افغانستان میں فیشن کا بخار

بیرون ملک سفر کرنے والے افراد، غیر ملکی ٹیلی ویژن چینلوں اور سیٹلائٹ ٹی وی تک رسائی نے حالیہ برسوں میں افغان خاندانوں کی زندگی تبدیل کر دی ہے، خاص طور پر افغانستان کے بڑے شہروں میں۔
ملک کی نئی نسل کا رجحان فیشن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ افغانستان میں بننے سنورنے اور خوبصورت لگنے کی اس خواہش میں اضافہ ہوا ہے اور افغانستان کا روایتی لباس اب مغرب میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
لیکن اس خوبصورتی کی ایک قیمت بھی چکانی پڑتی ہے۔
کابل کے رہائشی سید داؤد باقاعدگی سے سیلون جاتے ہیں اور ان کے اندر فیشن کی خواہش ایک لڑکی سے محبت کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ اب وہ شادی شدہ ہیں اور ان کے بقول فیشن کے شوق نے انھیں ایک اچھی لڑکی تلاش کرنے میں زبردست مدد دی۔

کابل میں زیادہ تر سیلون ایسے ہیں جن کا عملہ بیرون ملک سے تربیت یافتہ ہے۔ ان کے گاہکوں میں فلم اور کھیلوں کی دنیا کے مشہور لوگوں کے علاوہ غیر ملکی سفارتکار بھی شامل ہیں۔

مصطفی محیفی پچھلے چھ سالوں سے ہیئر ڈریسنگ کے پیشے سے منسلک ہیں۔ انھوں نے ایران میں دو سال تک تربیت حاصل کی اور پھر کابل میں اپنا کام شروع کر دیا۔
مصطفی کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں، افغان لڑکوں میں نت نئے انداز سے بال بنوانے کے شوق میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اور اکثر لوگ مغربی انداز میں بال بنوانا پسند کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’کبھی کبھی لڑکے تصاویر کے ساتھ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں اس طرح کے بال بنوانا ہیں۔ جیسے بریڈ پٹ کے بال۔ وہ پرواہ نہیں کرتے کہ اس طرح کا ہیئر سٹائل ان کے لباس سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ ہم انھیں مشورہ دیتے ہیں کہ ان کے لیے کس قسم کا ہئر سٹائل موزوں رہے گا، اگر وہ ہماری بات مانتے ہیں تو ٹھیک ورنہ ہم ان کی فرمائش پوری کر دیتے ہیں۔‘

مصطفی کا کہنا ہے کہ ان کے گاہکوں میں لڑکیاں بھی شامل ہیں، خاص طور پر وہ لڑکیاں جو چھوٹے بال پسند کرتی ہیں۔
کابل کی دکانوں میں بہت ساری تبدیلیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ نوجوان افغان اب فیشن ایبل بن چکے ہیں اور دکانوں نے بھی اپنے گاہکوں کے لیے ایرانی، ترکی، عربی اور ہندوستانی اور پاکستانی لباس رکھنا شروع کر دیے ہیں۔

سعدیہ افغانستان کی نیشنل ٹیم کی کپتان ہیں۔ ایک نئی نسل کی نمائندہ ہونے کے حوالے سے ان کا فیشن اور میک اپ کا شوق بھی مختلف ہے۔

سعدیہ کے بازو پر ایک ٹیٹو بھی بنا ہوا ہے، جس پر لکھا ہے ‘کچھ بھی ناممکن نہیں’۔
وہ افغانستان کی پہلی خاتون کھلاڑی ہیں جنھوں نے سنہ 2016 میں برازیل اولمپکس میں شرکت کی تھی۔
وہ کہتی ہیں کہ یہ آزادی حاصل کرنے کے لیے انہیں بہت سے قدامت پرست خیالات سے لڑنا پڑا۔
سعدیہ ہر دن کپڑے پہننے سے پہلے اپنے درجنوں کپڑوں میں دن کی مناسبت سے کپڑے منتخب کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’میں اچھا لباس پہننا چاہتی ہوں اور خوبصورت نظر آنا چاہتی ہوں۔‘
ایسا لگتا ہے کہ افغان لڑکیوں کو قدامت پسند خیالات کا سامنا تو کرنا پڑ رہا ہے لیکن ان پر حکومت کی جانب سے کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔