فیشن ڈیزائنر جو اپنے خون سے کپڑے بنتی ہیں

پوپی ناش کو چھ برس کی عمر میں ٹائپ ون ذیابیطس ہو گئی تھی اور اس کا مطلب تھا کہ ان کا جسم انسولین پیدا کرنے کے قابل نہیں رہا تھا۔
پوپی ناش نے اس دن کو یاد کیا جب ان کے ڈاکٹر نے ذیابیطس کے بارے میں بتایا تھا اور اس لمحے کو ’بہت خوفناک اور بھیانک‘ قرار دیا۔
ذیابیطس کی بیماری لاحق ہونے کے بعد پوپی ناش کی زندگی تبدیل ہو کر رہ گئی جس میں انھیں دن میں متعدد بار خون میں شوگر کی مقدار چیک کرنا ہوتی ہے اور اس کے ساتھ انسولین کا انجیکشن لگانا پڑتا ہے۔ یہ کام کئی برس تک ان کی والدہ سرانجام دیتی رہیں جب تک ناش اس قابل نہیں ہو گئی کہ وہ اپنی صحت کا خود خیال رکھ سکیں۔

18 برس کی عمر میں غلطی سے انسولین کی زیادہ مقدار لینے پر انھیں ہسپتال میں زیر علاج رہنا پڑا۔
ناش کے مطابق’ یہ واقعہ میری آنکھیں کھولنے کا سبب بنا، یہ بالکل ایسا تھا کہ مجھے دوبارہ بیماری کا پتہ چلا اور اب میں ہی انسولین کی انچارچ تھی جو مجھے حقیقت میں مار بھی سکتی ہے۔‘
ناش کو ایک نیا نقطہٴ نظر اس وقت ملا جب اپنے آبائی گھر سے گلاسگو سکول آف آرٹ میں کمیونیکیشن ڈیزائن میں تعلیم حاصل کرنے گئیں۔ یہاں انھوں نے ٹیکسٹائل کے شعبے کو اپنایا اور سکرین پرنٹنگ کرنا سیکھا۔

ناش کے مطابق ’ذہنی دباؤ کی وجہ سے میری ذیابیطس قابو میں نہیں رہی اور اس کی وجہ سے میں نے اپنے پروجیکٹ پر کام کرنا بند کر دیا۔ اس کے بعد جب صورت حال کے بارے میں سوچا تو سمجھ آنا شروع ہوئی۔‘
ناش نے شوگر کی مقدار جانچنے والے آلے میں خودکار طریقے سے محفوظ ہونے والے نتائج کو دیکھنا شروع کیا تو اندازہ ہوا کہ ان کا جسم زندگی کے بارے میں کس طرح ردعمل ظاہر کرتا ہے جس میں اچھا بھی تھا اور برا بھی۔

ناش نے اپنی شوگر کے نتائج کو کپڑے پر پرنٹ کرنا شروع کر دیا اور اس مقصد کے لیے کپڑے کو ایسے ڈیزائن کیا کہ وہ پہننے کے قابل ہو جائے۔ ناش کے بقول یہ ایسے تھا کہ انھوں نے اپنے خون کو بننا شروع کر دیا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’آپ کسی پروجیکٹ کے لیے تحقیق کرتے ہیں تو اس میں جو آپ کر رہے ہیں اس پر یقین ہونا چاہیے اور ذیابیطس واحد چیز تھی جس کا واقعی میں بہت خیال رکھتی تھی۔
’اس سے مجھے کافی خوشی ہوئی کیونکہ مجھے محسوس ہوا کہ میں کسی چیز کو دھوکہ دے رہی ہوں لیکن یہ حقیقت ہندسے ہیں اور اسی وجہ سے یہ خوفزہ کرتے ہیں۔‘
ناش کے بقول ان کا کام خوفزہ کر دینے والا ہے لیکن یقین ہے کہ یہ منصوبہ بالآخر ان کے لیے اچھا ہے کیونکہ اس سے وہ حقیقت کا سامنا کرتی ہیں اور یہ سمجھ آتی ہے کہ اگر اپنا خیال نہیں رکھیں گی تو نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔

ناش نے ایسے اخباری تراشے جمع کرنا شروع کیے جن سے ذیابیطس کی تلخ حققت کا اندازہ ہو سکے اور ان کا لحاف پر پیچ ورک شروع کر دیا۔
ناش کی اس وقت توجہ ٹیکسٹائل، کپڑوں اور ملبوسات پر ہے اور ان کو نمائشوں میں بھیجتی ہیں لیکن انھیں یقین ہے کہ ایک دن ان کے ڈیزائن کردہ ملبوسات کی اپنی کلیکشن ہو گی۔
ناش کے مطابق انھیں بہت خوشی ہو گی کہ لوگ انھیں پہنیں اور ذیابیطس کی کہانی بیان کریں جس کے بارے میں وہ جانتے بھی نہیں ہیں۔
ناش اب بھی اپنی بلڈ شوگر معمول سے چیک کرتی ہیں تاہم اس سے انھیں ممکنہ تخلیقی مواقع بھی مل رہے ہیں۔
ناش کے بقول یہ ایک اچھا پلیٹ فارم ہے کیونکہ میں ایک بیکار چیز کو ایسی چیز میں تبدیل کر سکتی ہوں جو دلچسپ اور دل بہلانے والی ہو۔
’ذیابیطس جیسے موضوع پر جب تک لوگ سننا چاہتے ہیں اس وقت تک اس کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔‘