گوری کے قتل جیسے واقعات میرے انڈیا میں نہیں ہو سکتے: اے آر رحمان

انڈیا کے مشہور موسیقار اے آر رحمان نے صحافی گوری لنکیش کے قتل پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس ملک میں اس طرح کے واقعات پیش آ رہے ہوں وہ ان کا انڈیا نہیں ہو سکتا۔
مبئی میں فلم ‘ون ہارٹ’ کے پریمیئر کے موقعے پر لنکیش کے قتل کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اے آر رحمان نے کہا کہ ‘میں اس بارے میں بہت دکھی ہوں۔ انڈیا میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایسی واردات انڈیا میں ہوتی ہے تو یہ میرا انڈیا نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں انڈیا ترقی کرے اور احساس ہو۔’

گریمی اور آسکر جیسے اعلیٰ ایوارڈز یافتہ موسیقار اے آر رحمان کے موسیقی کی دنیا میں 25 برس پورے ہو گئے ہیں۔
اس موقعے پر اے آر رحمان نے اپنے مذہبی عقیدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ’ مذہب سے انھیں اپنے کریئر کو شکل دینے میں مدد ملی ہے۔’
اے آر رحمان نے 23 برس کی عمر میں سنہ 1989 میں اسلام قبول کیا تھا۔ اے آر رحمان کے مطابق ان کے لیے اسلام کا مطلب’سادہ زندگی جینا اور انسانیت کو سب سے اوپر رکھنا ہے۔‘

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں اے آر رحمان نے کہا کہ’ اسلام ایک سمندر ہے جس میں 70 سے زیادہ فرقے ہیں جن میں سے وہ صوفی فرقے پر عمل کرتے ہیں جو پیار پر مبنی ہے۔ ’میں جو کچھ بھی ہوں اسی فلسفے کی وجہ سے ہوں اور میرا خاندان بھی اس کی پیروی کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کئی ایسی چیزیں ہو رہی ہیں جو زیادہ تر سیاسی ہیں۔‘

اے آر رحمان اے آر رحمان کو اپنے کریئر میں اب تک دو آسکر، دو گریمی اور ایک گولڈن گلوب ایوارڈ مل چکا ہے اور وہ دنیا کے معروف ترین فنکاروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔