سمندری طوفان ارما‘ کے بارے میں ہر چیز پر یقین نہ کریں

سمندری طوفان ‘ارما’ کے امریکی ریاست فلوریڈا سے ٹکرانے کی ویڈیوز اور اطلاعات سامنے آرہی ہیں لیکن جو آپ دیکھیں اس سب پر یقین نہ کریں۔
جیسا کہ گذشتہ ہفتے ٹیکساس میں طوفان ہاروی کے ساتھ ہوا، ویسے ہی غلط خبریں، ویڈیوز اور گمراہ کن تصاویر سمندری طوفان ارما کی شدت سے متعلق افواہیں پھیلانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے، جن کے بارے میں موسمیاتی ماہرین آن لائن متنبہ کر رہے ہیں۔

ارما کی وجہ سے جسے گذشتہ ایک دہائی کے دوران سب سے طاقتور سمندری طوفان کہا جا رہا ہے، 180 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آنے والی تیز ہواؤں نے کیریبیئن جزائر کے بعض حصوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اس طوفان کے نتیجے میں عمارتیں زمین بوس ہو گئی ہیں اور اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 14 تک پہنچ گئی ہے۔
ایک مقبول ہونے والی ویڈیو جسے جمعرات کو شائع کیا گیا، میں یہ دکھایا گیا ہے کہ طوفان کتنی قوت کے ساتھ کیریبیئن میں پورٹو ریکو سے ٹکرایا اور اس ویڈیو میں ہوا اتنی تیز تھی جیسے کوئی ٹرین کا انجن ہو۔ اس ویڈیو کو تین ہزار سے زائد مرتبہ ری ٹویٹ کیا گیا۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ طوفان ارما پورٹو ریکو سے براہ راست ٹکرایا ہی نہیں۔ طوفان اس جزیرے کے قریب سے گزرا جس کے نتیجے میں بجلی چلی گئی۔
جس اسی جیسی ایک اور ویڈیو کو دیکھا گیا تو وہ بدھ کو شائع ہونے والی برٹش ورجن آئی لینڈز کی تھی، جو پورٹو ریکو سے سات گھنٹے قبل شائع ہوئی۔
تاہم اس ویڈیو کو بغیر آواز کے ٹوئٹر پر شائع کیا گیا تھا۔ بعد میں اسے ترک موسمیاتی ویب سائٹ اور پھر لائیو لیک ڈاٹ کام کے ساتھ ساتھ دیگر سوشل میڈیا صارفین نے شائع کیا اور اس ویڈیو کو پورٹو ریکو کے مناظر کے طور پر پیش کیا گیا، اور اسی دوران کسی وقت اس ویڈیو میں آواز بھی شامل کر دی گئی۔

نتیجتاً ٹوئٹر صارفین کے درمیان ابہام پیدا ہو گیا، بعض @Whippodilly پر ’غلط خبر‘ کا الزام لگاتے رہے جبکہ دیگر نے بدھ کو شائع ہونے والی ویڈیو کے بارے میں سوال کیا جسے انھوں نے پورٹو ریکو کے نام سے دیکھا تھا۔

اسی طرح ایک اور ویڈیو جسے آٹھ ہزار بار لائک اور نو ہزار سے زائد مرتبہ ری ٹویٹ کیا گیا اسے بدھ کی رات امریکی موسمیاتی رپورٹر جیمی ارل نے شائع کیا، لیکن بز فیڈ کے کریگ سلورمین نے اس ویڈیو کا پیچھا کیا اور معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو ایک سال پرانی ہے اور ممکنہ طور پر یوروگوائے میں آنے والے ٹورنیڈو ڈولورس کی ہے۔

سمندری طوفان کی شدت اور اس کے راستے کے بارے میں اطلاعات پر ہزاروں افراد نے آن لائن ردعمل کا اظہار کیا، اور ساتھ ہی ساتھ رہائشیوں میں تشویش پیدا ہو گئی کیونکہ انھیں ایسا لگا کہ وہ بھی طوفان کے راستے میں ہیں۔

ایک آرٹیکل ’کیٹیگری 6؟ اگر ارما تاریخ کا سب سے شدید طوفان بن گیا تو وہ نقشے پر سے مکمل شہروں کو ختم کر دے گا‘ کے نام سے گذشتہ ہفتے دی اکنامک کولیپس پر شائع ہوا اور 20 لاکھ سے زائد مرتبہ شیئر کیا گیا۔

تاہم اس آرٹیکل میں اس سمندری طوفان کو قطعی طور پر ’کیٹیگری 6‘ کا طوفان نہیں کہا گیا، لیکن اس میں ایسا بتایا گیا کہ لوگوں نے سمجھ لیا کہ یہ ’کیٹیگری 6‘ کا طوفان ہی ہے۔
خیال رہے کہ سمندری طوفانوں کی درجہ بندی میں 6 کوئی درجہ ہی نہیں ہے اور 5 آخری درجہ ہے۔