آسٹریلیا میں کینگرو کی آبادی زیادہ ہونے کے بعد انھیں کھانے کا مشورہ

آسٹریلیا میں زمینداروں اور ماحولیات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنگلی کینگروؤں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی ہے اور انھوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ کینگرو کے گوشت کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق آسٹریلیا میں چار کروڑ 50 لاکھ کینگرو ہیں جو ملک کی انسانی آبادی کا تقریباً دوگنا ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 2010 تک ملک میں کینگروؤں کی تعداد تقریباً دوکروڑ 70 لاکھ تھی۔
آبادی میں اس اضافے کی وجہ ملک میں ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چارے کو قرار دیا جا رہا ہے۔
لیکن اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر خشک سالی ہوتی ہے تو لاکھوں کینگرو بھوک سے مر جائیں گے۔
آسٹریلیا میں جانوروں کو مارنے یا ان کا شکار کرنے کے حوالے سے سخت قوانین ہیں۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کینگروؤں کو تجارتی بنیادوں پر مارنے کے لیے اگرچہ اجازت نامے آسانی سے دستیاب ہیں لیکن لوگ اس میں دلچسپی نہیں لیتے۔
کینگرؤں کی آبادی کو کنٹرول میں رکھنے اور ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے ملک میں ہر سال کینگروؤں کو مارا جاتا ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے ماحول کے بہتر ہونے کے ٹھوس شواہد نہیں ملتے۔
مارے جانے والے کینگروؤں کی کھال تو استعمال میں لائی جاتی ہے لیکن مانگ نہ ہونے کے باعث ان کا گوشت پھینک دیا جاتا ہے۔
کینگرو آسٹریلیا کا قومی جانور ہے جس کے باعث لوگ اسے کھانا اچھا نہیں سمجھتے۔
اس کے گوشت کے حق میں دلائل دینے والوں کا کہنا ہے کہ اس میں چربی کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ دوسرے گوشت کی نسبت زیادہ صحت بخش ہوتا ہے۔
آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی سے بات کرتے ہوئے ایڈلیڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ پیٹن کا کہنا تھا کہ ’ملک میں ماحول کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگ جانوروں کو گلنے سڑنے سے بچائیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس میں یقیناً کینگروؤں کا قصور نہیں ہے لیکن لوگ انھیں مارنے میں دلچسپی نہیں لیتے، ماحول کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ اس حوالے سے جلد از جلد اقدامات کیے جائیں۔
پروفیسر پیٹن کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم ان جانوروں کو مارنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ رحم دلی کے ساتھ کرنا چاہیے۔ اور ہمیں مارے جانے والے جانوروں کے مصرف کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔‘