قطر نے ہمسایہ ممالک کے خلاف شکایت‘ کر دی

اطلاعات کے مطابق قطر نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) سے باقاعدہ طور پر شکایت کی ہے جس کا مقصد سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے اس کے تجارتی بائیکاٹ کو چیلنج کرنا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ان ممالک کو قطر کے ساتھ مذاکرات کرنا ہوں گے۔
لیکن اگر ان مذاکرات میں 60 دن کے اندر اس مسئلے کا کوئی حل تلاش نہ کیا گیا تو معاملہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی جانب سے منتخب کردہ پینل کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے قطر کی جاب سے اس شکایت کے بارے میں پہلے رپورٹ کیا تھا۔
تاہم ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے بی بی بسی کو بتایا ہے کہ اسے ایسی کسی شکایت کی اطلاع نہیں ہے اس لیے وہ اس خبر کی تصدیق نہیں کر سکتے۔
روئٹرز کے مطابق انہیں اس شکایت کے بارے میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں قطر کے نمائندے علی الولید الثانی نے بتایا ہے۔
یاد رہے کہ قطر اور اس کے پڑوسی عرب ممالک کے درمیان کشیدگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ گذشتہ ماہ سعودی عرب اور مصر سمیت چار عرب ممالک نے قطر پر خطے کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

قطری حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے ہمسایہ ممالک نے اپنی سرحدیں بند کر دی تھیں جب کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر سے آنے اور وہاں جانے والی پروازیں بند کر دی ہیں اور قطری فضائی کمپنی قطر ایئرویز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔

قطر پر الزام ہے کہ وہ ایران کی جانب نرم گوشہ رکھتا ہے، لیبیا اور یمن کے باغیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے اور اس نے اپنے سرکاری الجزیرہ چینل کی مدد سے دوسرے عرب ملکوں کے خلاف میڈیا وار شروع کر رکھی ہے۔