ورلڈ اور انٹرنیشنل الیون کب کب پاکستان آئیں؟

ورلڈ یا انٹرنیشنل الیون کا پاکستان میں کرکٹ میچز کھیلنا کوئی نئی بات نہیں ہے تاہم اس بار پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان کھیلے جانے والے تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ان میچوں کو انٹرنیشنل کرکٹ کا درجہ دیا ہے۔

پاکستان کی کرکٹ تاریخ میں کسی ورلڈ یا انٹرنیشنل الیون کا یہ آٹھواں دورہ ہے۔ تاہم ماضی میں جتنے بھی دورے ہوئے ہیں ان میں یا تو فرسٹ کلاس میچز کھیلے گئے یا کھیلے گئے ون ڈے میچوں کو انٹرنیشنل میچز کا درجہ حاصل نہیں تھا۔

انٹرنیشنل الیون کے پاکستان آنے کا سلسلہ فروری 1962 میں شروع ہوا تھا جب انٹرنیشنل الیون نے ایشیا، افریقہ اور نیوزی لینڈ کے دورے کے سلسلے میں ڈھاکہ اور کراچی میں دو فرسٹ کلاس میچز کھیلے تھے۔
ڈھاکہ میں انٹرنیشنل الیون اور مشرقی پاکستان گورنرز الیون کا سہ روزہ میچ ڈرا ہوا، جس میں سعید احمد اور وزیر محمد نے سنچریاں بنائی تھیں۔ میزبان ٹیم کے کپتان حنیف محمد تھے جبکہ انٹرنیشنل الیون کی قیادت آسٹریلوی فاسٹ بولر رے لینڈوال نے کی تھی۔

دورے کا آخری میچ کراچی میں کھیلا گیا جس میں رچی بینو کی قیادت میں انٹرنیشنل الیون نے بی سی سی پی الیون کو نو وکٹوں سے ہرایا تھا جس کی قیادت جاوید برکی کررہے تھے۔
اس میچ میں آسٹریلیا کے بابی سمپسن اور میزبان ٹیم کے مشتاق احمد نے سنچریاں بنائی تھیں۔
فروری 1968 میں مکی سٹیورٹ کی قیادت میں انٹرنیشنل الیون نے مختلف ممالک کے دورے میں ایک فرسٹ کلاس میچ بی سی سی پی الیون کے خلاف کراچی میں بھی کھیلا اور اس میں 43 رنز سے کامیابی حاصل کی۔
اس میچ میں انگلینڈ کے کیتھ فلیچر نے سنچری بنائی تھی جبکہ پاکستان کے سعید احمد نے 97 رنز بنانے کے علاوہ انٹرنیشنل الیون کی پہلی اننگز میں پانچ وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔
دسمبر 1970 میں گیری سوبرز کی کپتانی میں ریسٹ آف دی ورلڈ الیون نے پاکستان کے خلاف کراچی میں چار روزہ فرسٹ کلاس میچ کھیلا جس میں انتخاب عالم کی قیادت میں میزبان ٹیم نے 226 رنز سے کامیابی حاصل کی۔

اس میچ میں پاکستان کی طرف سے مشتاق محمد، شفقت رانا اور سعید احمد نے سنچریاں بنائیں جبکہ ورلڈ الیون کی طرف سے کھیلتے ہوئے حنیف محمد نے دوسری اننگز میں نصف سنچری سکور کی۔
فروری 1971 میں انٹرنیشنل الیون کے نام سے ٹیم پاکستان آئی جس کے کپتان انگلینڈ کے مکی سٹیورٹ تھے اور میزبان ٹیم کے کپتان انتخاب عالم تھے۔
اس دورے میں تین فرسٹ کلاس میچز کراچی ڈھاکہ اور لاہور میں کھیلے گئے۔
کراچی میں کھیلا گیا میچ بی سی سی پی الیون نے آٹھ وکٹوں سے جیتا تھا جس کی خاص بات کپتان انتخاب عالم کی عمدہ آل راؤنڈ کارکردگی تھی جنھوں نے میچ میں نو وکٹیں حاصل کرنے کے علاوہ نصف سنچری بھی سکور کی۔

ڈھاکہ اور لاہور میں کھیلے گئے میچز ڈرا ہوگئے۔ ڈھاکہ کے میچ کی خاص بات عظمت رانا کی سنچری اور انتخاب عالم کی چھ وکٹیں تھیں۔
نومبر 1973 میں ویسٹ انڈیز کے روہن کنہائی کی قیادت میں ریسٹ آف دی ورلڈ الیون نے پاکستان کا دورہ کیا اور کراچی اور لاہور میں دو فرسٹ کلاس میچز کھیلے۔
کراچی میں پاکستان نے چار وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ اس میچ میں ظہیر عباس نے پہلی اننگز میں 145 اور دوسری اننگز میں 87 رنز سکور کیے جبکہ بولنگ میں وسیم راجہ نے میچ میں نو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
پاکستان نے لاہور میں کھیلا گیا میچ 161 رنز سے جیتا جس میں قابل ذکر کارکردگی آصف اقبال اور ظہیرعباس کی سنچریاں اور وسیم راجہ کی دونوں اننگز میں نصف سنچریاں تھیں۔
نومبر 1976 میں آسٹریلوی شہرۂ آفاق فاسٹ بولر کیتھ ملر کی قیادت میں انٹرنیشنل الیون نے پاکستان کا دورہ کیا اور سات مختلف شہروں میں 40 اوورز پر مشتمل ون ڈے میچز کھیلے جن میں سے اس نے چار میں کامیابی حاصل کی۔

ستمبر 1981 میں روہن کنہائی کی قیادت میں انٹرنیشنل الیون پاکستان آئی اور اس نے یہاں تین فرسٹ کلاس اور تین ون ڈے میچز کھیلے۔
کراچی میں کھیلا گیا پہلا فرسٹ کلاس میچ انٹرنیشنل الیون نے 207 رنز سے جیتا جس میں گیہان مینڈس کی سنچری اور مائیکل ہولڈنگ کی دوسری اننگز میں چھ وکٹوں نے اہم کردار ادا کیا۔
حیدرآباد میں کھیلے گئے دوسرے فرسٹ کلاس میچ میں پاکستان نے نو وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔
بھارت کے بشن سنگھ بیدی نے پاکستان کی پہلی اننگز میں چھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
لاہور میں کھیلا گیا تیسرا فرسٹ کلاس میچ پاکستان نے 296 رنز سے جیتا جس میں جاوید میانداد، وسیم راجہ اور مدثر نذر کی سنچریوں کے علاوہ سب سے اہم کردار اقبال قاسم کا تھا جنھوں نے انٹرنیشنل الیون کی پہلی اننگز میں تین اور دوسری اننگز میں شاندار بولنگ کرتے ہوئے 80 رنز دے کر 9 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

انگلینڈ کے وکٹ کیپر ای این گولڈ واحد بیٹسمین تھے جن کی وکٹ اقبال قاسم کے ہاتھ نہ آسکی انہیں اعجاز فقیہہ نے آؤٹ کیا تھا۔ یہ اقبال قاسم کی فرسٹ کلاس کرکٹ میں بہترین انفرادی بولنگ بھی ہے۔