پاکستان کا کرکٹ کلچر پھر سے سانس لے رہا ہے‘

پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان نے 20 اوورز میں 197 رنز بنائے۔ جس کے جواب میں ورلڈ الیون سات وکٹوں کے نقصان پہ صرف 177 رنز بنا سکی اور پاکستان نے تین میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی۔

52 گیندوں پہ 86 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے والے بابر اعظم مین آف دی میچ قرار پائے۔
یہ ہے وہ میچ رپورٹ جو کرکٹ کی ریکارڈ بکس میں لکھی جائے گی۔ خالصتاً کھیل کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس میچ میں کچھ بھی ایسا نہیں ہوا کہ سالوں یاد رکھا جا سکے۔ واحد اہم بات یہ ہے کہ سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد آٹھ سال میں یہ عالمی کرکٹ برادری کی جانب سے پاکستان کرکٹ کی پہلی باقاعدہ امداد تھی۔ اس سے پہلے زمبابوے کا دورہ اور پی ایس ایل فائنل صرف پی سی بی کی کاوشیں ہی تھیں، کرکٹ برادری نے ان کاوشوں میں کسی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا تھا۔

لیکن اس کے باوجود یہ میچ پاکستان کرکٹ کے لیے ایک تاریخی سنگ میل کے طور پہ یاد رکھا جائے گا۔ فی الوقت سوال صرف یہ ہے کہ کیا اس تاریخی سنگ میل سے پاکستان نے واقعتاً کچھ حاصل بھی کیا؟
قذافی سٹیڈیم کی نشستوں پہ نظر ڈالی جائے تو جس جوش و خروش کی توقع تھی، وہ ہمیں نظر نہیں آیا۔ شاید سکیورٹی حصار میں گھنٹوں قطار اندر قطار چلنے کی دقت تھی یا ٹکٹوں کی قیمتیں آڑے آئیں یا پھر شیڈولنگ ایسی تھی کہ ہاؤس فل نہ ہو سکا۔ اگر یہی میچ معمول کے کاروباری ایام کی بجائے ہفتہ وار چھٹیوں میں شیڈول کیا گیا ہوتا تو یقیناً کراؤڈ زیادہ جان دار ہو سکتا تھا۔

بہرحال یہ میچ یاد تو ہر صورت رکھا ہی جائے گا۔ لیکن یہ سوال بدستور اپنی جگہ موجود ہے کہ اس سے پاکستان کرکٹ کو حاصل کیا ہوا۔ اس کا جواب ہمیں میچ رپورٹ میں شاید نہ مل سکے۔ اس کے لیے ہمیں چند لمحات میں جھانک کر دیکھنا ہو گا۔

قذافی سٹیڈیم کے ایک سستے سے سٹینڈ میں ایک ادھیڑ عمر شخص پاکستان کا پرچم اٹھائے کھڑا ہے۔ اس کا چہرہ پسینے سے تر ہے۔ وہ مسلسل پرچم کو لہرا رہا ہے اور ہونٹ ہل رہے ہیں۔ کراؤڈ کے شور میں یہ سننا محال ہے کہ وہ کیا بول رہا ہے مگر قرائن یہی بتاتے ہیں کہ وہ گرما گرم نعروں سے اپنی ٹیم کی ہمت بندھا رہا ہے۔

سامنے شاداب خان بولنگ کر رہے ہیں۔ ڈیوڈ ملر ان کا سامنا کر رہے ہیں۔ شاداب خان ان نہایت خوش بخت لوگوں میں سے ہیں جنھیں کرئیر کے آغاز میں ہی ’ہیروازم‘ عطا ہو جاتا ہے۔ ڈیبیو سیریز پہ ہی مین آف دی سیریز کا ایوارڈ لے اڑے اور کیرئیر کے دوسرے ہی مہینے چیمپئینز ٹرافی کے فاتحین میں کھڑے تھے۔

لیکن شاداب خان نے ابھی تک اپنے ہوم گراونڈ پہ کوئی انٹرنیشنل میچ نہیں کھیلا ہے۔
آج شاداب خان پہلی بار اپنے ملک میں، اپنے کراؤڈ کے سامنے کھیل رہے ہیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ ڈیوڈ ملر ٹی 20 کے ایک خطرناک بیٹسمین ہیں لیکن شاداب بھی ٹی 20 کے بہترین بولر ہیں۔
شاداب آئے، گیند پھینکی، ملر کریز سے نکلے، فرنٹ فٹ کو کلئیر کیا اور سیدھے بلے سے گیند کو لانگ آن کے اوپر اچھال دیا۔ یہ ایک گگلی تھی لیکن ملر نے لائن کو پہلے ہی بھانپ لیا تھا اور پلک جھپکتے میں گیند باؤنڈری کے پار جا گری۔ سرفراز خاصے مایوس دکھائی دے رہے ہیں۔ ملر ایک فاتح کی طرح گرانٹ ایلیٹ کی جانب جا رہے ہیں۔ شاداب سر جھکائے بولنگ مارک کو جا رہے ہیں۔

کراؤڈ میں پرچم تھامے ادھیڑ عمر شخص کی پیشانی پہ فکر کے آثار نمایاں ہیں۔ پرچم لہرا رہا ہے۔ زبان بھی مصروف ہے، مگر اب معاملہ شاید نعروں سے نکل کر دعاؤں تک جا چکا ہے۔
شاداب سر جھکائے بولنگ مارک پہ آتے ہیں، اگلی گیند کے لیے تیار ہوتے ہیں، ملر کسی معافی تلافی کے موڈ میں نہیں ہیں۔ شاداب نے ایک بار پھر قریب اسی لینتھ پہ ایک اور گگلی پھینکی، ملر ایک بار پھر کریز سے باہر نکلے، ایک بار پھر بلا پوری طاقت سے گھوما۔

مگر اس بار ملر گیند کی لائن نہ بھانپ سکے۔ گیند بلے کے پاس سے گزر کر سرفراز کے ہاتھوں میں گئی اور ملر کے پلٹنے سے پہلے ہی سرفراز ان کا کام تمام کر چکے تھے۔
شاداب جوش سے ہوا میں اچھلے، مکا لہرایا، آسمان کی طرف دیکھا اور پھر پاس سے گزرتے ملر کی جانب دیکھ کر اپنے جذبات کا بھرپور اظہار کیا، سرفراز دوڑتے ہوئے آئے اور شاداب کو گلے لگایا۔ کراؤڈ کا شور اٹھا اور ملر سر جھکائے پویلین روانہ ہوئے۔

قذافی کے اس سستے سے سٹینڈ میں کھڑے ادھیڑ عمر شخص کے چہرے پہ اب کوئی فکر نہیں ہے، پاکستان کا پرچم لہرا رہا ہے، اس کے ہونٹ ہل رہے ہیں، مگر اب بات دعاوں سے پلٹ کر پھر نعروں تک آ پہنچی ہے۔
ایسا لگتا ہے پاکستان کا کرکٹ کلچر پھر سے سانس لے رہا ہے۔