات

اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع وزیر اعظم کے دفتر کی عمارت کا جاہ و جلال عہدے کے اعتبار سے یقیناً درست ہے۔ جو شخص آج کل اس دفتر کا دس ماہ کے لیے مکین ہے اس سے ہاتھ ملائیں تو کچھ ’وکھرا‘ ہی جلال محسوس ہوتا ہے۔

شاہد خاقان عباسی شاید پاکستان کے ان چند وزرائے اعظم میں سے ایک ہیں جن کا قد کاٹھ کئی لوگوں کو بونا ہونے کا شاید احساس کمتری دلا دے۔ لیکن جب یہ شخص پورے جوش و خروش کے ساتھ بے شک چند سیکنڈز کے لیے بھی ہاتھ ملائے تو اس کی گرمجوشی مکمل طور پر عیاں ہو جاتی ہے۔

اس محل نما دفتر کے سابق مکین نواز شریف کو ان کے ہمسائے سپریم کورٹ نے یہاں سے زبردستی بےدخل کر دیا۔ اس دوران اور آج کے وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں کوئی خاص فرق تو نہیں آیا۔ ہاں نئے وزیر اعظم کی ہدایات پر اب وہ کچھ ہو رہا ہے جو گذشتہ چار سال میں یہاں نہیں ہوا۔

پہلی مرتبہ گذشتہ روز غیرملکی صحافیوں یا میرے جیسے غیرملکی میڈیا کے لیے کام کرنے والے صحافیوں کو گپ شپ کے مدعو کیا گیا۔ نواز شریف دیگر کئی کاموں کی طرح شاید اس طرح کے ملاپ میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ ان کا اپنا ایک سینیئر صحافیوں کا گروہ ہے جن کے ساتھ سنا ہے وہ گپ شپ لگاتے تھے لیکن اس طرح قدرے فارمل طریقے سے نہیں۔ تقریباً ایک ماہ پرانے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے یہ تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی پرعزم میڈیا ٹیم کا کہنا ہے کہ ماہانہ بنیادوں پر یہ ایک باقاعدہ میل جول ہوگا۔ یہاں رپورٹروں کا وہ معروف جملہ استعمال نہیں کرنا چاہتا لیکن اس کے بغیر اور کوئی شاید جچے بھی نہ۔ ’آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ ایسا ہوتا ہے یا نہیں۔‘ ہمارے لیے یہ وقت شاید ایک ماہ ہے۔

وزیر اعظم کی آمد سے قبل سیکرٹریٹ کے اس کانفرنس روم میں جہاں غیرملکی صحافیوں کو جمع کیا گیا تھا ایک ملازم اگربتی یا نظر توڑنے والی دھونی لیے ہوئے سب کے گرد چکر لگا رہا تھا۔ پوچھنا چاہا کہ یہ کب سے یہاں ہو رہا ہے تو اس سے قبل ہی وہ صاحب دھونی لیے نکل دیئے۔

اس قسم کے رابطوں کے بارے میں صحافیوں سے مشورے بھی مانگے گئے۔ اکثر نے اس روایت کو اچھا مانا اور وزیر اعظم کی ٹیم کو یاد بھی دلایا کہ افغان طالبان کے امیر ملا منصور کی بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد دو روز تک حکومت ناپید تھی اور کوئی اس پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھا جس سے پاکستان نے اپنا موقف پیش کرنے کا اہم موقع ضائع کر دیا۔ ان تازہ رابطوں سے شاید اب اس کمی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ حکومتی ٹیم کی جانب سے وعدہ تو یہی ہوا۔

سب کو معلوم ہے کہ ابتدا میں تو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی محض 45 روز کے مہمان قرار پائے تھے لیکن اب انھیں پورے دس ماہ ملے ہیں۔ ان سے پوچھا کہ وہ کیا چاہیں گے ان دس ماہ کی ان کی وزارت عظمی کو وہ خود اور لوگ کس طرح یاد کرنا چاہیں گے؟ تو کچھ دیر وہ سوچ میں پڑ گئے پھر بولے: ’اگر میں اپنی ذمہ داری اچھی طرح نبھاہ دوں تو یہ میرے لیے بڑی کامیابی ہوگی۔ میری لیگسی یا میراث یہی ہوگی کہ میری جماعت اگلے انتخابات جیت لے۔‘