این اے 120: لیگی وزرا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 120 پر لڑے جانے والے ضمنی انتخاب کے حوالے سے صوبہ پنجاب میں برسرِاقتدار جماعت سے تعلق رکھنے والے چند صوبائی وزرا انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ٹھہرے ہیں۔ ان کے خلاف پاکستان مسلم لیگ ن کی امیدوار کلثوم نواز کے لیے کی جانے والی مہم میں شرکت کرنے کے الزامات ہیں۔

یاد رہے کہ این اے 120 میں ضمنی انتخاب محض چند روز کی دوری پر ہیں اور حلقہ میں انتخابی مہم جوئی عروج پر ہے۔
یاد رہے کہ انتخابی مہم کے دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ضابطہ اخلاق کے مطابق کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے والا شخص کسی بھی امیدوار کی انتخابی مہم میں حصے نہیں لے سکتا۔ این اے 120 کی قومی اسمبلی کی نشست سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے نااہل قرار دیے جانے کے بعد خالی ہوئی تھی جہاں سے ان کی اہلیہ کلثوم نواز ضمنی انتخاب میں ان کی جماعت کی امیدوار ہیں۔

تاہم کلثوم نواز علاج کی غرض سے ملک سے باہر ہیں اور ان کی صاحبزادی مریم نواز ان کی مہم چلا رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب کے صوبائی وزیر بلال یٰسین کو چند روز قبل خبردار کیا گیا تھا کہ وہ ایک انتخابی ریلی میں نظر آئے تھے جو ضابطہ اخلاق کے خلاف ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز ہارون خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بلال یٰسین نے الیکشن کمیشن کے سامنے معذرت کرتے ہوئے اس بات کی یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ آئندہ ایسی غلطی نہیں کریں گے۔

’اس کے بعد سے الیکشن کمیشن نے انہیں اپنی واچ لِسٹ پر رکھا ہوا ہے اور ہم نے اپنی ساتوں مانیٹرنگ ٹیموں کو یہ ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ وہ اس الیکشن مہم کو دیکھیں۔ اور اگر وہ دوبارہ خلاف ورزی کرتے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘

تاہم مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق بلال یٰسین کو این اے 120 کے ریٹرنگ آفیسر کی جانب سے سنیچر کے روز نوٹس کے ذریعے خبردار کیا گیا تھا کہ وہ جمعہ کے روز مریم نواز کی جانب سے کی جانے والی ریلی میں نظر آئے تھے۔

ہارون خان کے مطابق اس نوٹس کے بعد الیکشن کمیشن تین روز کی مہلت دیتا ہے اور اس کے بعد بھی اگر وہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

’ضابطہ اخلاق کی پابندی کروانے کے حوالے سے این اے 120 کا ضمنی انتخاب الیکشن کمیشن کے لیے ایک امتحان کی حیثیت بھی رکھتا ہے کیونکہ آئندہ برس ملکی تاریخ کے سب سے بڑے عام انتخابات ہیں لہٰذا ہر خلاف ورزی کا سختی سے نوٹس لیا جا رہا ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حلقہ این اے 120 سے پاکستان تحریکِ انصاف کی امیدوار یٰسمین راشد نے الزام لگایا ہے کہ یہی نہیں صوبہ پنجاب میں حکومتی جماعت کی جانب سے مزید خلاف ورزیاں بھی سامنے آئیں ہیں، جس کے خلاف وہ عدالت سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

’قانون کے مطابق جب انتخابات کا شیڈول جاری ہو جائے تو اس حلقے میں کسی قسم کا ترقیاتی کام نہیں کیا جا سکتا۔ مگر یہاں یکم اگست کو شیڈول جاری ہوا اور 4 اگست کو باقاعدہ ٹینڈر نکالے گئے ترقیاتی کاموں کے لیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے اور اس کے خلاف وہ پیر کے روز عدالت سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
الیکشن کمیشن نے حلقہ این اے 120 کی مہم کے دوران ایک مزید خلاف ورزی کا نوٹس لیتے ہوئے آزاد امیدوار محمد یعقوب شیخ کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے انتخابی اشتہارات پر سے مذہبی جماعت جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی تصویر ہٹا دیں ورنہ ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

حافظ سیعد کی تصویر لگے اشتہارات چند روز قبل محمد یعقوب شیخ کی جانب سے حلقہ بھر میں آویزاں کیے گئے تھے جس پر الیکشن کمیشن کو شکایات موصول ہوئیں تھیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق جماعت الدعوۃ کی سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ ان کے ہاں رجسٹرڈ نہیں ہے۔

یاد رہے کہ این اے 120 کے ضمنی انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کی تاریخ سے چند روز قبل ہی جماعت الدعوۃ نے ملی مسلم لیگ بنانے اور اس کے بعد ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم ملی مسلم لیگ تا حال الیکشن کمیشن کے پاس باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ نہیں ہو پائی کیونکہ اس عمل کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ لہٰذا محمد یعقوب شیخ کو کاغذاتِ نامزدگی آزاد امیدوار کے طور پر جمع کروانے پڑے تاہم جماعت الدعوۃ ان کی حمایت کر رہی ہے۔

ضمنی انتخابات کے لیے بیلیٹ پیپر یا ووٹ کی پرچیوں کی چھپائی کا عمل بھی سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی میں پاکستان پرنٹنگ پریس لاہور میں شروع ہو چکا ہے۔ الیکشن کمیشن کی لاہور کی پبلک ریلیشنز آفیسر ہدا علی گوہر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کے بعد نگرانی کرنے والے اسی طرز کے کیمرے تمام پولنگ سٹیشنوں میں بھی نصب کیے جائیں گے۔

کیمرے لگانے کی درخواست پاکستانی فوج کی جانب سے کی گئی تھی جنھیں الیکشن کمیشن نے این اے 120 کے ضمنی انتخابات کے لیے سیکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست دی تھی جو منظور کر لی گئی تھی۔
ان انتخابات میں پہلی مرتبہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کل 39 پولنگ سٹیشنوں پر بائیو میٹرک مشینیں بھی استعمال کرے گا۔ تاہم ان مشینوں کا یہ استعمال خالصتاٌ تجرباتی ہو گا۔ ہارون خان کے مطابق اس کا انتخابات کے نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ ان پولنگ سٹیشنوں پر روایتی طریقہ کار کے مطابق بھی ووٹ ڈالے جائیں گے۔