ایپل نے اپنا جدید اور مہنگا ترین‘ آئی فون ایکس متعارف کروا دیا

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اپنے دس سال مکمل ہونے پر ‘ہوم بٹن ‘ کے بغیر اپنا نیا آئی فون متعارف کروایا ہے۔
اس نئے فون کو ‘آئی فون

‘ یا ’10’ کا نام دیا گیا ہے اور اس میں انگلیوں کے نشانات کے بجائے چہرے سے اس سے مالک کی پہچان کی سہولت متعارف کروائی گئی ہے۔

ایپل کا کہنا ہے کہ ‘فیس آئی ڈی’ اندھیرے میں بھی کام کر سکے گا کیونکہ اس میں موجود 30 ہزار انفراریڈ ڈاٹس شناخت کر سکتے ہیں، اور اس کو پرانے نظام ٹچ آئی کے مقابلے میں دھوکہ دینا زیادہ پیچیدہ عمل ہوگا۔

یہ اپیل کا مہنگا ترین فون ہے۔

64 گیگا بائٹس کے حامل ماڈل کی قیمت 999 امریکی ڈالر (برطانیہ میں 999 برطانوی پاؤنڈ) ہوگی اور اسے تین نومبر کو فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔ جبکہ 256 جی بی والے فون کی قیمت 1149 ڈالر (برطانیہ میں 1149 پاؤنڈ) ہوگی۔

دوسری جانب سام سنگ کے نئے نوٹ 8 فون کی قیمت 930 امریکی ڈالر (برطانیہ میں 869 پاؤنڈ) ہے، جس میں 64 جی بی ڈیٹا محفوظ کرنےکی سہولت موجود ہے۔
سی سی ایس انسائٹ کنسلٹنسی کے جیف بلیبر کہتے ہیں: ‘آئی فون ایکس ایپل کی جانب سے ایک طویل المدت سرمایہ کاری جو آئی فون ہارڈ ویئر کی نئی نسل کا خاکہ ہے۔’
‘او ایل ای ڈی ٹیکنالوجی (اوگینک لایٹ امٹنگ ڈیوڈ) ڈسپلے اور نیا ڈیزائن ہی ممکنا طور پر نئے آئی فون ماڈلز میں استعمال کیے جا سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ایپل کو اس کے مطلوبہ رسد کے چیلنج کا سب سے پہلے سامنا کرنا ہوگا۔’

ایک اور ماہر کا کہنا ہے کہ ایپل کی اپنے حریفین کے مقابلے میں اپنے صارفین کو سمارٹ فون پر زیادہ خرچ کرنے کی صلاحیت ‘مثالی’ ہے۔
سٹریٹیجی انیلیٹکس کے نیل موسٹن کہتے ہیں: ‘طلب کو قابو رکھنے کے لیے زیادہ قیمت کا پہلو ہو سکتا ہے اور یہ کہ ان کی پیداوار کتنی ہے۔’
وہ کہتے ہیں کہ ‘لیکن میرے خیال میں ایپل نے ہمیشہ 1000 ڈالر قیمت اپنے ذہن میں رکھی ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ایک سال بعد قیمت کم ہوتی ہے، اور ایک کمپنی جس کا تخمینہ ایک ٹریلین ڈالر ہونے والا ہے اس کے شیئر ہولڈرز کی جانب سے بھی دباؤ ہوتا ہے۔’

‘اپنی بہترین پروڈکٹ کی قیمت میں کمی اس کا ایک راستہ ہے۔’
‘فیس آئی ڈی’ کے علاوہ آئی فون ایکس کی بتائی گئی دیگر خصوصیات درج ذیل ہیں: