بالو پہ پھنسی بلیو وہیل!

چند سال پہلے، میرے گھر ایک تقریب پہ کچھ دانشوروں میں چونچیں لڑ گئیں۔ بات جانے کہاں سے چلی اور جا کے مغربی معاشرے میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحا ن پہ جا ٹکی۔ بحثنے والوں میں ایک صاحبہ مقامی یونیورسٹی میں انگریزی کی پروفیسر تھیں، ناک بھوں چڑھا کے بولیں، خود کشی کوئی برائی نہیں یہ تو ایک خوبصورت ترین جذبہ ہے کہ آ پ زندہ رہنے کے لالچ سے آ زاد ہو جاتے ہیں جو ہر برائی کی جڑ ہے۔

چونکنے کی وجہ نہ ان کے خیالات تھے اور نہ ہی یہ بات کہ وہ ایک پروفیسر ہو کے ایک منفی جذبے کے حق میں بیان دے رہی تھیں۔ چونکی میں ان کی کج بحثی پہ تھی ۔ ٹوکرا بھر بالوں میں سے ان کی آ نکھیں جھانک رہی تھیں ،جن میں اتا بڑا بڑا لکھا ہوا تھا، یہ بحث میں نہیں ہاروں گی چاہے مجھے خود کشی کر کے ہی کیوں نہ دکھانا پڑے۔

اسی طرح ایک اور محفل میں ایک ڈاکٹر صاحب نے مجھے قائل کرنے کی کوشش کی کہ، سلویا پلاتھ ، سارہ شگفتہ اور مصطفےٰ زیدی تین خوبصورت انسان تھے جنہوں نے خود کشی کر کے دنیا کی بد صورتی کو اپنا حسن بگاڑنے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بعد میں نے غور کیا تو اندازہ ہوا کہ ایک خاص قسم کے لوگ، خودکشی کے بارے میں بڑی الوہی قسم کی دلیلیں دیتے ہیں اور خواہ مخواہ اسے کچھ سے کچھ بنانے کے داؤ میں رہتے ہیں۔

خودکشی ایک ذہنی بیماری ہے اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار لوگ اکثر اس کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف ذہنی بیماریوں کا شکار افراد خودکشی کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں خود کشی، موت کی دسویں بڑی وجہ ہے ۔ جاپانی تہذیب میں ہارا کیری خود کشی اور اجتماعی خودکشی کا ایک باقاعدہ طریقہ ہے جس کے خاص ادب آ داب ہیں۔

ہندوستان میں ایک زمانے تک ‘ستی’ کی رسم رہی ۔ ازمنۂ وسطیٰ کے جنگجوؤں کی بیویاں ، ان کے مرنے کی خبر پہ خودکشی کر لیتی تھیں کہ کہیں دشمن کے ہاتھ نہ پڑ جائیں۔
خودکشی پہ اتنی بہت سی باتیں اس لیے یاد آ ئیں کہ کئی روز سے درو دیوار سے ایک ہی پکار سنائی دے رہی ہے کہ اپنے بچے کی سر گرمیوں پہ نظر رکھیں، بلیو وہیل نامی ایک خوفناک، چیٹ گروپ لوگوں کو خود کشی کی طرف راغب کر رہا ہے۔ چونکہ کسی بھی مؤقر ذریعے سے اس بات کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی اس لیے ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔

تاہم زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھتے ہوئے جب اس ‘ بلیو وہیل’ کے بارے میں چھان بین کی تو بہت حیرت بھی ہوئی اور دکھ بھی۔ مبینہ طور پہ یہ ایک ایسے شخص کی ایجاد ہے جو کچھ لوگوں کو دنیا میں ایک بوجھ سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ ایسے کمزور لوگ مر جائیں اور جلد از جلد ان کا صفایا ہو جائے۔ اس کے لیے اس نے یہ فورم تیار کیا۔

دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ سب افواہیں ہیں، سوا اس کے کہ ایک نیم دیوانے شخص کی خودکشی کی فلم جو کسی کشت و خون دکھانے والی سائٹ نے اپنے ہاں لگائی ، اس کا کوئی وجود نہیں۔
ڈھونڈتے، ڈھونڈتے میں وہ پچاس کی پچاس شرطیں بھی ڈھونڈھ بیٹھی جو اس کھیل کی روزانہ کی مشقیں ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بڑی عامیانہ اور بیمار قسم کی شرطیں ہیں، ان سے اچھی شرائط تو ہماری بی بی گل بکاؤلی نے رکھی تھیں۔ جن سے ان کے طالبوں کا مرنا یقینی تھا۔ خود کو زخم لگانا کوئی بہادری نہیں ہے۔ یہ ایک قسم کی ذہنی کجی ہے۔

‘بلیو وہیل’ کا کوڈ ورڈ اس لیے رکھا گیا کہ جس طرح ریت پہ پھنسی وہیل کی بچنے کی کوئی امید نہیں ہوتی اسی طرح اس کھیل کو شروع کرنے والے کے بچنے کی بھی کوئی امید نہیں ہوتی۔
سچ یا جھوٹ، جو بھی اس بات کی تہہ سے برآ مد ہو گا وہ بعد کی بات ہے، مگر ایک بات مسلمہ ہے اور وہ یہ کہ خود کشی ایک مجرمانہ فعل ہے، اسے کسی بھی صورت میں بہادری نہیں کہا جا سکتا۔ فدائین سے لے کر خود کش بمبار تک اور ان تمام لوگوں تک جنہوں نے کسی نہ کسی وجہ سے خود کشی کی، میں کسی کو بھی بہادر نہیں گردانتی۔

زندہ رہنا ایک خوبصورت عمل ہے اور زندگی کی آ نکھوں میں آ نکھیں ڈال کے دیکھنا اصل بہادری ہے۔ اپنے بچوں کی مصروفیات پہ نظر رکھیں اور اس قسم کی افواہوں سے بھی بچوں میں جو منفی تجسس جنم لے رہا ہے اسے مثبت گفتگو سے ختم کرنے کی کوشش کریں، بچوں کو زندگی کی قدر و قیمت اور ان کی ذاتی اہمیت کا احساس دلائیں، ہم نے کئی وہیلوں کو واپس گہرے سمندروں میں جاتے بھی دیکھا ہے۔