بلوچستان کے ضلع مستونگ سے دو لاشیں برآمد

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ سے دو افراد کی لاشیں ملی ہیں جن کے بارے حکام کو شبہ ہے کہ وہ ان چینی باشندوں کی ہو سکتی ہے جن کو رواں سال مئی کے مہینے میں کوئٹہ سے اغوا کیا گیا تھا۔
سرکاری حکام کے مطابق دونوں لا شیں سیکورٹی فورسز نے ضلع مستونگ کے علاقے کابو سے برآمد کرکے کوئٹہ منتقل کی تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ پرانی ہونے کی وجہ سے دونوں افراد کی ہڈیوں کا ڈھانچہ باقی رہ گیا ہے جس کے باعث ان کی شناخت ناممکن ہے۔
حکام کے مطابق دونوں افراد کے ڈھانچوں کے قریب سے بال بھی ملے ہیں۔ ان میں سے ایک کے بال بڑے جبکہ دوسرے کے چوٹے ہیں ۔اس کے علاوہ دونوں لاشوں کے پاس سے جوتے بھی ملے ہیں۔
بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں انسانی ڈھانچے بھی برآمد ہوئے ہیں لیکن بعض سرکاری حکام کا یہ گمان ہے کہ یہ لاشیں ان دونوں چینی باشندوں کی ہوسکتی ہیں جن کو شدت پسند تنظیم داعش نے ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔

تاہم سرکاری حکام کے مطابق اس سلسلے میں حتمی بات ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد کہی جاسکتی ہے۔
یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کی ڈی این اے ٹیسٹ کے حوالے سے چینی حکام سے رابطہ کیا گیا ہے یا نہیں ۔
خیال رہیکہ ایک خاتون سمیت دو چینی باشندوں کو اس سال 24مئی کو کوئٹہ سے اغوا کیا گیا تھا ۔
ان کے اغوا کے اندازاً چھ ہفتے بعد مستونگ کے علاقے میں سیکورٹی فورسز نے ایک بڑ ا آپریشن کیا تھا ۔
بعض حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ آپریشن چینی باشندوں کی بازیابی کے لیے کیا گیا تھا۔
آپریشن میں چینی باشندوں کی بازیابی تو ممکن نہ ہوسکی تھی تاہم ضلع مستونگ کے علاقے اسپلنجی میں 12افراد مارے گئے تھے ۔
حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ان 12 کا تعلق ایک شدت پسند تنظیم سے تھا ۔
اس آپریشن کے فوراً بعد شدت پسند تنظیم داعش کی جانب سے نہ صرف دونوں چینی باشندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا بلکہ ان کی ہلاکت سے متعلق ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی ۔
دونوں چینی باشندوں کے قتل کے واقعہ کے بعد نہ صرف پاکستان کے سابق وفاقی وزیر داخلہ بلکہ کوئٹہ میں پولیس حکام نے بھی یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ لوگ کوئٹہ میں عیسائیت کی تبلیغ کے سلسلے میں آئے تھے ۔
مئی میں چینی باشندوں کے اغوا کے بعد کوئٹہ سے دس کے قریب ایسے چینی باشندوں کو واپس چین بھیجنے کے لیے کراچی بھیجا گیا تھا جو کہ مغوی چینی باشندوں کے ساتھ تھے ۔
اس اقدام کے علاوہ دو کوریائی باشندوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جن کے ساتھ یہ چینی باشندے زبان سکھانے والے ایک اکیڈمی سے منسلک تھے ۔
گرفتار کوریائی باشندوں کے خلاف کوئٹہ کی ایک عدالت میں مقدمہ تاحال زیر سماعت ہے ۔