فلوریڈا میں طوفان، 65 لاکھ مکانوں کی بجلی منقطع

امریکہ کی جنوب مشرقی ریاست فلوریڈا میں حکام کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان ارما کے سبب تقریبا65 لاکھ گھروں میں بجلی منقطع ہے۔
ریاست میں امدادی کارروائیاں جاری ہے اور انجینیئر بجلی بحالی کرنے میں مصروف ہیں۔ تاہم بہت سے علاقے دوسرے حصوں سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔
خیال رہے کہ چوتھے درجے کے سمندری طوفان کے سبب فلوریڈا کے جزائر کے مجموعے کیز اور اس کے مغربی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
٭

٭

طوفان ارما اتور کو فلوریڈا سے ٹکرایا تھا اور پھر منگل کی صبح سے اُس کی رفتار کم ہو گئی ہے۔
نیشنل ہریکین سینٹر (این ایچ سی) نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ شمال میں اٹلانٹا کی جانب جاتے ہوئے اس کی رفتار صرف 56 کلومیٹر فی گھنٹہ رہ گئی ہے۔
این ایچ سی نے مزید کہا ہے کہ جنوب مشرقی ریاست میں شدید بارش جاری رہے گی لیکن طوفان کے تمام انتباہ ہٹا لیے گئے ہیں۔
ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان ارما کے سبب ریاست میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے ہیں گئی جبکہ گذشتہ ہفتے کیریبیئن جزائر میں اس سے 37 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
وائٹ ہاؤس میں ہوم لینڈ سکیورٹی کے مشیر ٹام بوسرٹ نے کہا کہ فلوریڈا کیز کے رہائیشیوں کو اپنے گھروں میں جانے میں ابھی وقت لگے گا۔
انھوں نے کہا: ‘میرے خیال سے کیز کئی ہفتوں تک عام شہریوں کے داخلے کے لائق نہیں ہوگا۔’
فلوریڈا کے گورنر رک سکاٹ نے علاقے کا فضائی جائزہ لینے کے بعد کہا: ‘ریاست بھر میں بجلی منقطع ہے۔ ناقابل گزر راستے ہیں۔ اس لیے جب تک ہم کام پورا کریں لوگ صبر کا مظاہرہ کریں۔’
کیز کے جزائر فلوریڈا کی سرزمین سے کٹے ہوئے ہیں اور ان کو منسلک کرنے والے 42 پلوں کو پیش آنے والے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دس ہزار افراد نے طوفان میں وہیں رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔
گو کہ میامی خراب ترین صورت حال سے محفوظ رہا لیکن اس کا بڑا حصہ اب بھی زیر آب ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہوا نے بجلی کے تاروں کو اکھاڑ دیا ہے جبکہ 72 فیصد گھر بغیر بجلی کے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا کے لیے وفاقی ہنگامی امداد کا اعلان کیا ہے اور طوفان کو ‘بڑی آفت’ قرار دیا ہے۔