روہنگیا کے خلاف آپریشن نسل کشی کی واضح مثال‘ ہے: اقوامِ متحدہ

انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر زید بن رعد حسین نے کہا ہے کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کو سکیورٹی آپریشن میں نشانہ بنایا جانا ان کی نسل کشی کی ’واضح مثال ہے۔’
پیر کو جینیوا میں حقوق انسانی کمیشن کونسل میں روہنگیا کے بحران پر خطاب کرتے ہوئے زین بن رعد حسین نے میانمار کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ریاست رخائن میں جاری ’ظالمانہ ملٹری آپریشن‘ کو ختم کرے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ شروع ہونے تشدد کے نتیجے میں تین لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں نقل مکانی کر چکے ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں کو نشانہ نہیں بنا رہی بلکہ روہنگیا شدت پسندوں کے حملوں کا جواب دے رہی ہے۔
تشدد کی تازہ لہر کا آغاز 25 اگست کو اس وقت ہوا تھا جب روہنگیا شدت پسندوں نے شمالی رخائن میں پولیس کی چیک پوسٹس کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتجے میں 12 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔
میانمار چھوڑنے والے روہنگیا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ فوج ان کے خلاف پر تشدد مہم چلا رہی ہے ان کے گاؤں کو آگ لگا رہی ہے اور شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے تاکہ انھیں وہاں سے نکالا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر زید بن رعد حسین نے کہا کہ حالیہ آپریشن ’واضح طور پر غیر متناسب‘ ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس صورتحال کو پوری طرح دیکھا نہیں جا سکا کیونکہ میانمار نے انسانی حقوق کا جائزہ لینے والوں کو وہاں تک رسائی دینے سے انکار کیا ہے۔
تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے مختلف رپورٹس، سیٹلائیٹ سے لی گئی سکیورٹی فورسز اور لوکل ملیشیا کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ روہنگیا کے گاؤں کو آگ لگا رہے ہیں، ماورائے عدالت قتل کے مسلسل واقعات دیکھنے میں آئے اور ان میں بھاگتے ہوئے شہریوں کو گولی مارا جانا بھی شامل ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ حالیہ ملٹری آپریشن کو ختم کرے اور سب کے لیے احتساب ہو۔‘
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر زید نے روہنگیا پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے انڈیا کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔
’ایسے حالات میں جب انھيں اپنے ملک میں اس طرح کے سنگین تشدد کا سامنا ہے، انہیں انڈیا سے ملک بدر کرنے کے اقدامات کی میں مذمت کرتا ہوں۔‘
انڈیا میں کئی برس سے ہزاروں روہنگیا باشندوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ اس مہینے کے اوائل میں وزیر اعظم نریندر مودی کے میانمار کے دورے سے قبل انڈیا نے اعلان کیا تھا کہ وہ ان پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے جا رہا ہے۔

انڈیا میں اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پناہ گزین نے تقریباً 16 ہزار پناہ گزینوں کو شناختی کارڈ جاری کر رکھا ہے تاکہ انھیں ہرا‎ساں کیے جانے، غیر قانونی گرفتاری اور ان کی ملک بدری سے روکا جا سکے۔ حکومت ان کی تعداد چالیس ہزار بتاتی ہے۔

گذشتہ ہفتے داخلی امور کے جونئیر وزیر کرن ریجی جو نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پناہ گزینوں کا اقوام متحدہ کے ذریعے رجسٹریشن بے معنی ہے۔
’وہ ان کا اندراج کر رہے ہیں۔ ہم انہیں اس سے روک نہیں سکتے۔ لیکن ہم نے پناہ گزینوں کے عالمی معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا تھا ’ہمارے لیے سبھی روہنگیا غیر قانونی تارکین وطن ہیں۔ ان کے یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ہمارے یہاں جو بھی غیر قانونی تارکین وطن ہیں وہ سبھی ملک بدر کیے جائیں گے۔‘
انڈیا کی ہندو قوم پرست حکمراں جماعت بی جے پی کے بعض نظریہ ساز روہنگیا کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ بعض ہندو نواز مبصرین کا خیال ہے ان پناہ گزینوں کا تعلق جہادی اور عالمی دہشت گرد تنظیموں سے ہے۔بعض چینلوں پر بھی انہیں انتہا پسند عناصر کے طور پر دکھایا جا رہا ہے۔

روہنگیا پناہ گزین دہلی، جموں، جے پور اور بعض دوسرے شہروں میں چھوٹے چھوٹے کیمپوں میں مقیم ہیں۔ حکومتی اعلان کے بعد ان پناہ گزینوں میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ یہاں رہنے نہیں آئے ہیں وہ جان بچا کر یہاں تک پہنچے ہیں اور واپسی کے لیے اپنے ملک میں حالات سازگار ہونے اور اپنے حقوق کی بحالی کا انتظار کر رہے ہیں۔

تازہ رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش فرار ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد تین لاکھ تیرہ ہزار ہو گئی ہے اور انھیں خوراک، ادویات اور خیموں کی ضرورت ہے اور میسر سہولیات ناکافی ہیں۔
خیال رہے کہ ارکان روہنگیا سیلویشن آرمی (آرسا) نامی تنظیم نے میانمار کی فوج سے بھی کہا تھا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔
تاہم اتوار کو حکومتی ترجمان زا ہتے نے کہا ہے کہ میانمار ‘دہشت گردوں’ سے مذاکرات نہیں کرے گا۔
اس سے قبل بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس نے میانمار میں روہنگیا باغیوں کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کو ‘بڑی مثبت پیش رفت’ قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے متاثرین کی امداد کے لیے محفوظ رسائی مل سکے گی۔

میانمار کی آبادی کی اکثریت بدھ مت سے تعلق رکھتی ہے۔ میانمار میں ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ روہنگیا مسلمان ہیں. ان مسلمانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر ہیں۔ حکومت نے انھیں شہریت دینے سے انکار کر دیا ہے تاہم یہ یہ ميانمار میں کئی دہائیوں سے رہ رہے ہیں. ریاست رخائن میں 2012 سے فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے. اس تشدد میں بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیں گئی ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بےگھر ہوئے ہیں۔

بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمان آج بھی خستہ کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ انھیں وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک اور زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں روہنگیا بغیر دستاویزات کے بنگلہ دیش میں رہ رہے ہیں جو دہائیوں پہلے میانمار چھوڑ کر وہاں آئے تھے۔

تنظیم نے عینی شاہدین اور اپنے ماہرین کے حوالے سے کہا ہے کہ بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران کم از کم ایک شہری ہلاک اور دو بچوں سمیت تین افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔