وہاں میں کنہیا پاکستانی ہوں

میری پیدائش رحیم یار خان کے جس گھر میں تقسیم کے 15 برس بعد ہوئی وہ میری دادی فرام پٹیالہ کو 14 برس پہلے الاٹ ہوا تھا۔ گھر کے پچھلے حصے میں ایک کمرے کا دروازہ مستقل بند رہتا تھا۔ دادی کا کہنا تھا کہ اس کمرے میں ہندوؤں کی مورتیاں ہیں۔

سنہ 1971 میں ان کے انتقال کے بعد جب دروازہ کھولا گیا تو سیڑھیاں ہال نما ٹھنڈے کمرے کے اندر اتر رہی تھیں۔ چھت پر دیوی دیوتاؤں کی رنگین تصاویر اور کچھ ہندی لفظ بہت واضح تھے۔ مگر فرش اینٹوں کے ملبے نے چھپا رکھا تھا۔میرے تایا نے دروازہ جلدی سے یہ کہہ کر بند کردیا اندر سانپ بچھو ہیں کہیں باہر نہ آجائیں۔

محلے کا ان پڑھ مورخ سردار موچی تھا۔ اسے میں روزانہ اخبار پڑھ کے سناتا تھا۔ ایک دن سردار نے بتایا کہ تم جس گھر میں رہتے ہو وہ کراڑوں کا مندر اور مرگھٹ تھا اور پھول بھارتی کے نام سے جانا جاتا تھا۔

میں نے پوچھا کراڑ کیا ہوتے ہیں، وہ یہاں سے کیوں چلے گئے؟ سردار نے بتایا کراڑ ہندوؤں کو کہتے ہیں اور وہ بس چلے گئے جیسے میں یہاں آ گیا۔ سب جان بچانے کے لیے امرتسر سے نکل رہے تھے تو میں بھی چل پڑا۔

میں نے پوچھا امرتسر یہاں سے کتنی دور ہے؟ کہنے لگا تیز تیز پیدل چلو تو 24، 25 دن لگتے ہیں۔ پھر سردار موچی سر جھکائے چمڑے کی ڈوری سے دیسی کھیڑی کی سلائی مکمل کرنے میں لگ گیا۔
سنہ 2004 کے انڈین الیکشن کی کوریج کے دوران جالندھر میں 81 برس کے ریٹائرڈ ٹیچر ہرمیندر سنگھ مجھیٹھیا صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ہر کوئی بتاتا ہے کہ بٹوارے میں ایک کروڑ نے ہجرت کی اور لاکھوں قتل ہوئے۔ لیکن کسی ایک قاتل کا نام بھی کوئی نہیں بتاتا؟ یہ عجیب سا نہیں لگتا؟

مجیٹھیا صاحب نے کہا پتر کھوج لگانا بہت آسان ہے اگر اس دور کے تمام تھانوں کا ریکارڈ شائع ہو جائے تو۔ مگر ایسا کون کرے گا اور کون کرنے دے گا؟ آپ تو 1947 کے قاتل ڈھونڈھ رہے ہیں۔ ہمیں تو 1984 میں دہلی کے تین ہزار سکھوں کے قاتلوں کا نام تک نہیں معلوم۔

( مجھے اپنے گھر کا پچھلا کمرہ یاد آ گیا جس کا دروازہ بند کرتے ہوئے میرے تایا نے کہا تھا اندر سانپ بچھو ہیں کہیں باہر نہ آجائیں )۔
پانچویں کلاس تک معاشرتی علوم اور ماسٹر لطیف کے طفیل ہم بچوں کو ازبر ہو گیا تھا کہ ہندو کیسے ہوتے ہیں؟ مکار، چالباز، لالچی، مسلمانوں کے دشمن، بغل میں چھری منہ میں رام رام، سر پے پورے بال نہیں ہوتے بس چٹیا ہوتی ہے جسے بودی کہتے ہیں اور اگلے دو دانت ذرا سے باہر نکلے ہوتے ہیں۔ ماسٹر لطیف جب ہمیں مرغا بناتے تھے تو پشت پر چھڑی مارنے سے پہلے حکم دیتے ’تشریف اونچی اور ہندوستان کی طرف بیٹا جی‘ ( تشریف کا لفظ میں استعمال کر رہا ہوں وہ کچھ اور کہتے تھے )۔

ایک دن ایک نیا بچہ آیا کہ ’یہ کنہیا لال ہے اور آج سے اسی کلاس میں بیٹھے گا‘۔ ایک بچے سے رہا نہ گیا ’سر یہ کیسا نام ہے؟ ‘، ’بیٹا جی یہ ہندو ہے مگر یہیں رہتا ہے۔ بیٹھ جاؤ۔‘
جب آدھی چھٹی کی گھنٹی بجی تو کنہیا لال پلے گراؤنڈ میں الگ تھلگ بیٹھ گیا مگر ہم حیرتی بچوں نے اسے گھیر لیا ۔’لیکن اس کے سر پے تو بودی نہیں پورے بال ہیں، ارے دیکھو اس کے تو اگلے دو دانت بھی باہر نہیں نکلے ہوئے، تم کیا ہندوستان سے آئے ہو کنہیا لال؟ تمہارے ابا امی تمھیں چھوڑ کے چلے گئے کیا؟‘ کنہیا لال نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ایک ہفتے بعد ہم بچے یہ بھی بھول گئے کہ وہ کوئی ہندو ہے۔

دس بارہ برس پہلے کنہیا کپڑے کا کاروبار ختم کر کے اچانک بیوی بچوں سمیت 44 برس کی عمر میں دہلی چلا گیا۔ اب سے کوئی دو برس پہلے وہ 15 دن کے ویزے پر پاکستان آیا۔ سب پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کہنے لگا کپڑے کا کام وہاں بھی اچھا چل رہا ہے پر دل نہیں لگتا۔ یہاں میں کنہیا لال تھا، وہاں کنہیا پاکستانی ہوں۔