کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ تین سال میں مکمل کیا جائے گا‘

پاکستان کے سرکاری ذرائع کے مطابق وزارت پلاننگ کا کہنا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے کی تعمیر کا دس سال کے عرصہ کے بجائے اب آئندہ تین برسوں میں ستمبر 2020 تک مکمل کی جائے گی۔
خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق یہ گذشتہ سال دسمبر میں پاکستان چین اقتصادی راہداری پر چھٹی جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں کراچی سرکلر ریلوے کو اقتصادی راہداری کا حصہ بنایا گیا تھا اور یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ یہ منصوبہ چین کے تعاون سے جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں اے پی پی نے وزارت پلاننگ کے ایک اہلکار کے خوالے سے کہا ہے کہ ‘اس سے قبل اس منصوبے پر جاپانی ڈویلپمنٹ ایجنسی (جائیکا) نے سرمایہ کاری کی تھی اور اس کی تکمیل دس برسوں میں مکمل ہونا تھی لیکن سابق وزیراعظم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس کو سی پیک میں شامل کیا جائے اور تین برسوں کے اندر مکمل کیا جائے۔’

خبررساں ادارے کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل کی مدت میں کمی سے اس پر آنے والی لاگت پر بھی کمی آئے گی جبکہ اس منصوبے پر تقریبا 270 ارب روپے لاگت آئے گی۔
وزارت پلاننگ کے مطابق کراچی سرکلر ریلوے کے لیے تقریبا 43 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک پچھایا جائے گا۔
خیال رہے کہ یہ منصوبہ حکومت سندھ اور چین مکمل کریں گے جبکہ وزارت پلاننگ اس منصوبے کی نگرانی کرے گی۔
سرکلر ریلوے منصوبے کے تحت اوسطا 8۔1 کلومیٹر کے فاصلے پر کل 24 سٹیشن بنائے جائیں گے۔
واضح رہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے شہر کے اہم مقامات کو ملانے کے لیے اندرون شہر ریل سروس کا منصوبہ سب سے پہلے 1976 میں تجویز کیا گیا تھا۔
ان برسوں میں اس منصوبے کی متعدد بار فزیبیلٹی سٹڈی کی گئی اور متعدد فورمز پر اس کی منظوری بھی دی گئی لیکن اسے کبھی عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا۔
کینیڈا کی ایک کمپنی کے ساتھ سرکلر ریلوے کے لیے معاہدہ کیا تھا لیکن اس پر پیش رفت نہیں ہوئی۔
اس کے بعد جاپان کے ترقیاتی ادارے جائیکا نے دلچسپی کا اظہار کیا، دو سال سروے ہوئے لیکن ٹریک پر موجود تجاوزات راہ میں رکاٹ بنی رہیں اور بالاخر جائیکا خود ہی پیچھے ہو گئی۔
صوبائی حکومت رواں سال ستمبر سے تعمیراتی کام کے آغاز کا ارادہ رکھتی ہے۔