پندرہ منٹ میں کتاب ختم لیکن کیسے؟

کہا جاتا ہے کہ امریکہ کے صدرروزویلٹ ایک ہی دن میں کئی کتابیں پڑھا کرتا تھے اور کتابوں کا انتخاب اُن کے ادبی ذوق اور موڈ پر ہوتا تھا۔
کچھ کتابوں کو وہ درمیان میں چھوڑ دیتے تھے اور پھر بعد میں انھیں دوبارہ شروع کرتے تھے۔ پس معمول کے دن میں وہ ناشتے سے پہلے ایک کتاب اور دوپہر اور شام تک وہ دو مزید کتابیں شروع کر لیتے تھے۔
آپ بیتی میں صدر نے کتب بینی کی اپنی اس خصوصیت کو ’لا محدود‘ قرار دیا۔
البتہ بہت سے افراد کے لیے وقت کی قلت اور توجہ مرکوز کرنے میں کمی کے سبب ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔
لیکن نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ہی دن میں کئی کتابین پڑھنا ممکن ہے کیونکہ اس کی مدد سے صرف پندرہ منٹ میں کتاب کا حجم کم ہو سکتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کا نام ہے ’بلینکس‘
بیلنکسٹ (

ا) ایک موبائل ایپلکیشن ہے۔ بلینکسٹ کے شریک بانی نیکلس جینسن کا کہنا ہے کہ ’کالج مکمل کرنے اور کل وقتی ملازمت شروع کرنے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہمیں کتابین پڑھنے اور مزید کچھ سیکھنے کے لیے زیادہ وقت نہیں ملتا۔‘

اُن کے بقول ’اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم اور ہمارے اردگرد افراد سمارٹ فونز پر پڑھنے میں زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔ ہم اس بات پر پریشان ہوتے ہیں کہ کیسے ہم کتابوں کو اپنے فون پر پڑھ سکیں۔‘

اسی وجہ سے ہم نے موبائل اپیلکیشن ’بلینکسٹ‘ ڈیزائن کی۔ یہ موبائل اپیلکیشن بالکل مفت ہے اور اس کی فہرست میں کیٹیگریز کی دو ہزار سے زیادہ کتابیں موجود ہیں۔
ان کتابوں کو مختصر کر کے ایک نیا وریژن بنایا گیا ہے جیسے 15 منٹ میں پڑھا جا سکتا ہے۔
تمام نان فکشن کتابیں انگریزی اور جرمن دونوں زبانوں میں موجود ہیں۔
جینسن کہتے ہیں کہ کچھ کتابوں کو مختصر کرنا بہت مشکل تھا۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اگر آپ سپینش زبان کی کوئی کتاب زیادہ تیز پڑھنا چاہتے ہیں تو اُس کے لیے بھی ایپس موجود ہیں۔
لیکٹوراما نامی ایپ جولائی 2016 میں بنا۔ اس کا موبائل وریثرن اپریل میں لانچ کیا گیا۔
اس ایپلکشن کی مدد سے نان فکشن کتابیں 15 منٹ میں پڑھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
کمپنی کے سربراہ رامیرو فرنینڈیس کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شخص جو پڑھنا چاہتا ہے یا اپنی پیشہ ورانہ ضرورت کے تحت اُسے کچھ پڑھنا ہے اور وقت کم ہے، ایسے ہی افراد ہمارے صارف ہیں۔‘
یہ موبائل اپیلکیشن جرمنی میں سنہ 2012 میں بنائی گئی تھی اور دنیا بھر میں دس لاکھ سے زیادہ افراد اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔
بلینکس میں کتابین مختصر وریژن میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ انھیں سنا بھی جا سکتا ہے۔ جیسے گاڑی یا بس میں سفر کے دوران۔
فرنینڈیس کا کہنا ہے کہ یہ اُن کے لیے بھی فائدہ مند ہے جنھیں واضح طور پر یہ پتا نہ ہو کہ انھیں پوری کتاب پڑھنی چاہیے یا نہیں۔
کتابیں مختلف موضوعات پر ہیں، جیسے تارتخ، معیشت، صحت اور آپ بیتیاں وغیرہ۔
موبائل ایپلکیشن کا ڈیٹا بیس اس وقت سو کتابوں پر مشتمل ہے اور ہر مہینے اس میں 25 کتابوں کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔
اگرچہ وقت کی قلت کی وجہ سے یہ بہت زبردست تخلیق ہے لیکن سچ یہ ہے کہ اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔
سب سے پہلی بات یہ کہ اختصار یا مختصر کتاب پوری کتاب کا متبادل نہیں ہو سکتی ہے۔
کئی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ایپلیکشنز کی مدد سے ہم سوسائٹی کو سست اور کم ذہین بنا رہے ہیں اور ٹیکنالوجی پر اُن کا انحصار بڑھ رہا ہے۔
دی ایٹلانٹک سے وابستہ امریکی صحافی اولگا خازان کے مطابق ’بلینکٹس ہر کتاب کے اختتام کو بہت زیادہ مبہم بنا دیتا ہے۔‘
گارڈین سے وابستہ صحافی ڈیانا شیفلے کا کہنا ہے کہ ’اس طرح کے ایپس اچھی کوشش ہیں لیکن اس کے ذریعے ناول نہیں پڑھے جا سکتے۔‘
لیکن بیلنکسٹ کے بانی کا کہنا ہے کہ ’ہم تصادم نہیں چاہتے ہیں۔‘
’ہم مکمل کتاب پڑھنے کا متبادل فراہم نہیں کر رہے ہیں۔ ہم لوگوں مختلف چیزوں سے متعارف کروا رہے ہیں۔‘