بلوچستان میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس سے ایک ہلاک، رواں ہفتے میں تیسرا حادثہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے دکی میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس کے باعث ایک اور کان کن ہلاک اور ایک زخمی ہو گیاا۔
بلوچستان میں پانچ روز کے دوران کوئلہ کانوں میں پیش آنے والا یہ تیسراواقعہ تھا جن میں اب تک آٹھ کان کن ہلاک ہو چکے ہیں۔

دکی میں پولیس کے اہلکار نے بتایا کہ اخترزئی کے علاقے میں کوئلے کی ایک کان میں زہریلی گیس بھر گئی۔ گیس کے باعث کان میں کام کرنے والے دو کان کنوں میں سے ایک ہلاک اور دوسرا بے ہوش ہوگیا۔
پولیس اہلکار کے مطابق دونوں کان کنوں کا تعلق افغانستان سے ہے۔
گزشتہ روز ہرنائی کے علاقے ہزارہ ڈمب میں ایک کان میں زہریلی گیس کے باعث تین کان کن ہلاک ہوئے تھے ۔
اس سے قبل 8ستمبر کو کوئٹہ کے قریب سورینج کے علاقے میں بھی ایک کان میں زہریلی گیس کی وجہ سے چار کان کن ہلاک اور دو بے ہوش ہوگئے تھے ۔
دیگر صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان میں کوئلے کی کان کنی سب سے بڑی صنعت ہے ۔
کوئلے کی زیادہ تر کانیں کوئٹہ ، کچھی، ہرنائی اور لورالائی کے اضلاع میں ہیں۔
بلوچستان کے کوئلہ کانوں میں حادثات تسلسل کے ساتھ پیش آرہے ہیں ۔
کول مائنز لیبر فیڈریشن بلوچستان کے صدر بخت نواب کا کہنا ہے کہ کانوں میں تحفظ کے لیے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ان میں آئے روز حادثات پیش آرہے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ کانوں کے اندر ہوا کا مناسب انتظام نہیں کیا جاتا جس کے باعث کان کن کان کے اندر دم گھٹ کر ہلاک ہوتے ہیں یا گیس جمع ہونے کی وجہ سے کانوں میں دھماکوں میں وہ اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔

بخت نواب نے دعویٰ کیا کہ بعض کانیں رجسٹرڈ بھی نہیں ہیں۔’ بعض کانوں کے مالکان اتنے بااثر ہوتے ہیں کہ ان کی کانیں نو گو ایریاز ہیں اور وہاں کوئی بھی سرکاری اہلکار معائنے کے لیے نہیں جا سکتا۔’
ان کا کہنا تھا کہ کانوں میں مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال 80 کے قریب کان کن ہلاک ہوتے ہیں۔
مزدور رہنما لالہ سلطان نے بلوچستان میں کوئلہ کانوں میں حادثات زیادہ ہونے کی ایک اور وجہ ٹھیکیداری نظام کو قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کے نام کانیں الاٹ ہوتیں ہیں وہ بعد میں ان کو ٹھیکیداروں کے حوالے کرتے ہیں ۔
لالہ سلطان نے بتایا کہ ٹھیکیدار اپنے آپ کو حفاظتی انتظامات کرنے سے مبرا سمجھتے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئلہ کانوں میں حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا انسپیکٹوریٹ آف مائنز کی ہے لیکن وہ ان کو یقینی بنانے میں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی ۔
چیف انسپیکٹر آف مائنز افتخار احمد نے بتایا کہ عید الاضحیٰ کے بعد کان کنوں کی ہلاکت میں اضافے کی ایک وجہ کان کنوں کی اپنی جلد بازی بھی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ جب مائنز کچھ دنوں کے لیے بند ہوتے ہیں توان میں گیس جمع ہوتا ہے۔’ اس صورتحال میں یہ لازمی ہوتا ہے کہ کان میں جانے سے پہلے اس کا معائنہ کرایا جائے مگر کان کن لاعلمی یا جلد بازی کی وجہ سے یہ معائنہ نہیں کراتے ہیں۔’

افتخار احمد نے دعویٰ کیا کہ جہاں بھی کانیں ہیں وہاں کانوں کے معائنے کے لیے محمکمے کے اہلکار موجود ہوتے ہیں ۔
چیف انسپیکٹوریٹ آف مائنز نے بتایا کہ جن کانوں میں حفاظتی اقدامات کو یقینی نہیں بنایا جاتا ہے ان کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ سورینج میں پیش آنے والے واقعہ کے بارے میں کورٹ آف انکوائری قائم کی گئی ہے جبکہ باقی حادثات کے بارے میں بھی تحقیقات کی جائے گی ۔