دولتِ اسلامیہ کے غیر ملکی جنگجوؤں کی بیویاں اور بچے عراقی حکومت کی تحویل میں

عراقی حکام اور امدادی کارکنوں کے مطابق شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے مشتبہ جنگجوؤں کے 1300 سے زیادہ غیر ملکی رشتہ داروں کو عراق کے ایک کیمپ میں رکھا گیا ہے۔
ان میں زیادہ ترتعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ حکام کے مطابق بے گھر لوگوں کے کیمپ میں رکھے گئے شدت پسندوں کے اہلِ خانہ کا تعلق کم از کم تیرہ مختلف ممالک سے ہے۔
شدت پسندوں کے اہلِ خانہ گزشتہ ماہ سرکاری افواج کی جانب سے تل افرار پر قبضے کے بعد وہاں سے کیمپ میں منتقل ہوئے تھے۔
کیمپ میں امدادی سرگرمیاں کرنے والے ناروے کے فلاحی ادارے ’ دی رفیوجی کونسل‘ کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو ایک طرح سے حراست میں رکھا گیا ہے۔
عراقی حکام کہ مطابق قوی امکان یہ ہی ہے کہ ان لوگوں کو ان کے اپنے ممالک واپس بھیج دیا جائے گا۔
خیال رہے کہ سنہ 2014 میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی جانب سے عراق اور شام کے کچھ علاقوں میں خلافت کے قیام کا جب اعلان کیا گیا تو ہزاروں غیر ملکی شدت پسند اپنے خاندانوں کے ساتھ وہاں منتقل ہوئے تھے۔

عراقی فوجی اور انٹیلیجنس حکام نے حمام الیل میں واقع اس کیمپ کا دورا کرنے والے خبررساں ادارے روئٹرز کے صحافیوں کو بتایا ہے کہ وہاں موجود عورتوں اور بچوں کی اکثریت کے پاس دستاویزات نہیں لیکن زیادہ تر کا تعلق ترکی سے ہے۔

عراق حکام کے بقول ان میں سے بہت سے دیگر کا تعلق روس اور وسطی ایشیا کی ریاستوں سے ہے۔ جبکہ ایک محدود تعداد فرانس اور جرمنی کے شہریوں کی بھی ہے۔
ایک عراقی فوجی افسر نے صحافیوں کو بتایا کہ ان لوگوں نے تل افرار کے قریب خود کو کرد افواج کے حوالے کیا تھا، جنھوں نے مردوں کو علیحدہ کرنے کے بعد عورتوں اور بچوں کو عراقی افواج کے حوالے کر دیا۔
مردوں کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ دولتِ اسلامہ کے جنگجوں تھے۔ یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ ان مشتبہ جنگجوؤں کو کہاں لے جایا گیا ہے۔
صحافیوں کے مطابق کیمپ میں ان لوگوں کو مناسب سہولیات میسر نہیں ہیں۔ وہاں موجود ایک خاتون نے صحافیوں کو بتایا کہ اس کا خاوند اسے فرانس سے یہاں لے کر آیا تھا اور وہ واپس فرانس جانا چاہتی ہے لیکن اسے معلوم نہیں کہ وہ کیسے واپس جائے۔

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کی مناسب طریقے سے دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔
ادھر پناہ گزینوں کے ادارے دی رفیوجی کونسل نے عراقی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان افراد کے مستقبل کا جلد فیصلہ کیا جائے اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے۔