میری فلم صرف بالغوں کے لیے ہے: پہلاج نہلانی

اداکارہ کنگنا رناوت نے بالی وڈ میں اپنے کئی دشمن بنا لیے ہیں۔
انڈین ٹی وی شو ‘آپ کی عدالت’ میں دھماکہ خیز انٹرویو کے دوران انھوں نے ماضی کے اداکار ادتیہ پنچولی سے لے کر ریتک روشن اور کرن جوہر تک کسی کو نہیں بخشا۔
ایسا لگتا ہے کنگنا جب بھی میڈیا یا پبلک میں نمودار ہوتی ہیں تو ایک نیا تنازع جنم لے لیتا ہے۔ تقریباً ایک سال پہلے تک ریتک روشن کو ‘سلی ایکس’ کہہ کر بہتان اور تنازع کو دعوت دینے والی کنگنا نے ایک بار پھر بےجھجک آگ میں ہاتھ ڈالا دیا ہے۔

پہلے انھوں نے آدتیہ پنچولی اور اپنے رشے کے بارے میں کھل کر بات کی۔
کنگنا کا الزام تھا کہ ادتیہ پنچولی نے انھیں اس وقت گھر میں بند رکھا کرتے تھے جب وہ ممبئی نئی نئی آئی تھیں اور جب انھوں نے ان کی بیوی سے مدد مانگنے کی کوشش کی تو انھوں نے مدد کرنے سے انکار کر دیا۔

جواب میں آدتیہ پنچولی نے انھیں پاگل قرار دیتے ہوئے کنگنا کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی دھمکی بھی دی۔
اس انٹرویو کے دوران کنگنا نے ریتک روشن اور ان کے والد راکیش روشن پر بھی دل کھول کر الزامات لگائے کہ کس طرح ریتک نے انھیں محبت میں دھوکہ دیا۔
اس بارے میں ابھی تک ریتک کا تو کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا البتہ کرن جوہر نے ایک گمنام سی ٹویٹ ضرور کی تھی جس میں انھوں لکھا ‘نا شکرے لوگوں کو سچائی کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے’۔ اب کرن کا اشارہ کس کی جانب تھا یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں۔

معاملہ یہاں تک ختم نہیں ہوا۔ کنگنا نے مہاراشٹر ویمن کمیشن کو بھی نہیں چھوڑا۔
کنگنا کے مطابق جب ریتک کے ساتھ ان کی لڑائی جاری تھی تو انھوں نے پریشان ہو کر ویمن کمیشن سے رابطہ کیا لیکن ان کی کوئی مدد نہیں کی گئی۔ جواب میں ویمن کمیشن کی سربراہ نے اس بات کی تردید کی اور ان کا کہنا تھا کہ کنگنا نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔

کنگنا کے الزامات کے دائرے میں جو بھی لوگ تھے ان میں سے زیادہ تر نے سوشل میڈیا پر اپنا ردِعمل ظاہر کیا لیکن ان میں ایسے لوگ بھی شامل تھے جن کا ان سب باتوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا جیسے فلمساز فرح خان نے کنگنا سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ عورت ہونے کا کارڈ کھیلنا اچھی بات نہیں۔

کیا اچھا ہے اور کیا برا، کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ اس بات کا فیصلہ کرنا انتہائی دشوار ہے۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کنگنا نے اپنی فلم ‘سمرن’ کی پبلسٹی کے لیے ایک بار پھر پنڈورا باکس کھولا دیا ہے لیکن کنگنا کا کہنا ہے کہ اگر لوگ مجھ سے ان موضوعات پر سوال کریں گے تو انھیں جواب تو دینا ہی پڑے گا۔

یہ بھی درست ہے اب کنگنا تو کنگنا ہیں خاموش کیسے رہ سکتی ہیں۔
ویسے خاموش تو میڈیا نے پہلاج نہلانی کو کر دیا ہے۔ یہ وہی پہلاج نہلانی ہیں جو سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کے چیئرمین تھے اور بات بات پر لوگوں کو سنسکار یا روایات کا سبق پڑھانے کی کوشش کرتے تھے۔

سنسکاروں کے مارے پہلاج نہلانی سینسر بورڈ سے نکالے جانے کے بعد اب فلم ‘جولی ٹو’ لے کر آئے ہیں۔
لوگوں کو شرم و حیا کا سبق پڑھانے والے پہلاج نہلانی کی فلم کے صرف ٹریلر ہی سے انڈین روایات کی دھجیاں اڑتی دکھائی دیں۔
انھوں نے فلم میں ہیروئن کو مختصر اور کہیں کہیں بغیر کپڑوں کے دکھاتے ہوئے واضح کرنے کی کوشش کی کہ یہ فلم صرف ‘بالغوں کے لیے’ ہے۔
پھر کیا تھا انڈین میڈیا ٹریلر دیکھ کر ہی تاؤ میں آ گیا اور پہلاج نہلانی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انھیں شرمندہ کرنے کی کوشش کی۔
پریس کانفرنس کے دوران پہلاج نہلانی بار بار بھڑک اٹھے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ دوسروں کی فلموں کو ڈبوں میں بند کروانے والے پہلاج نہلانی کیا اپنی اس بولڈ فلم کے لیے سرٹیفکیٹ کیسے حاصل کریں گے۔
بولڈ فلموں سے یاد آیا کہ فلمساز مدھر بھنڈارکر بھی آج کل اپنی متنازع فلم ‘اندو سرکار’ کے فلاپ ہونے کے بعد فارغ بیٹھے ہیں اور ایک نئی کہانی کی تلاش میں ہیں۔
مدھر کا کہنا ہے کہ ان کی فلم باکس آفس پر بھلے ہی ناکام رہی ہو لیکن فلمی ناقدین نے فلم کو کافی سراہا ہے۔
جب مدھر سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کبھی کوئی لو سٹوری فلم بنائیں گے تو مدھر کا کہنا تھا ضرور بنائیں گے لیکن کہانی سیدھی اور سچی ہوگی۔
اب پتہ نہیں اگلی بار مدھر بھنڈارکر سچائی کے نام پر کیا دکھانے والے ہیں؟