اٹلی کے شمالی شہر بولزانو میں پارکوں میں کرکٹ کھیلنے پر پابندی

اٹلی کے شمالی شہر بولزانو کے میئرنے شہر کے پارکوں میں کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کر دی ہے، یہ اعلان ایک دو سالہ بچے کے سر پر گیند لگنے کے واقعے کے بعد کیا گیا ہے۔
وہ بچہ اپنے گھر کی بالکونی میں تھا جب اسے گیند لگی اور اب ہوش میں ہے۔ جہاں کرکٹ کھیلی جارہی وہ اس جگہ سے 100 میٹر کے فاصلے پر تھا۔
اٹلی میں رہنے والے پاکستانی اور افغان کرکٹ کھیلنا پسند کرتے ہیں تاہم اطالویوں کی اس کھیل میں بہت کم دلچسپی ہے۔
بولزانو میں اب کرکٹ کا کھیل ٹینس کورٹس اور بیس بال کے میدانوں تک محدود کیا جا رہا ہے۔
میئر رنزو کرامچی کا کہنا ہے کہ اس پابندی کے اطلاق کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب انھیں ایک جوڑے کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی کہ کرکٹ گیند لگنے سے ان کا بچہ زخمی ہوگیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ہی پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں کے ساتھ حالات کا جائزہ لیں گے۔
اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا کے مطابق ایک اور شمالی شہر بریسشیا نے سنہ 2009 میں عوامی مقامات پر کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کی تھی۔
خیال رہے کہ الٹو ایڈیج بولزانو میں زیادہ تر جرمن زبان بولنے والے افراد رہتے ہیں اور اس کی سرحد آسٹریا سے ملتی ہے جبکہ شہر کے میئر کا تعلق سیاسی طور پر سینٹر لیفٹ سے ہے اور وہ کسی بھی امیگریشن مخالف جماعت کا حصہ نہیں ہیں۔

اکتوبر 2015 میں آلٹو ایڈیج کی مقامی ویب سائٹ نے بتایا تھا کہ بولزانو میں 900 پاکستانی مقیم ہیں جبکہ علاقے میں ان کی کل تعداد 3000 ہے جبکہ افغان شہریوں کی تعداد بالتریب 100 اور 300 ہے۔